پاکستان اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے Buraq نام کا ایک نیا AI ماڈل تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے جنوبی کوریا کے شہر سیول میں عالمی اجلاس کے دوران بتایا کہ حکومت ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے جس سے زیادہ سے زیادہ پاکستانی اپنی زبان میں AI سروسز استعمال کر سکیں۔
تاہم Buraq ابھی عام لوگوں کے لیے لانچ نہیں ہوا۔ حکومت نے اس کی تیاری کا منصوبہ بتایا ہے، لیکن اس کی کارکردگی، عام استعمال کی سہولت اور لانچ کی تاریخ کے بارے میں مکمل اور قابلِ تصدیق معلومات سامنے نہیں آئیں۔
اس اعلان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت صرف AI ماڈل بنانے کی بات نہیں کر رہی۔ وہ NADRA کی ڈیجیٹل شناخت، Raast کے ذریعے ادائیگیوں، WASL کے ذریعے سرکاری اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت کو بھی مستقبل کی AI سروسز کے لیے ضروری سمجھتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان نظاموں کا Buraq سے کیا تعلق ہے، کون سی سہولتیں پاکستان میں پہلے سے کام کر رہی ہیں اور کون سی ابھی تیار کی جا رہی ہیں؟
سیول اجلاس میں پاکستان نے Buraq AI کے بارے میں کیا اعلان کیا؟
21 اکتوبر 2026 کو سرکاری خبر رساں ادارے APP کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے Global AI & Digital Summit 2026 کے ایک اجلاس میں پاکستان کے ڈیجیٹل اور AI منصوبوں کی تفصیل بتائی۔
یہ عالمی اجلاس جنوبی کوریا کے شہر سیول میں 19 سے 22 اکتوبر تک منعقد ہوا۔ عالمی بینک کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس کا اہتمام عالمی بینک اور جنوبی کوریا کی وزارتِ خزانہ و معیشت اور وزارتِ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر کیا۔
اجلاس میں مختلف ممالک کی حکومتوں، ماہرین اور ٹیکنالوجی سے وابستہ اداروں نے اس بات پر گفتگو کی کہ AI اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو عوامی سہولتوں، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وزیرِ آئی ٹی نے بتایا کہ پاکستان National Artificial Intelligence and Emerging Technologies Development Programme، یعنی NAIEDP، کے تحت ملک میں AI کی صلاحیت بڑھانا چاہتا ہے۔
اس پروگرام کے دو اہم حصے بیان کیے گئے۔ پہلا پاکستان کے اندر AI کے لیے جدید کمپیوٹنگ کی سہولت پیدا کرنا ہے، جبکہ دوسرا Buraq نام کا ایسا AI ماڈل تیار کرنا ہے جو اردو اور علاقائی زبانوں میں کام کرنے کے لیے بنایا جائے گا۔
پاکستان کے اندر کمپیوٹنگ کی صلاحیت بڑھانے کا مقصد یہ ہے کہ ملک اپنے ڈیٹا کو مقامی طور پر پراسیس کرنے کے قابل ہو اور AI ٹیکنالوجی کے لیے بیرونی نظاموں پر مکمل انحصار نہ کرنا پڑے۔
تاہم سیول میں دی گئی معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حکومت نے تمام ضروری کمپیوٹر وسائل خرید لیے ہیں یا پورا نظام کام شروع کر چکا ہے۔ یہ ابھی ترقی اور تیاری کا منصوبہ ہے۔
اس سے پہلے 19 اکتوبر کو وزارتِ آئی ٹی کی سرکاری رپورٹ میں شزا فاطمہ کی ایک الگ تقریر کی تفصیلات سامنے آئی تھیں۔ اس میں پاکستان کی بڑی ڈیجیٹل اور AI حکمتِ عملی پر بات ہوئی، جبکہ 21 اکتوبر کی رپورٹ میں Buraq اور سرکاری AI سروسز کے لیے ضروری نظاموں کی تفصیل دی گئی۔
