جاپان مریخ کے ایک چاند سے مٹی اور پتھریلے نمونے لے کر زمین پر واپس آنے کے لیے ایک تاریخی خلائی مشن شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو پہلی بار مریخ کے کسی چاند سے جمع کیا گیا مواد زمین کی لیبارٹریوں تک پہنچ سکے گا۔
MMX نامی یہ خلائی جہاز منگل 20 اکتوبر 2026 کو جاپان سے روانہ ہونا ہے۔ جاپان کی خلائی ایجنسی JAXA کے اس منصوبے کا اصل ہدف فوبوس (Phobos) ہے، جو مریخ کے دو چاندوں میں سے بڑا چاند ہے۔ مشن کا مقصد وہاں سے کم از کم 10 گرام مٹی اور پتھریلا مواد جمع کرکے 2031 میں زمین پر واپس لانا ہے۔
اس مشن کے ذریعے سائنس دان ایک پرانے سوال کا جواب تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ کیا مریخ کے چاند کسی بہت بڑے تصادم کے بعد بنے تھے، یا وہ خلا میں پہلے سے موجود پتھریلے جسم تھے جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنی طرف کھینچ لیا؟ جاپان کے ساتھ NASA اور یورپ کے خلائی ادارے بھی اس تحقیق میں شامل ہیں۔
جاپان کا MMX مشن 20 اکتوبر کو کتنے بجے روانہ ہوگا؟
جاپانی خلائی ایجنسی کے تازہ شیڈول کے مطابق MMX کو منگل 20 اکتوبر کو جاپان کے وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 41 منٹ اور 3 سیکنڈ پر روانہ کیا جائے گا۔
پاکستان میں اس وقت منگل 20 اکتوبر کی رات 12 بج کر 41 منٹ اور 3 سیکنڈ ہوں گے۔
خلائی جہاز کو جاپان کے Tanegashima Space Center سے H3 راکٹ کی دسویں پرواز کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا۔
JAXA نے 18 اکتوبر کو جاری کیے گئے تازہ اعلان میں لانچ کا وقت برقرار رکھا ہے، لیکن اگر پہلی کوشش نہ ہو سکے تو متبادل تاریخوں کی مدت بڑھا کر 21 اکتوبر سے 9 نومبر کر دی ہے۔ پہلے یہ مدت 7 نومبر تک تھی۔
خراب موسم، تکنیکی مسئلے یا آخری وقت کی جانچ کی وجہ سے لانچ کے شیڈول میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس لیے جب تک ایجنسی خلائی جہاز کے روانہ ہونے کی تصدیق نہ کرے، اسے کامیابی سے لانچ ہو چکا مشن نہیں کہا جا سکتا۔
جاپانی خلائی ایجنسی نے اپنے انگریزی X اکاؤنٹ پر بھی مشن سے متعلق معلومات شیئر کی ہیں۔
مشن کی مزید سرکاری معلومات MMX کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔
مریخ کے چاند پر جانے کا یہ مشن تاریخی کیوں ہے؟
مریخ کی تحقیق کے لیے کئی دہائیوں سے خلائی جہاز بھیجے جا رہے ہیں۔ بعض مشن مریخ کے گرد چکر لگا کر تصاویر اور دوسری معلومات جمع کرتے ہیں، جبکہ کچھ روبوٹ اس کی سطح پر بھی اتر چکے ہیں۔
لیکن مریخ کے کسی چاند سے اصل مٹی اور پتھریلے نمونے جمع کرکے زمین پر واپس لانا اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ جاپان کا MMX مشن یہی کام کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس مشن کے دوران خلائی جہاز فوبوس کے قریب رہ کر اس کی سطح اور اندرونی بناوٹ کا جائزہ لے گا، پھر دو بار مختصر وقت کے لیے اتر کر نمونے جمع کرنے کی کوشش کرے گا۔ مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس (Deimos) کا بھی مشاہدہ کیا جائے گا۔
یورپی خلائی ادارے ESA کے مطابق کامیابی کی صورت میں یہ زمین کے چاند کے علاوہ کسی دوسرے قدرتی چاند سے نمونے واپس لانے کا پہلا مشن ہوگا۔ یہ مریخ کے علاقے سے زمین پر خلائی جہاز کی واپسی کے حوالے سے بھی ایک اہم کامیابی ہو سکتی ہے۔
تاہم یہ کامیابیاں ابھی مستقبل کے اہداف ہیں۔ خلائی جہاز کو مریخ تک پہنچنا، فوبوس کے قریب کام کرنا، نمونے جمع کرنا اور پھر بحفاظت زمین پر واپس آنا ہوگا۔
