فگما نے 15 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا ہے کہ اس کا کوڈ لیئرز فیچر اب اوپن بیٹا میں آ رہا ہے۔ اس کی مدد سے ڈیزائنرز فگما کے اندر ایسے نمونے بنا اور چلا سکتے ہیں جن کے بٹن، فارم اور دوسرے حصے واقعی کام کرتے ہیں۔ کمپنی نے AI کے لیے نئے فیچرز بھی پیش کیے ہیں تاکہ وہ کسی ٹیم کے ڈیزائن اور پہلے سے طے شدہ اصولوں کو بہتر طریقے سے سمجھ سکے۔
یہ اعلان بھارت میں فگما کی Config India کانفرنس میں کیا گیا۔ کمپنی کے سرکاری بلاگ کے مطابق مقصد یہ ہے کہ ڈیزائن، اس کا کوڈ اور پروجیکٹ کی ضروری معلومات ایک ہی جگہ دستیاب ہوں۔ لیکن تمام فیچرز ہر صارف کو ایک ساتھ نہیں ملیں گے۔ کچھ کا آزمائشی ورژن زیادہ لوگوں کے لیے کھولا جا رہا ہے اور کچھ ابھی محدود صارفین کے لیے ہیں۔
| فیچر | 15 اکتوبر کو حیثیت | دستیابی |
|---|---|---|
| Code Layers | اوپن بیٹا | مختلف پلانز پر مرحلہ وار |
| Specs | اوپن بیٹا | Professional، Organization، Enterprise؛ تفصیلی فہرست میں Education اور Government بھی شامل |
| Guidelines | اوپن بیٹا | Professional، Organization، Enterprise |
| ڈیزائن لائبریری میں Code Sources | کلوزڈ بیٹا | چند منتخب صارفین |
| تمام ڈیزائن اصول ایک جگہ | ابتدائی جھلک | عام استعمال کے لیے نہیں |
| Figma MCP اپ ڈیٹس | دستیاب | پلان اور AI ٹول کے لحاظ سے |
کوڈ لیئرز کیا ہیں اور ان سے کیا کیا جا سکتا ہے؟
عام طور پر فگما میں لوگ ویب سائٹ یا موبائل ایپ کا ڈیزائن دیکھتے ہیں اور اس کی مختلف اسکرینوں کے درمیان جانے کا نمونہ بناتے ہیں۔ کوڈ لیئرز میں اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر اصل کوڈ سے چلنے والا نمونہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں بٹن دبانے، فارم استعمال کرنے اور اسکرین کے مختلف حالات کو آزمانے کی سہولت ملتی ہے۔ یہ نمونہ عام ڈیزائن کے ساتھ اسی فگما فائل میں رکھا جا سکتا ہے۔
فگما کی رہنمائی کے مطابق صارف پہلے سے بنے ڈیزائن کو کوڈ لیئر میں بدل سکتا ہے، خالی جگہ سے نیا نمونہ بنا سکتا ہے، کمپیوٹر سے کوڈ کی فائلیں شامل کر سکتا ہے یا GitHub پر موجود پروجیکٹ سے کام شروع کر سکتا ہے۔ Chrome ایکسٹینشن کے ذریعے کسی ویب پیج کا کوڈ بھی فگما میں لایا جا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، کسی آن لائن دکان کی ٹیم خریداری مکمل کرنے والی اسکرین کے دو مختلف ڈیزائن بنا کر دیکھ سکتی ہے کہ کون سا استعمال میں زیادہ آسان لگتا ہے۔ یہ فیچر کے ممکنہ استعمال کی مثال ہے، اوریجن پاکستان کی طرف سے اس کا عملی ٹیسٹ نہیں۔ ہر بڑی ویب سائٹ یا ایپ کا کوڈ بغیر تبدیلی کے چلنے کی ضمانت بھی نہیں دی گئی۔
یہ فیچر کس کو ملے گا، اور کیا AI کریڈٹس لگیں گے؟
فگما کا کہنا ہے کہ کوڈ لیئرز کا اوپن بیٹا مختلف پلانز پر دستیاب ہوگا۔ لیکن کمپنی اسے اگلے چند ہفتوں میں آہستہ آہستہ صارفین تک پہنچا رہی ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے اکاؤنٹ میں یہ فیچر آ جائے جبکہ اسی ٹیم کے دوسرے شخص کو ابھی انتظار کرنا پڑے۔ فیچر استعمال کرنے کے لیے متعلقہ فائل میں تبدیلی کرنے کی اجازت بھی ضروری ہے۔