Buraq AI ماڈل کیا ہے اور یہ کیا کام کر سکے گا؟
Buraq کو Large Language Model یا LLM کہا گیا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ ایسا AI نظام ہوتا ہے جسے انسانی زبان سمجھنے اور اس میں جواب دینے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
اس قسم کے AI ماڈلز سوالوں کے جواب دینے، معلومات سمجھانے، تحریر تیار کرنے اور لمبے متن کو مختصر کرنے جیسے کاموں میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم ہر ماڈل کی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس کی کارکردگی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ اسے کیسے تیار اور تربیت دی گئی ہے۔
پاکستان میں اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے AI بنانے کی اہمیت اس لیے ہے کیونکہ بہت سے لوگ انگریزی کے بجائے اپنی زبان میں معلومات زیادہ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر کسی شخص کو شناختی کارڈ، سرکاری درخواست، تعلیم یا مالی امداد سے متعلق معلومات درکار ہوں تو مستقبل میں اردو AI اسے آسان الفاظ میں طریقہ کار سمجھا سکتا ہے۔
لیکن یہ ایک ممکنہ استعمال کی مثال ہے۔ ابھی یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ Buraq ایسی سہولتیں فراہم کر رہا ہے یا کسی سرکاری ادارے میں اس کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ Buraq کی تیاری کے لیے کون سی تکنیکی ٹیم کام کر رہی ہے، اسے کس ڈیٹا پر تربیت دی جائے گی، اس کا سائز کتنا ہوگا اور وہ کن علاقائی زبانوں میں کتنی اچھی کارکردگی دکھا سکے گا۔
ان معلومات کے بغیر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ Buraq موجودہ AI ماڈلز سے بہتر ہے یا اس کی درستگی پہلے ہی ثابت ہو چکی ہے۔
کیا عام لوگ ابھی Buraq استعمال کر سکتے ہیں؟
ابھی ایسی کوئی قابلِ تصدیق معلومات سامنے نہیں آئیں جن سے ثابت ہو کہ Buraq عام لوگوں کے استعمال کے لیے باقاعدہ دستیاب ہے۔
سیول اجلاس کی 21 اکتوبر کی رپورٹ میں Buraq کی کسی عوامی ویب سائٹ، موبائل ایپ، ڈاؤن لوڈ ہونے والے ماڈل یا ڈویلپرز کے لیے API کی دستیابی کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اسی طرح حکومت نے اس کی باقاعدہ لانچ کی کوئی تاریخ بھی نہیں بتائی۔
یہ بھی واضح نہیں کہ Buraq کو مکمل طور پر شروع سے تیار کیا جا رہا ہے یا کسی پہلے سے موجود AI ماڈل کو اردو اور پاکستانی علاقائی زبانوں کے لیے مزید تربیت دی جائے گی۔
اس لیے Buraq کو ابھی مکمل تیار شدہ یا عوام کے لیے لانچ ہو چکا AI پلیٹ فارم کہنا درست نہیں ہوگا۔
حکومت AI سے پہلے ڈیجیٹل نظام کیوں بہتر بنانا چاہتی ہے؟
سیول اجلاس میں شزا فاطمہ خواجہ نے ایک اہم بات کہی کہ صرف AI ماڈل بنانا یا خرید لینا سرکاری خدمات کو بہتر بنانے کے لیے کافی نہیں۔
اگر کسی AI نظام کو شہریوں کی معلومات، سرکاری درخواستوں یا مالی معاملات کے ساتھ جوڑنا ہو تو اس کے پیچھے ایسے نظام ہونے چاہئیں جو شناخت کی تصدیق کر سکیں، معلومات کو محفوظ رکھ سکیں اور قانونی طریقے سے ادائیگیاں کر سکیں۔
