پاکستان میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی مدد سے کیے جانے والے ممکنہ جرائم کے لیے نئے قوانین بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی تحقیقاتی ادارے FBI کی جانب سے ملنے والی اطلاعات کے بعد پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے دو نوجوانوں کی AI چیٹس سے متعلق الگ الگ تحقیقات کیں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 15 اکتوبر 2026 کو Arab News سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان میں سائبر کرائم اور دیگر جرائم کے لیے پہلے سے قوانین موجود ہیں۔ تاہم AI کے بڑھتے ہوئے استعمال کو دیکھتے ہوئے حکومت یہ جائزہ لے رہی ہے کہ مزید واضح قانونی شقیں بنانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
انہوں نے کسی نئے قانون کا حتمی مسودہ، سزاؤں کی تفصیلات یا پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے کی تاریخ نہیں بتائی۔ اس لیے ابھی یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان میں AI چیٹس سے متعلق کوئی نیا فوجداری قانون نافذ ہو گیا ہے۔
FBI کے الرٹس کے بعد NCCIA نے دو نوجوانوں سے متعلق تحقیقات کیوں کیں؟
پہلا واقعہ بہاولپور کا ہے، جہاں ستمبر میں NCCIA نے ایک 17 سالہ طالب علم کو گرفتار کیا۔ تفتیش کاروں کا الزام تھا کہ نوجوان نے AI چیٹ بوٹ Claude سے خطرناک مادوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور اپنے والد کو زہر دینے کی کوشش کی۔
Arab News کی 2 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق FBI کی جانب سے ایک ممکنہ جانی خطرے کی اطلاع پاکستان کے دفتر خارجہ کے ذریعے NCCIA تک پہنچی تھی۔ ادارے نے 23 ستمبر کو ایف آئی آر درج کی اور تحقیقات شروع کیں۔
تفتیش کاروں نے نوجوان کا موبائل فون اور کچھ کیمیکل ملنے کا دعویٰ کیا۔ ایف آئی آر میں ان چیزوں کے ساتھ AI پر ہونے والی گفتگو کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا۔
تاہم رپورٹ کے مطابق نوجوان نے پوچھ گچھ کے دوران الزامات سے انکار کیا۔ Geo/The News نے 29 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ والد کی جانب سے معاف کیے جانے کے بعد نوجوان کو ضمانت مل گئی تھی۔ ان اطلاعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی عدالت نے اسے جرم کا مجرم قرار دیا ہے۔
دوسرا واقعہ کراچی کا ہے، جہاں ایک اور 17 سالہ نوجوان کی Claude پر ہونے والی گفتگو کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں۔ اس گفتگو میں ایک ایسے شخص کے خلاف تشدد سے متعلق سوالات شامل تھے جس نے مبینہ طور پر اس کے والد کی توہین کی تھی۔
نوجوان نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ کسی حقیقی حملے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا تھا بلکہ ایک فرضی کرائم اسٹوری لکھ رہا تھا۔
ARY News کی 29 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق نوجوان سے پوچھ گچھ کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔ تاہم Arab News نے 2 اکتوبر کو NCCIA کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اس معاملے کی تفتیش ابھی جاری تھی اور اس وقت تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی۔
اس لیے نوجوان کو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑے جانے اور مکمل تفتیش ختم ہونے کو ایک ہی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ دستیاب رپورٹس سے اس معاملے کا کوئی حتمی عدالتی نتیجہ ثابت نہیں ہوتا۔
دونوں واقعات میں اہم فرق بھی ہے۔ بہاولپور کے کیس میں تفتیش کاروں نے AI چیٹس کے علاوہ دوسری چیزیں ملنے کا دعویٰ کیا، جبکہ کراچی کے نوجوان کا مؤقف تھا کہ وہ صرف ایک فرضی کہانی کے لیے سوالات پوچھ رہا تھا۔
کیا پاکستان میں AI سے متعلق جرائم کے لیے پہلے ہی قانون موجود ہے؟
