نارووال، 18 اکتوبر 2026: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو چین سے خلائی مشن پر روانہ ہوگا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف نارووال میں اسپیس میوزیم بنانے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جسے حکومت پاکستان کا پہلا اسپیس میوزیم قرار دے رہی ہے۔

احسن اقبال نے یہ اعلان نارووال میں ورلڈ اسپیس ویک کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزارتِ منصوبہ بندی کے 18 اکتوبر کے بیان کے مطابق وزیر نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون پاکستان کو خلائی تحقیق میں آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔

اس مشن کے لیے 25 نومبر کی واضح تاریخ اب سرکاری سطح پر سامنے آئی ہے۔ تاہم یہ پاکستانی وزیر کی اعلان کردہ تاریخ ہے۔ چین کے خلائی ادارے کی جانب سے حتمی لانچ شیڈول، خلائی گاڑی اور منتخب خلا باز کے بارے میں الگ سے تصدیق دستیاب نہیں ہوئی۔

پاکستان کا پہلا خلا باز کون ہوگا؟

پاکستان کے دو امیدوار، محمد ذیشان علی اور خرم داؤد، اس مشن کے لیے چین میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ دونوں پاکستان اور چین کے درمیان فروری 2025 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اس پروگرام کا حصہ بنے تھے۔

اس پروگرام میں پاکستان کا خلائی ادارہ سپارکو (SUPARCO) اور چین کا خلائی ادارہ China Manned Space Agency (CMSA) مل کر کام کر رہے ہیں۔ منصوبے کے مطابق ضروری تربیت اور ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد دونوں امیدواروں میں سے ایک کو چین کے Tiangong خلائی اسٹیشن پر بھیجا جائے گا۔

چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کی 24 اپریل کی رپورٹ کے مطابق دونوں امیدوار بیجنگ میں واقع خلائی تربیتی مرکز پہنچ گئے تھے۔ منتخب ہونے والا پاکستانی خلا باز Tiangong اسٹیشن پر جانے والا پہلا غیر ملکی خلا باز ہوگا۔

اس کا بنیادی کام خلا میں پاکستانی سائنس دانوں کے تیار کردہ تجربات پر کام کرنا ہوگا۔ اسے Payload Specialist کہا جاتا ہے، یعنی وہ شخص جو خلائی مشن کے دوران خاص سائنسی تجربات کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔

Reuters کی 28 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق سپارکو کو توقع تھی کہ دونوں امیدواروں میں سے آخری انتخاب اکتوبر کے وسط یا آخر تک ہو جائے گا۔ تاہم 18 اکتوبر کے سرکاری اعلان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ذیشان علی اور خرم داؤد میں سے کون خلا میں جائے گا۔

کیا 25 نومبر کو خلائی مشن کی روانگی حتمی ہے؟

احسن اقبال کے اعلان سے یہ واضح ہوا ہے کہ حکومت 25 نومبر کو پاکستان کے پہلے خلا باز کے مشن کی توقع کر رہی ہے۔ لیکن ابھی راکٹ کی روانگی کا وقت، خلائی گاڑی کی تفصیلات اور مکمل شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔

یہ مشن چین کی خلائی گاڑی، راکٹ اور لانچ کی سہولتوں کی مدد سے مکمل ہونا ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت اپنا ایسا نظام موجود نہیں جس کے ذریعے وہ کسی انسان کو خود خلا میں بھیج سکے۔

اس سفر میں پاکستانی خلا باز مختلف سائنسی تجربات کرے گا۔ Reuters کے مطابق پاکستانی یونیورسٹیوں کی جانب سے پیش کی گئی تحقیقی تجاویز میں سے چار تجربات منتخب کیے گئے تھے۔ ان کا تعلق بائیوٹیکنالوجی سے ہے، یعنی جانداروں اور ان کے اندر ہونے والے عمل کو سائنسی طریقے سے سمجھنا اور استعمال کرنا۔

ان تجربات سے خوراک کی پیداوار اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر تحقیق میں مدد مل سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی خلا باز کا خلائی اسٹیشن پر قیام تقریباً ایک ہفتے کا متوقع ہے۔