اس بات کو ایک آسان مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔
فرض کریں کوئی شہری حکومت کی مالی امداد کے بارے میں AI سے سوال کرتا ہے۔ AI اسے درخواست دینے کا طریقہ سمجھا سکتا ہے، لیکن صرف بات چیت کی بنیاد پر یہ طے نہیں کرنا چاہیے کہ وہ شخص واقعی کون ہے یا امداد لینے کا اہل ہے۔
اس کے لیے متعلقہ سرکاری ادارے کو شناخت کی تصدیق، ضروری ریکارڈ کی جانچ اور مقررہ قواعد پر عمل کرنا ہوگا۔ اگر درخواست منظور ہو جائے تو رقم بھی کسی قابلِ اعتماد ادائیگی کے نظام سے منتقل کرنا ہوگی۔
وزیرِ آئی ٹی نے انہی ضروریات کے لیے چار بنیادی چیزوں کا ذکر کیا: ڈیجیٹل شناخت، ڈیجیٹل ادائیگیاں، اداروں کے درمیان محفوظ معلومات کا تبادلہ اور ڈیٹا کے استعمال کے واضح اصول۔
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر AI ماڈل بنانے یا عام سوالوں کے جواب دینے کے لیے NADRA، Raast یا WASL کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کی اہمیت اس وقت بڑھتی ہے جب AI کو شہریوں کے ذاتی ریکارڈ، سرکاری فیصلوں یا مالی معاملات سے جوڑا جائے۔
NADRA کی ڈیجیٹل شناخت Buraq جیسے AI نظام میں کیسے مدد دے سکتی ہے؟
ڈیجیٹل شناخت کا مطلب ہے کہ کوئی شخص انٹرنیٹ پر محفوظ طریقے سے اپنی شناخت ثابت کر سکے۔
پاکستان میں NADRA پہلے سے شہریوں کی رجسٹریشن، شناختی کارڈ اور شناخت کی تصدیق کی خدمات فراہم کر رہا ہے۔
سیول اجلاس میں شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ NADRA دس کروڑ سے زیادہ پاکستانیوں کے لیے تصدیق شدہ شناخت کا نظام فراہم کر چکا ہے۔ یہ تعداد وزیرِ آئی ٹی کے بیان کے مطابق ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ دس کروڑ سے زیادہ افراد نے نئے ڈیجیٹل شناختی نظام کی تمام سہولتیں استعمال کرنا شروع کر دی ہیں۔
NADRA کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ادارہ ڈیجیٹل شناخت کے نظام کو مزید بہتر بنا رہا ہے، تاکہ شہری محفوظ طریقے سے آن لائن اپنی شناخت ثابت کر سکیں اور مختلف ڈیجیٹل خدمات تک رسائی حاصل کر سکیں۔
اس منصوبے میں ڈیجیٹل دستاویزات، شناخت کی تصدیق، شہری کی اجازت اور ذاتی معلومات کی حفاظت جیسے مقاصد شامل ہیں۔
NADRA پہلے سے مختلف الیکٹرانک اور بائیومیٹرک تصدیقی سہولتیں بھی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے موجودہ خدمات اور نئے نظام کی تیاری کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
مثال کے طور پر مستقبل میں کسی سرکاری درخواست کے لیے شہری کو ہر دفتر میں شناختی کارڈ کی نئی کاپی جمع کروانے کے بجائے کسی منظور شدہ آن لائن طریقے سے اپنی شناخت ثابت کرنے کی سہولت مل سکتی ہے۔
ایسی صورتحال میں AI درخواست دینے کا طریقہ سمجھانے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن شناخت کی اصل تصدیق NADRA یا کسی دوسرے مجاز نظام کے ذریعے ہونی چاہیے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ شہری کی معلومات صرف متعلقہ قانونی شرائط اور اجازت کے مطابق استعمال ہوں۔ AI کے جواب کو خودبخود شناخت کی تصدیق کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