پاکستان میں انٹرنیٹ اور الیکٹرانک نظام سے متعلق جرائم کے لیے Prevention of Electronic Crimes Act, 2016 (PECA) موجود ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ میں قتل کی کوشش اور دیگر جرائم سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔
بہاولپور کی ایف آئی آر میں PECA کی دفعہ 15 اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 324 کا حوالہ دیا گیا۔ ان دفعات کا تعلق الیکٹرانک جرائم کے لیے استعمال ہونے والے مخصوص سسٹمز، ڈیٹا یا آلات اور جان بوجھ کر قتل کی کوشش جیسے معاملات سے ہے۔
تاہم کسی شخص کا AI استعمال کرنا اپنے آپ میں جرم ثابت نہیں کرتا۔ اگر کسی جرم میں AI کے استعمال کا الزام ہو تو یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ متعلقہ قانون کیا کہتا ہے، شخص نے حقیقت میں کیا کیا اور اس کے خلاف کون سے ثبوت موجود ہیں۔
پاکستان میں AI کے بارے میں قانون سازی کی بات پہلے بھی ہو چکی ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے 2024 میں Regulation of Artificial Intelligence Bill پیش کیا تھا۔ لیکن سینیٹ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق کمیٹی کی جانب سے اسے منظور یا مسترد نہ کیے جانے کے بعد بل کو نمٹا دیا گیا تھا۔ یہ اس عمل کے ذریعے قانون نہیں بن سکا۔
حکومت نے جولائی 2025 میں نیشنل AI پالیسی 2025 کی بھی منظوری دی تھی۔ اس پالیسی میں AI کی تعلیم، تحقیق، کاروباری استعمال، سکیورٹی اور ذمہ دارانہ استعمال جیسے موضوعات شامل ہیں۔ تاہم یہ پالیسی کسی نئے فوجداری قانون سے الگ ہے۔
کیا ہماری نجی AI چیٹس FBI یا پاکستانی حکام تک پہنچ سکتی ہیں؟
ان واقعات کے بعد AI استعمال کرنے والوں کے لیے ایک اہم سوال سامنے آیا ہے: کیا چیٹ بوٹ سے کی جانے والی نجی گفتگو کسی تفتیش کے دوران پولیس یا دوسرے اداروں تک پہنچ سکتی ہے؟
NCCIA کے اہلکاروں کی جانب سے میڈیا کو دی گئی معلومات کے مطابق Claude پر ہونے والی بعض گفتگو کو ممکنہ خطرہ سمجھا گیا، جس کی اطلاع FBI تک پہنچی۔ بعد میں امریکی ادارے نے پاکستانی حکام کو آگاہ کیا اور NCCIA نے تحقیقات شروع کیں۔
تاہم ان رپورٹس سے یہ پوری طرح واضح نہیں ہوتا کہ Anthropic کے سسٹم نے خطرے کی نشاندہی کیسے کی، کمپنی نے کون سا ڈیٹا فراہم کیا یا معلومات شیئر کرنے کے لیے کون سا قانونی طریقہ استعمال ہوا۔
Claude بنانے والی کمپنی Anthropic نے صارفین کی معلومات سے متعلق اپنی سرکاری پالیسی میں بتایا ہے کہ حکومتی اداروں کی درخواست پر معلومات فراہم کرنے کے لیے عام طور پر درست قانونی کارروائی ضروری ہوتی ہے۔
کمپنی کے مطابق ایسے ہنگامی حالات میں استثنا ہو سکتا ہے جہاں کسی شخص کی جان کو فوری خطرہ ہو اور معلومات دینے سے نقصان روکنے میں مدد مل سکتی ہو۔
یہ پالیسی سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ بعض حالات میں صارف کی معلومات حکام تک کیسے پہنچ سکتی ہیں۔ لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پاکستان کے ان دونوں کیسز میں کمپنی نے کون سا طریقہ اختیار کیا تھا۔
اب تک سامنے آنے والی رپورٹس یہ بھی ثابت نہیں کرتیں کہ FBI یا NCCIA ہر صارف کی تمام Claude چیٹس کو براہِ راست اور مسلسل دیکھ سکتی ہے۔ کسی مخصوص خطرے کی اطلاع ملنا اور تمام صارفین کی گفتگو کی نگرانی کرنا دو الگ باتیں ہیں۔
کیا AI سے جرم کے بارے میں سوال پوچھنا بھی جرم ہے؟
صرف کسی AI چیٹ بوٹ سے سوال پوچھنا اور حقیقت میں کسی جرم کی کوشش کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ قانونی طور پر کسی شخص کے عمل، نیت اور موجود ثبوتوں کو دیکھنا ضروری ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک لکھاری اپنی فرضی کرائم اسٹوری کے لیے معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ کوئی طالب علم قانون یا کسی واقعے کے بارے میں تحقیق کر سکتا ہے۔ دوسری طرف کوئی شخص واقعی کسی کو نقصان پہنچانے کی تیاری میں بھی سوالات پوچھ سکتا ہے۔