جاپان اس سے پہلے Hayabusa اور Hayabusa2 مشنوں کے ذریعے سیارچوں سے نمونے زمین پر واپس لا چکا ہے، لیکن مریخ کے علاقے میں پہنچ کر واپس آنا ایک زیادہ طویل اور مشکل سفر ہے۔
MMX خلائی جہاز فوبوس تک کب پہنچے گا؟
MMX کو مریخ کے علاقے تک پہنچنے میں تقریباً ایک سال لگے گا۔ موجودہ منصوبے کے مطابق یہ اگست 2027 میں مریخ کے قریب پہنچے گا اور ستمبر سے فوبوس کا تفصیلی جائزہ لینا شروع کرے گا۔
خلائی جہاز فوری طور پر سطح پر اترنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ پہلے اس کے کیمرے اور دوسرے آلات فوبوس کی شکل، سطح، پتھروں، مٹی اور کششِ ثقل کے بارے میں معلومات جمع کریں گے۔
خلائی جہاز کو اس انداز میں حرکت دی جائے گی کہ وہ مریخ کے گرد فوبوس کے راستے کے قریب رہ کر بار بار اس کا مشاہدہ کر سکے۔ اس طریقے سے سائنس دان نمونے جمع کرنے کے لیے مناسب جگہیں تلاش کریں گے۔
موجودہ منصوبے کے مطابق 2029 کے آغاز میں IDEFIX نامی ایک چھوٹا روبوٹ فوبوس کی سطح پر اتارا جائے گا، تاکہ مرکزی خلائی جہاز کی لینڈنگ سے پہلے وہاں کے حالات کے بارے میں مزید معلومات مل سکیں۔
ESA کی اکتوبر 2026 کی رپورٹ میں مرکزی خلائی جہاز کے فوبوس پر اترنے اور نمونے جمع کرنے کا مرحلہ 2030 میں بتایا گیا ہے۔ NASA نے الگ سے وضاحت کی ہے کہ نمونے جمع کرنے کا مرحلہ دسمبر 2028 سے پہلے متوقع نہیں۔ ان دونوں باتوں کا مطلب یہ نہیں کہ دو الگ حتمی تاریخیں طے ہو چکی ہیں۔
JAXA کے منصوبے میں مرکزی خلائی جہاز کی طرف سے فوبوس پر دو مختصر لینڈنگ کی کوششیں شامل ہیں۔ ان کے ذریعے سطح سے مٹی اور پتھریلے ذرات جمع کیے جائیں گے۔
کام مکمل ہونے کے بعد خلائی جہاز کا واپسی والا حصہ 2030 میں زمین کی طرف سفر شروع کرے گا۔ اس سفر میں بھی تقریباً ایک سال لگنے کی توقع ہے۔
اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو 2031 میں نمونوں والا ایک خاص کیپسول زمین کی فضا میں داخل ہوگا۔ اسے آسٹریلیا میں اتارنے اور پھر نمونے جاپان منتقل کرنے کا منصوبہ ہے، جہاں انہیں محفوظ کرکے تحقیق کے لیے تیار کیا جائے گا۔
سائنس دان مریخ کے چاندوں کے بارے میں کیا جاننا چاہتے ہیں؟
مریخ کے دو چاند ہیں، فوبوس اور ڈیموس۔ دونوں زمین کے چاند سے بہت چھوٹے ہیں اور ان کی شکل بھی عام گول چاند جیسی نہیں، بلکہ بے ترتیب پتھریلے جسموں جیسی ہے۔
سائنس دان آج تک پوری یقین دہانی سے نہیں جانتے کہ یہ چاند بنے کیسے تھے۔ اس بارے میں دو اہم نظریات موجود ہیں۔
ایک نظریہ یہ ہے کہ فوبوس اور ڈیموس پہلے خلا میں الگ موجود سیارچوں جیسے جسم تھے، جنہیں اربوں سال پہلے مریخ کی کششِ ثقل نے اپنی طرف کھینچ لیا۔
دوسرے نظریے کے مطابق قدیم زمانے میں کوئی بہت بڑا خلائی جسم مریخ سے ٹکرایا۔ اس تصادم کے بعد مریخ سے نکلنے والا مواد خلا میں پھیل گیا اور بعد میں اسی سے یہ چاند بنے ہو سکتے ہیں۔
اگر فوبوس کسی تصادم کے بعد بنا تھا تو اس کے نمونوں میں مریخ کے پرانے حالات کے بارے میں اہم شواہد موجود ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ کہیں اور سے آیا ہوا جسم ہے تو اس کی بناوٹ نظامِ شمسی کے دوسرے علاقوں کی تاریخ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
خلائی جہاز کے ذریعے دور سے لی گئی تصاویر اور پیمائشیں اہم ہوتی ہیں، لیکن اصل نمونے زمین پر آ جائیں تو سائنس دان انہیں زیادہ جدید آلات سے جانچ سکتے ہیں۔