قیمت سے متعلق ایک اہم بات ہے۔ فگما کے سرکاری سوال جواب کے مطابق پیڈ پلانز پر 4 نومبر 2026 تک کوڈ لیئر کے اندر کوڈ بنانے یا بدلنے کے لیے AI کریڈٹس نہیں کٹیں گے۔ لیکن اگر اسی ہدایت کے دوران AI کوئی دوسرا کام بھی کرے تو اس پر کریڈٹس لگ سکتے ہیں۔
4 نومبر کے بعد کوڈ لیئرز کے کاموں پر بھی AI کریڈٹس استعمال ہوں گے۔ کتنے کریڈٹس لگیں گے، یہ کام کی نوعیت اور مشکل ہونے پر منحصر ہے۔ اس لیے اوپن بیٹا کا مطلب یہ نہیں کہ فیچر ہمیشہ مفت رہے گا۔ تعلیمی پلانز کی تفصیل فگما کے سرکاری صفحات پر ایک جیسی نہیں۔ ایک صفحہ اسکولوں کے K–12 پلان کو خارج کرتا ہے جبکہ دوسرے صفحات میں اس کا نام شامل ہے، اس لیے اسکولوں کے صارفین کو اپنی رسائی کی تصدیق فگما سے کرنی چاہیے۔
Specs اور Guidelines سے AI کو کیا فائدہ ہوگا؟
فگما نے Specs کے نام سے ایک نیا فیچر بھی پیش کیا ہے۔ اس میں ٹیم یہ لکھ سکتی ہے کہ کوئی ویب سائٹ یا ایپ کیا کام کرے گی، کون سی چیزیں ضروری ہیں اور ڈیزائن میں کیا فیصلہ ہوا ہے۔ یہ معلومات ڈیزائن کے قریب ہی رکھی جا سکتی ہیں، تاکہ ٹیم اور AI دونوں کو کام سمجھنے میں آسانی ہو۔ Specs میں عام Markdown فائلیں بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ فگما کے مختصر اعلان میں Professional، Organization اور Enterprise پلانز کا ذکر ہے، جبکہ تفصیلی ہدایات میں Education اور Government بھی شامل ہیں۔ یہ سہولت مرحلہ وار ملے گی، اور Specs دیکھنے یا بدلنے کے لیے فائل میں متعلقہ اجازت ضروری ہے۔
فگما کے Specs کے اعلان کے مطابق پروجیکٹ کی لکھی ہوئی ہدایات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور انہیں نئے کوڈ لیئر بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ Specs کے اندر AI سے کام کروانے پر کریڈٹس استعمال ہو سکتے ہیں۔
دوسرا فیچر Guidelines ہے۔ اس میں ٹیم اپنے ڈیزائن کی لائبریری کے ساتھ لکھ سکتی ہے کہ کون سے رنگ، فونٹ، بٹن اور دوسرے اصول استعمال کیے جائیں۔ جب AI اس لائبریری کی مدد سے کوئی نیا ڈیزائن بناتا ہے تو اسے یہ ہدایات بھی دی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر کمپنی چاہتی ہے کہ ہر نئے بٹن کا انداز اس کے پرانے ڈیزائن جیسا ہو۔
Guidelines کا اوپن بیٹا Professional، Organization اور Enterprise پلانز کے لیے ہے۔ یہ ہدایات AI کو ڈیزائن کے اصول سمجھاتی ہیں۔ یہ کسی کام کو سکیورٹی کے ذریعے روکنے والی پابندیاں نہیں، اور یہ ضمانت بھی نہیں کہ AI ہر بار درست نتیجہ دے گا۔ ٹیم کو بنایا گیا ڈیزائن خود بھی چیک کرنا ہوگا۔ زیادہ ہدایات دینے سے کچھ کاموں میں AI کریڈٹس کا خرچ بھی بڑھ سکتا ہے۔
کون سے فیچرز ابھی ہر صارف کے لیے نہیں کھلے؟
فگما ایک ایسا فیچر بھی بنا رہا ہے جس سے کمپنی اپنے ڈیزائن کی لائبریری کو GitHub یا npm پر موجود اصل سافٹ ویئر کے حصوں کے ساتھ جوڑ سکے گی۔ اس کا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ AI نئے ڈیزائن میں کمپنی کے پہلے سے بنے بٹن یا دوسرے حصے استعمال کرے، بجائے اس کے کہ ہر چیز دوبارہ بنائے۔