ملک کے تمام سرکاری محکموں میں نئے ڈیجیٹل شناختی نظام کی مکمل سہولتیں دستیاب ہونے کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔
Raast کیا ہے اور AI کے ذریعے سرکاری ادائیگیوں میں اس کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟
Raast پاکستان کا فوری رقم منتقل کرنے والا نظام ہے، جسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان چلاتا ہے۔
یہ کوئی نیا یا مستقبل میں شروع ہونے والا AI منصوبہ نہیں بلکہ پہلے سے کام کرنے والا ادائیگیوں کا نظام ہے۔
اسٹیٹ بینک کی سرکاری معلومات کے مطابق Raast افراد، کاروباروں اور سرکاری اداروں کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
اس نظام میں افراد کے درمیان رقم بھیجنے، دکانداروں اور کاروباروں کو ادائیگیاں کرنے اور بعض ادارہ جاتی ادائیگیوں جیسے کام شامل ہیں۔
سیول میں وزیرِ آئی ٹی نے کہا کہ بہت سی سرکاری خدمات صرف معلومات دینے تک محدود نہیں ہوتیں۔ بعض معاملات میں شہریوں کو فیس ادا کرنا ہوتی ہے، جبکہ بعض میں حکومت کی جانب سے مالی مدد یا سبسڈی دی جاتی ہے۔
مستقبل میں اگر کوئی آن لائن سرکاری سروس AI کے ذریعے شہری کو درخواست کا طریقہ سمجھائے تو اس کے بعد متعلقہ محکمہ مقررہ قواعد کے مطابق معلومات کی جانچ اور درخواست کی منظوری دے سکتا ہے۔
اگر مالی امداد کی ادائیگی منظور ہو جائے تو Raast جیسے نظام کو متعلقہ مالی اداروں کے ذریعے رقم منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ صرف ممکنہ استعمال کی ایک مثال ہے، کسی ایسی سروس کا اعلان نہیں جو Buraq کے ذریعے ابھی کام کر رہی ہو۔
اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ Buraq خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ کس شخص کو امداد ملنی چاہیے یا اسے کسی کے بینک اکاؤنٹ میں رقم بھیجنے کا اختیار ہوگا۔
حکومت نے Buraq اور Raast کے درمیان کسی فعال سروس کے شروع ہونے کی تصدیق نہیں کی۔ ایسی سہولت کے لیے متعلقہ اداروں کی منظوری، مالی حفاظتی انتظامات اور تکنیکی نظام کی ضرورت ہوگی۔
WASL کیا ہے اور سرکاری اداروں کا ڈیٹا کیسے جڑے گا؟
WASL پاکستان کے مختلف سرکاری اداروں کے درمیان معلومات کا محفوظ تبادلہ ممکن بنانے کے لیے تیار کیا جانے والا نظام ہے۔
پاکستان میں شہریوں سے متعلق مختلف ریکارڈ الگ الگ اداروں کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ شناخت کی معلومات NADRA کے پاس، ٹیکس کا ریکارڈ FBR کے پاس اور زمین سے متعلق معلومات متعلقہ صوبائی محکموں کے پاس ہوتی ہیں۔
جب یہ ادارے ایک دوسرے کے نظام سے ضروری معلومات کی تصدیق آسانی سے نہیں کر سکتے تو شہریوں کو ایک ہی دستاویز کئی مرتبہ مختلف دفاتر میں جمع کروانا پڑ سکتی ہے۔
WASL کا مقصد اسی مشکل کو کم کرنا ہے۔
WASL کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہر ادارے کا اصل ریکارڈ اسی کے پاس رہے، لیکن ضرورت پڑنے پر کوئی دوسرا مجاز ادارہ مقررہ شرائط کے تحت متعلقہ معلومات کی تصدیق حاصل کر سکے۔
اس کا مقصد تمام شہریوں کے ذاتی ریکارڈ کو ایک نئی مرکزی جگہ پر جمع کرنا نہیں، بلکہ موجودہ سرکاری نظاموں کے درمیان محفوظ رابطہ قائم کرنا ہے۔