تاہم کسی بھی خلائی مشن کی روانگی سے پہلے عملے، راکٹ اور حفاظتی انتظامات کی جانچ ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے مکمل شیڈول کی تصدیق ہونے تک 25 نومبر کو اعلان کردہ تاریخ سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔

خلائی مشن کی تیاری، دونوں امیدواروں اور Tiangong اسٹیشن کے بارے میں مزید تفصیلات Origin Pakistan کی پہلے سے شائع شدہ رپورٹ میں پڑھی جا سکتی ہیں۔

نارووال میں اسپیس میوزیم کا منصوبہ کیا ہے؟

احسن اقبال نے اسی تقریب میں یونیورسٹی آف نارووال میں اسپیس میوزیم قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد طلبہ اور عام لوگوں کو خلا، سیاروں، سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے اسلام آباد سائنس فیسٹیول میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر یونیورسٹی آف نارووال کو مبارک باد بھی دی اور نوجوانوں میں سائنس اور تحقیق کا شوق بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

نارووال میں خلائی تعلیم کا مرکز بنانے کی تجویز پہلے بھی سامنے آ چکی ہے۔ وزارتِ منصوبہ بندی کے 10 جولائی 2026 کے بیان کے مطابق احسن اقبال نے امریکا کے شہر ہیوسٹن کے دورے کے دوران نارووال میں Space Exploration Centre قائم کرنے کے منصوبے پر بات کی تھی۔

البتہ ابھی یہ واضح نہیں کہ جولائی میں بتایا گیا مرکز اور اب اعلان کردہ اسپیس میوزیم ایک ہی منصوبہ ہیں یا الگ الگ۔

حکومت نارووال کے مجوزہ میوزیم کو پاکستان کا پہلا اسپیس میوزیم قرار دے رہی ہے، لیکن ملک میں خلا سے متعلق ایک نمائش پہلے ہی موجود ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے اندر سپارکو کے تعاون سے تیار کردہ Space Gallery کا افتتاح 15 جولائی 2026 کو ہوا تھا۔ اس گیلری میں خلائی سائنس اور پاکستان کے خلائی پروگرام سے متعلق معلومات اور نمائشیں موجود ہیں۔

کسی موجودہ میوزیم کے اندر بنائی گئی اسپیس گیلری اور ایک الگ اسپیس میوزیم میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس لیے نارووال کے منصوبے کو پاکستان کا پہلا اسپیس میوزیم قرار دینا فی الحال حکومت کے اعلان کے حوالے سے ہی درست ہے۔

18 اکتوبر کے سرکاری بیان میں میوزیم کی تعمیر شروع ہونے کی تاریخ، لاگت یا عوام کے لیے کھولے جانے کا وقت نہیں بتایا گیا۔

پاکستان کا 2035 تک چاند پر پہنچنے کا ہدف

تقریب میں احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ پاکستان 2035 تک چاند پر اترنے کا ہدف رکھتا ہے۔ تاہم اس اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ منصوبہ کسی خلائی گاڑی کو چاند پر اتارنے کا ہے یا مستقبل میں انسان کو وہاں بھیجنے کا۔

اس لیے 2035 کے ہدف کو پاکستانی خلا باز کے چاند پر اترنے کی تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔

پاکستان پہلے ہی چین کے ساتھ چاند سے متعلق تحقیق میں حصہ لے رہا ہے۔ Reuters کے مطابق پاکستان میں تیار کیا جانے والا ایک روور، یعنی چاند کی سطح پر چلنے والی تحقیقی گاڑی، چین کے Chang'e-8 مشن کا حصہ بننے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ مشن تقریباً 2028 میں متوقع ہے۔

فی الحال سب سے اہم پیش رفت پاکستان کے پہلے خلا باز کی 25 نومبر کو اعلان کردہ روانگی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہونا باقی ہے کہ دونوں امیدواروں میں سے کس کا انتخاب ہوتا ہے اور چین کی جانب سے مشن کا حتمی شیڈول کب جاری کیا جاتا ہے۔