اس تحقیق سے معلوم ہو سکتا ہے کہ فوبوس کے ذرات میں کون سی معدنیات اور کیمیائی عناصر موجود ہیں، ان کی تاریخ کیا ہے اور ماضی میں کن تبدیلیوں نے انہیں متاثر کیا۔
یہ مشن پانی سے متعلق معدنیات اور کاربن پر مشتمل مادوں کی پرانی تاریخ سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ یہ معلومات اس تحقیق کے لیے اہم ہیں کہ نظامِ شمسی میں زندگی کے لیے موزوں حالات کیسے پیدا ہوئے ہوں گے۔
فوبوس سے کم از کم 10 گرام مواد کیسے جمع کیا جائے گا؟
جاپان کا ہدف فوبوس سے کم از کم 10 گرام مٹی اور پتھریلا مواد زمین پر لانا ہے۔ بظاہر یہ مقدار بہت کم لگتی ہے، لیکن جدید لیبارٹریوں میں چھوٹے سے چھوٹے ذرات کی بھی تفصیلی جانچ ممکن ہے۔
نمونے جمع کرنے کے لیے خلائی جہاز میں دو مختلف نظام نصب کیے گئے ہیں۔
پہلا نظام JAXA کا C-Sampler ہے۔ اس میں ایک خاص آلے کی مدد سے سطح کے تقریباً دو سینٹی میٹر نیچے تک موجود مواد نکالنے کا منصوبہ ہے۔ ایک روبوٹک بازو اس آلے کو مناسب جگہ پر پہنچانے میں مدد دے گا۔
دوسرا نظام NASA کا P-Sampler ہے، جو نائٹروجن گیس کا دباؤ استعمال کرکے سطح پر موجود باریک ذرات کو ایک مخصوص ڈبے میں جمع کرے گا۔
ان دونوں طریقوں سے سائنس دانوں کو اوپر موجود ڈھیلی مٹی اور سطح سے تھوڑا نیچے والے مواد کا موازنہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
NASA کی 15 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق واپس آنے والے نمونوں کا تقریباً 15 فیصد حصہ امریکا میں محفوظ کرکے سائنسی تحقیق کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔
یہ کام اس لیے بھی مشکل ہوگا کیونکہ فوبوس کی کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ خلائی جہاز کو بہت احتیاط سے سطح پر اترنا ہوگا تاکہ وہ اچھل کر دوبارہ اوپر نہ چلا جائے یا مواد جمع کرنے میں مشکل پیش نہ آئے۔
JAXA کی تکنیکی تفصیل کے مطابق دونوں لینڈنگ کے دوران خلائی جہاز صرف چند گھنٹوں کے لیے سطح پر رہے گا۔
IDEFIX نامی چھوٹا روبوٹ کیا کرے گا؟
MMX اپنے ساتھ IDEFIX نامی ایک روبوٹ بھی لے کر جائے گا۔ اسے فرانس کی خلائی ایجنسی CNES اور جرمنی کے خلائی ادارے DLR نے مل کر تیار کیا ہے۔
اس روبوٹ کا وزن زمین پر تقریباً 25 کلوگرام کے برابر ہے۔ اسے فوبوس کی سطح پر چلنے اور وہاں موجود مٹی، پتھروں اور زمین کی بناوٹ کا جائزہ لینے کے لیے بنایا گیا ہے۔
IDEFIX مرکزی خلائی جہاز سے پہلے فوبوس پر پہنچے گا۔ اس کی معلومات سے سائنس دان بہتر سمجھ سکیں گے کہ سطح کتنی نرم یا سخت ہے اور مرکزی خلائی جہاز کے لیے کہاں اترنا مناسب ہوگا۔
فوبوس کی کششِ ثقل بہت کم ہونے کی وجہ سے وہاں عام گاڑی کی طرح چلنا آسان نہیں ہوگا۔ اسی لیے روبوٹ کے پہیوں اور حرکت کرنے کے طریقے کو خاص طور پر تیار کیا گیا ہے۔
ESA کے مطابق روبوٹ کو 2029 کے آغاز میں فوبوس پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔
یہ روبوٹ خود نمونے لے کر زمین پر واپس نہیں آئے گا۔ اس کا کام سطح کی جانچ کرنا ہے، جبکہ اصل نمونے جمع کرنے اور زمین پر پہنچانے کی ذمہ داری MMX کے مرکزی نظام کی ہوگی۔
NASA اور یورپی خلائی ادارے اس مشن میں کیا کر رہے ہیں؟
اگرچہ پورے مشن کی قیادت جاپان کر رہا ہے، لیکن امریکا اور یورپ کے مختلف خلائی ادارے بھی اہم ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔
NASA نے MEGANE نامی ایک سائنسی آلہ فراہم کیا ہے۔ یہ فوبوس کی سطح سے نکلنے والی مخصوص شعاعوں کی پیمائش کرے گا، جس سے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ وہاں کون سے کیمیائی عناصر موجود ہیں۔