WASL کے ڈیزائن میں شناخت کی تصدیق، معلومات کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنا، شہری کی اجازت اور ہر تبادلے کا ریکارڈ رکھنے جیسے حفاظتی اقدامات بیان کیے گئے ہیں۔
تاہم یہ ویب سائٹ پر بیان کردہ منصوبہ اور تکنیکی خصوصیات ہیں۔ ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام سرکاری ادارے پہلے ہی WASL سے جڑ چکے ہیں یا ہر حفاظتی سہولت عملی طور پر مکمل ہو گئی ہے۔
اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔
مستقبل میں کسی شہری کو ایک سرکاری سہولت کے لیے درخواست دیتے وقت اپنے کسی ریکارڈ کی تصدیق کروانی پڑے تو متعلقہ اجازت اور قانونی شرائط پوری ہونے پر ایک محکمہ دوسرے ادارے سے ضروری معلومات حاصل کر سکتا ہے۔
اس طرح شہری کو وہی کاغذات بار بار جمع کروانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، بشرطیکہ دونوں ادارے اس نظام سے جڑے ہوں اور معلومات تک رسائی کی اجازت موجود ہو۔
AI اس عمل میں شہری کی رہنمائی کر سکتا ہے، لیکن اسے صرف وہی معلومات ملنی چاہئیں جن تک رسائی کی قانونی اور تکنیکی اجازت دی گئی ہو۔
سیول اجلاس میں وزیرِ آئی ٹی نے بتایا کہ WASL کو عالمی بینک کے تعاون سے جاری Digital Economy Enhancement Project، یعنی DEEP، کے تحت پاکستان کے ڈیجیٹل نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
حکومت ایک Citizen Super App اور National Open Data Ecosystem، یعنی NODE، کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔
Super App کا مقصد مختلف سرکاری خدمات تک ایک جگہ سے رسائی آسان بنانا ہے، جبکہ NODE کے ذریعے محققین، نئے کاروبار شروع کرنے والوں اور AI ڈویلپرز کو مناسب قواعد کے تحت عوامی نوعیت کی معلومات تک رسائی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
تاہم سیول کے اعلان سے یہ تصدیق نہیں ہوتی کہ WASL، Super App یا NODE مکمل طور پر پورے ملک میں کام شروع کر چکے ہیں۔
AI سروسز میں لوگوں کی ذاتی معلومات کیسے محفوظ رکھی جائیں گی؟
حکومت کے اس منصوبے کا سب سے حساس پہلو شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت ہے۔
اگر مستقبل میں AI کو شناختی ریکارڈ، مالی معلومات یا سرکاری درخواستوں کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ معلومات کس ادارے کے پاس ہیں، انہیں کون دیکھ سکتا ہے اور کس مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
سیول میں شزا فاطمہ خواجہ نے National Data Governance Policy کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد سرکاری ڈیٹا کو محفوظ رکھنے، اس کے استعمال کے اصول بنانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا نظام قائم کرنا ہے۔
APP کی 21 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ آئی ٹی نے شہری کی اجازت، معلومات تک رسائی کا ریکارڈ رکھنے اور اہم فیصلوں میں انسانی نگرانی جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
تاہم اس پالیسی کی قانونی حیثیت کے بارے میں دستیاب سرکاری معلومات میں ایک اہم فرق موجود ہے۔