ان سب کی صورتحال ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اسی لیے صرف سوال کے الفاظ دیکھ کر کسی کی نیت کا حتمی فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا۔
اگر کسی گفتگو سے حقیقی خطرے کا شبہ ہو تو تفتیش کار دوسرے شواہد بھی دیکھ سکتے ہیں، مثلاً دھمکیاں، کسی شخص کے عملی اقدامات، موبائل ریکارڈ یا متعلقہ سامان۔ یہ سب کچھ اس جرم کی نوعیت اور قانون کے مطابق جانچا جاتا ہے جس کی تفتیش ہو رہی ہو۔
AI کی طرف سے دیا گیا کوئی خودکار الرٹ تحقیقات شروع کرنے کی وجہ بن سکتا ہے، لیکن ایسا الرٹ خود کسی عدالت کا فیصلہ یا جرم کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا۔
کیا پاکستان کو AI کے لیے نئے قوانین کی ضرورت ہے؟ ماہرین کی مختلف رائے
اس معاملے پر قانونی اور ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین کی رائے مختلف ہے۔ کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں پہلے سے موجود قوانین کئی جرائم کے لیے کافی ہیں، جبکہ دوسروں کے مطابق AI کی وجہ سے تفتیش اور قانونی ثبوتوں کے بارے میں مزید واضح اصول درکار ہیں۔
ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم Bolo Bhi کے ڈائریکٹر اسامہ خلجی نے Arab News سے گفتگو میں کہا کہ مجرمانہ سازش اور قتل کی کوشش جیسے معاملات پہلے ہی قانون کے دائرے میں آتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف AI سے معلومات حاصل کرنے کی وجہ سے ہر معاملے میں الگ قانون بنانا ضروری نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ AI کمپنیوں کو اپنی سروسز کے غلط استعمال سے بچانے کے لیے بہتر حفاظتی انتظامات کرنے چاہییں اور پاکستانی ادارے ضرورت پڑنے پر بیرونِ ملک ٹیکنالوجی کمپنیوں سے تعاون کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف AI اور ٹیکنالوجی سے متعلق قانونی معاملات کی ماہر وکیل مناہل علی نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ جرائم کی تفتیش میں نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ جاننا مشکل ہو سکتا ہے کہ کسی AI گفتگو کے پیچھے اصل نیت کیا تھی، کسی کام کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور موبائل یا AI چیٹس سے ملنے والی معلومات کو قابلِ اعتماد قانونی ثبوت کیسے بنایا جائے۔
انہوں نے NCCIA کے تفتیشی اہلکاروں کی خصوصی تربیت، ڈیجیٹل ثبوت کی بہتر جانچ اور غیر ملکی AI کمپنیوں سے معلومات حاصل کرنے کے واضح قانونی انتظامات کی تجویز دی۔
مناہل علی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف AI چیٹ یا خودکار الرٹ پر انحصار نہ کیا جائے۔ جہاں ضروری ہو، حقیقی زندگی میں کیے گئے اقدامات اور دوسرے ثبوتوں سے بھی اس کی تصدیق ہونی چاہیے۔
یہ دونوں آرا ایک اہم سوال سامنے لاتی ہیں: سنگین خطرات کی تحقیقات کیسے کی جائیں، جبکہ فرضی کہانی لکھنے یا عام تحقیق کرنے والے افراد کے حقوق بھی محفوظ رہیں؟
پاکستان میں AI کے نئے قانون کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق حکومت AI سے متعلق مزید قانونی شقوں کی ضرورت پر غور کر رہی ہے، لیکن ابھی کوئی حتمی مسودہ یا پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تاریخ سامنے نہیں آئی۔
اگر حکومت اس معاملے کو آگے بڑھاتی ہے تو اگلا اہم مرحلہ کسی باقاعدہ قانونی تجویز یا بل کا سامنے آنا ہوگا۔ اس کے بعد واضح ہو سکے گا کہ حکومت نئے جرائم کی تعریف کرنا چاہتی ہے، موجودہ قوانین میں تبدیلی لانا چاہتی ہے یا تفتیش اور ثبوتوں کے اصول بہتر بنانا چاہتی ہے۔
فی الحال بہاولپور اور کراچی کے واقعات یہ سوال سامنے لاتے ہیں کہ AI پر ہونے والی کسی مشکوک گفتگو کو حقیقی خطرہ سمجھنے کے لیے کون سے ثبوت ضروری ہونے چاہییں، اور تحقیقات کے دوران صارفین کی پرائیویسی اور قانونی حقوق کیسے محفوظ رکھے جا سکتے ہیں؟