NASA کا P-Sampler بھی اسی مشن کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ امریکی خلائی ادارہ دور خلا میں رابطے اور خلائی جہاز کی سمت معلوم کرنے کے نظام میں بھی تعاون کر رہا ہے۔
فرانس اور جرمنی نے IDEFIX روبوٹ تیار کیا ہے، جبکہ ESA اور دوسرے شریک ادارے واپس آنے والے نمونوں پر سائنسی تحقیق کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس طرح مختلف ممالک اپنے آلات اور تجربے کو ایک مشترکہ منصوبے میں استعمال کر رہے ہیں، تاکہ مریخ کے چاندوں کے بارے میں نئی معلومات حاصل کی جا سکیں۔
کیا یہ خلائی جہاز مریخ کی سطح پر بھی اترے گا؟
نہیں۔ MMX کے موجودہ منصوبے میں مریخ کی اصل سطح پر اترنا شامل نہیں ہے۔
اس کا اصل ہدف مریخ کا چاند فوبوس ہے۔ خلائی جہاز مریخ اور دوسرے چاند ڈیموس کا دور سے مشاہدہ بھی کرے گا، لیکن واپس لائے جانے والے نمونے فوبوس سے جمع کیے جائیں گے۔
یہ ممکن ہے کہ فوبوس پر موجود کچھ ذرات بہت پرانے زمانے میں مریخ سے نکل کر وہاں پہنچے ہوں، لیکن ان کی اصل جگہ معلوم کرنے کے لیے نمونوں کی تفصیلی جانچ ضروری ہوگی۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ جاپان براہِ راست مریخ کی زمین سے مٹی لے کر واپس آئے گا۔
کیا MMX مشن سے دوسرے سیاروں پر زندگی کا پتا چل سکتا ہے؟
اس مشن کا بنیادی مقصد خلا میں زندگی کی موجودگی ثابت کرنا نہیں ہے۔ سائنس دان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مریخ کے چاند کیسے بنے اور نظامِ شمسی کے ابتدائی دور میں کیا کچھ ہوا تھا۔
اس تحقیق سے پانی اور ایسے کیمیائی مادوں کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں جنہیں زندگی کے لیے موزوں حالات سمجھنے میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
لیکن ایسے مادے ملنے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ مریخ یا فوبوس پر زندگی دریافت ہو گئی ہے۔ اس قسم کے کسی نتیجے کے لیے الگ اور مضبوط سائنسی شواہد درکار ہوں گے۔
مشن کے دوران خلائی جہاز کو دور خلا میں چلانے، محفوظ طریقے سے سطح پر اتارنے اور نمونے واپس لانے کا تجربہ بھی حاصل ہوگا، جو مستقبل کی مزید مشکل خلائی مہمات میں کام آ سکتا ہے۔
20 اکتوبر کے لانچ کے بعد کیا ہوگا؟
اگر JAXA کا تازہ شیڈول برقرار رہا تو MMX خلائی جہاز 20 اکتوبر کو اپنے طویل سفر کا آغاز کرے گا۔ اس کے 2027 میں مریخ کے قریب پہنچنے اور 2031 میں نمونے زمین پر واپس لانے کا منصوبہ ہے۔
تاہم صرف راکٹ کا کامیابی سے اڑ جانا پورے مشن کی کامیابی نہیں ہوگا۔ خلائی جہاز کو مریخ تک پہنچنا، فوبوس کے قریب کئی سال کام کرنا، روبوٹ اتارنا، نمونے جمع کرنا اور پھر بحفاظت زمین تک واپس آنا ہوگا۔
فی الحال جاپان ایک ایسے سفر کی تیاری کر رہا ہے جو کامیاب ہونے کی صورت میں پہلی بار مریخ کے کسی چاند سے اصل مواد زمین پر لا سکتا ہے۔ ان نمونوں کی تحقیق سے فوبوس، ڈیموس اور نظامِ شمسی کی پرانی تاریخ کے بارے میں اہم نئی معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔
ذرائع اور مزید معلومات
- JAXA: 18 اکتوبر 2026 کا تازہ لانچ اعلان
- JAXA: لانچ سے متعلق ابتدائی انگریزی اعلان
- JAXA: MMX مشن کی سرکاری ویب سائٹ
- JAXA: سائنسی آلات اور نمونے جمع کرنے کے طریقے
- NASA: مشن میں امریکی تعاون اور سائنسی تحقیق
- ESA: IDEFIX روبوٹ اور مشن کی تفصیلی معلومات
- Associated Press: جاپان کے تاریخی مریخ مشن کی خبر
- JAXA کی فراہم کردہ X پوسٹ