وزیرِ آئی ٹی نے پالیسی کو جاری شدہ فریم ورک کے طور پر بیان کیا، لیکن وزارتِ آئی ٹی کی سرکاری پالیسی لسٹ میں 22 اکتوبر 2026 تک Data Governance Policy 2026 کو اب بھی Draft، یعنی مسودہ، دکھایا جا رہا تھا۔
وزارت کی تفصیلی سرکاری معلومات میں بھی اسے عوامی مشاورت کے لیے جاری کردہ مسودہ بتایا گیا ہے۔
اسی طرح Pakistan Digital Authority کی 5 اگست کی سرکاری خبر میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ اداروں سے مشاورت مکمل ہو گئی ہے اور ان کی تجاویز شامل کرنے کے بعد پالیسی کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ان معلومات کی بنیاد پر اس پالیسی کی آخری منظوری، باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن اور ملک بھر میں مکمل نفاذ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس لیے پالیسی کے مسودے میں موجود تمام حفاظتی تجاویز کو ایسے قانونی حقوق یا پابندیاں نہیں سمجھنا چاہیے جو پہلے ہی ملک کے ہر ادارے پر نافذ ہو چکی ہوں۔
شہریوں کے لیے چند سوالات بہت اہم ہوں گے۔ ان کی معلومات کون استعمال کر سکے گا؟ کن معاملات میں ان کی اجازت ضروری ہوگی؟ غلط معلومات کیسے درست کروائی جائیں گی؟ اور AI کی مدد سے ہونے والے کسی اہم فیصلے پر اعتراض کیسے کیا جا سکے گا؟
وزیرِ آئی ٹی کے مطابق AI کو انسانوں کے فیصلوں میں مدد دینی چاہیے، نہ کہ شہریوں کے حقوق یا سرکاری سہولتوں کے بارے میں خود سے آخری فیصلہ کرنا چاہیے۔
لیکن اس اصول پر عملی طور پر کیسے عمل ہوگا، یہ واضح قواعد، حفاظتی انتظامات اور انسانوں کی نگرانی کے نظام سے ہی ثابت ہوگا۔
پاکستان میں AI کے استعمال، قانونی ذمہ داری اور پرائیویسی سے متعلق دوسرے سوالات بھی زیرِ بحث ہیں۔ Origin Pakistan کی ایک سابقہ رپورٹ میں AI سے متعلق ممکنہ فوجداری قوانین اور چیٹ بوٹ گفتگو کی پرائیویسی کے مسائل کا جائزہ لیا گیا تھا۔ یہ Buraq سے الگ معاملہ ہے، لیکن AI استعمال کرنے والوں کے حقوق کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
کیا Buraq پاکستان کا پہلا اردو AI ماڈل ہے؟
اب تک دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ Buraq پاکستان کا پہلا اردو AI ماڈل ہے۔
اردو زبان کے لیے AI پر پہلے بھی تحقیقی کام ہو چکا ہے۔
مثال کے طور پر 13 جنوری 2026 کو شائع ہونے والے Qalb کے تحقیقی مقالے میں محققین نے ایک موجودہ زبان کے ماڈل کو اردو کے مزید ڈیٹا پر تربیت دینے اور پھر مخصوص کاموں کے لیے بہتر بنانے کا طریقہ بیان کیا تھا۔
اسی تحقیق میں Alif نام کے پہلے سے موجود اردو AI ماڈل کے ساتھ بھی نتائج کا موازنہ کیا گیا تھا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ Buraq کے اعلان سے پہلے اردو زبان کے AI ماڈلز پر کام جاری تھا۔
ممکن ہے Buraq کا مقصد، اس کا سرکاری استعمال، زبانوں کی تعداد یا تکنیکی ساخت ان تحقیقی منصوبوں سے مختلف ہو۔
لیکن جب تک Buraq کی تفصیلی تکنیکی معلومات اور آزادانہ جانچ کے نتائج سامنے نہیں آتے، یہ کہنا ممکن نہیں کہ وہ موجودہ اردو AI ماڈلز سے بہتر یا کمزور ہے۔
اسی طرح Buraq کو مکمل طور پر پاکستان میں شروع سے تیار ہونے والا ماڈل کہنا بھی ابھی ثابت شدہ بات نہیں، کیونکہ حکومت نے اس کی تربیت اور تیاری کا مکمل تکنیکی طریقہ واضح نہیں کیا۔