لیکن لائبریری کے ساتھ یہ Code Sources جوڑنے کی سہولت ابھی کلوزڈ بیٹا میں ہے، یعنی صرف کچھ منتخب لوگ اسے آزما سکتے ہیں۔ یہ کسی ایک کوڈ لیئر میں GitHub پروجیکٹ لانے سے الگ فیچر ہے۔ فگما نے ڈیزائن لائبریریوں اور ان کے اصولوں کو ایک جگہ سنبھالنے کا نیا نظام بھی دکھایا ہے، مگر وہ ابھی صرف ابتدائی جھلک ہے، سب کے لیے جاری نہیں ہوا۔ فگما کی 15 اکتوبر کی ریلیز نوٹس میں ان کی الگ الگ حیثیت واضح کی گئی ہے۔
دوسرے AI ٹولز فگما کے ساتھ کیا کام کر سکیں گے؟
فگما نے اپنے MCP رابطے کو بھی بہتر بنایا ہے۔ آسان الفاظ میں، MCP ایک ایسا طریقہ ہے جس سے کوئی دوسرا AI ٹول فگما میں موجود کام کو استعمال کر سکتا ہے یا کچھ نئے کام کروا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق مناسب سہولت رکھنے والے AI ٹولز اب کوڈ لیئر بنا سکتے ہیں، Specs پڑھ یا بدل سکتے ہیں اور تصاویر بھی بنا سکتے ہیں۔ فگما نے MCP کے لیے 20 نئے شراکت دار رابطوں کا بھی اعلان کیا ہے۔
کمپنی کی دستاویزات میں html_to_figma نامی سہولت کا ذکر ہے، جو AI کے بنائے ہوئے HTML کو فگما میں قابلِ ترمیم ڈیزائن میں بدل سکتی ہے۔ generate_image کے ذریعے دوسرے AI ٹول سے تصویر بھی بنائی جا سکتی ہے۔ تصاویر بنانے کے لیے فگما کے AI کریڈٹس اور Weave کے کچھ کاموں کے لیے الگ Weave کریڈٹس لگتے ہیں۔ ان سہولتوں کی دستیابی صارف کے پلان اور AI ٹول پر بھی منحصر ہے۔
اس کے علاوہ فگما نے Payload نامی سسٹم کی مدد سے ویب ایپس کے پیچھے ڈیٹا، صارفین کے اکاؤنٹس اور مواد سنبھالنے کی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ یہ Figma Make اور متعلقہ کوڈ والے کاموں کے لیے ہے۔ کمپنی اسے دستیاب فیچر قرار دے رہی ہے، لیکن صارفین تک اس کی رسائی بھی مرحلہ وار ہو رہی ہے۔ یہ سہولت ہونے کے باوجود کسی ایپ کو عام لوگوں کے لیے چلانے سے پہلے اس کے تحفظ اور کام کرنے کی جانچ ضروری ہے۔
نئے فیچرز استعمال کرنے سے پہلے کیا دیکھنا چاہیے؟
سب سے پہلے اپنے فگما اکاؤنٹ میں دیکھیں کہ Code کا نیا بٹن آ چکا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد فائل میں تبدیلی کی اجازت اور اپنے پلان کی شرائط چیک کریں۔ بڑے یا مشکل پروجیکٹ فگما میں لانے کے بعد انہیں درست چلانے کے لیے مزید کام بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ فگما میں چلنے والا نمونہ خودبخود مکمل، محفوظ اور شائع شدہ ویب سائٹ نہیں بن جاتا۔
خاص طور پر کمپنی کا اصل کوڈ استعمال کرتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فگما فائل کون دیکھ یا بدل سکتا ہے۔ فگما کی Git رہنمائی کے مطابق فائل دیکھنے والے لوگ کوڈ لیئر کا نمونہ اور اس کا دکھایا جانے والا کوڈ دیکھ سکتے ہیں۔ فائل میں تبدیلی کی اجازت رکھنے والے لوگ Git کے اصل کوڈ تک بھی رسائی حاصل کر سکتے ہیں، چاہے GitHub پر اس کی الگ اجازت نہ ہو۔ اس لیے نجی پروجیکٹ شامل کرنے سے پہلے فائل کی شیئرنگ ضرور چیک کریں۔
فگما کے مطابق منتظمین ٹیم یا کمپنی کے لیے AI فیچرز بند کر کے کوڈ لیئرز بھی بند کر سکتے ہیں، لیکن اس سے فگما کے دوسرے AI فیچرز بھی بند ہو جاتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ اپ ڈیٹ ڈیزائنرز اور ڈویلپرز کو ایک ساتھ کام کرنے کے مزید طریقے دیتی ہے۔ تاہم فیچرز کی دستیابی، AI کریڈٹس کا خرچ اور کام کی انسانی جانچ اب بھی اہم ہیں۔