Buraq کی لانچ، لاگت اور کارکردگی کے بارے میں ابھی کیا معلوم نہیں؟
حکومت نے Buraq بنانے کا مقصد تو بیان کیا ہے، لیکن اس کی تیاری سے متعلق کئی اہم سوالات ابھی باقی ہیں۔
- Buraq کو کون سا ادارہ یا مخصوص تکنیکی ٹیم تیار کر رہی ہے؟
- کیا اسے بالکل شروع سے بنایا جا رہا ہے یا کسی موجودہ AI ماڈل کو مزید تربیت دی جائے گی؟
- اردو کے علاوہ کون کون سی علاقائی زبانوں کو شامل کیا جائے گا؟
- اس کی کارکردگی جانچنے کے لیے کون سے ٹیسٹ کیے جائیں گے؟
- کیا عام شہری اور ڈویلپرز اسے استعمال کر سکیں گے؟
- کیا اس کا کوڈ یا ماڈل عوام کے لیے دستیاب کیا جائے گا؟
- اس کا پہلا عملی مظاہرہ اور باقاعدہ لانچ کب متوقع ہے؟
- اس کی تیاری اور کمپیوٹنگ وسائل کے لیے الگ سے کتنا بجٹ رکھا گیا ہے؟
21 اکتوبر کے دستیاب اعلان میں ان سوالات کے قابلِ تصدیق تفصیلی جواب نہیں دیے گئے۔
پاکستان کے اندر AI کمپیوٹنگ کی صلاحیت پیدا کرنے کے منصوبے کے بارے میں بھی مزید معلومات درکار ہیں، جن میں آلات کی خریداری، کام شروع ہونے کی تاریخ، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ اداروں کو رسائی دینے کا طریقہ شامل ہے۔
یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کیونکہ کسی AI منصوبے کی کامیابی صرف اس کے نام یا اعلان سے ثابت نہیں ہوتی۔ اس کے لیے عملی استعمال، درست نتائج، قابلِ اعتماد کارکردگی اور محفوظ ٹیکنالوجی ضروری ہوتی ہے۔
پاکستان کے AI منصوبے میں اب آگے کیا ہوگا؟
Buraq کے بارے میں اگلی اہم پیش رفت اس وقت ہوگی جب حکومت اس کا قابلِ تصدیق عملی مظاہرہ، تکنیکی تفصیلات یا عام استعمال کے لیے کوئی سہولت متعارف کرائے گی۔
اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل شناخت کے نئے منصوبے، WASL کے ذریعے اداروں کا رابطہ، Citizen Super App اور NODE عملی طور پر کہاں تک پہنچتے ہیں۔
National Data Governance Policy کی حتمی قانونی حیثیت بھی اہم ہوگی، کیونکہ مستقبل میں AI کے ذریعے سرکاری خدمات فراہم کرنے کے لیے شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ اور اداروں کی ذمہ داریوں سے متعلق واضح قواعد درکار ہوں گے۔
اگر پاکستان ایسا AI ماڈل تیار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے جو اردو اور علاقائی زبانیں قابلِ اعتماد طریقے سے سمجھ سکے تو اس سے بہت سے لوگوں کے لیے ڈیجیٹل معلومات اور سرکاری خدمات استعمال کرنا آسان ہو سکتا ہے۔
اس منصوبے سے پاکستانی زبانوں پر کام کرنے والے محققین، یونیورسٹیوں اور سافٹ ویئر ڈویلپرز کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
لیکن صرف زبان سمجھنے والا AI کافی نہیں ہوگا۔ جب اسے سرکاری نظاموں سے جوڑا جائے گا تو شہریوں کی شناخت، ذاتی معلومات کی حفاظت، مجاز ادائیگیوں اور اہم فیصلوں میں انسانی نگرانی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
فی الحال Buraq ایک سرکاری AI منصوبہ ہے جو تیاری کے مرحلے میں بتایا گیا ہے۔ اس کی اصل اہمیت تب واضح ہوگی جب حکومت عملی نتائج، تکنیکی جانچ اور شہریوں کے تحفظ کے قابلِ تصدیق انتظامات سامنے لائے گی۔