Apple اور Meta نے مل کر ایک ایسا AI ماڈل دو چھوٹے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز پر چلانے کا مظاہرہ کیا ہے جس کے لیے بہت زیادہ میموری اور کمپیوٹنگ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔

Meta نے 15 اکتوبر 2026 کو Muse Spark Open نامی اپنا نیا AI ماڈل جاری کیا۔ اس میں 816 ارب پیرامیٹرز موجود ہیں اور اسے پروگرامنگ، مشکل سوالات حل کرنے اور کئی مرحلوں میں کام مکمل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اس خبر کی خاص بات یہ ہے کہ اتنا بڑا AI ماڈل دو M5 Ultra Mac Studio کمپیوٹرز کو آپس میں جوڑ کر چلایا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے AI کو چلانے کے لیے ہر بار کسی بیرونی ڈیٹا سینٹر پر انحصار کرنا ضروری نہیں۔

لیکن یہ کامیابی فی الحال عام صارفین کی پہنچ سے کافی دور ہے۔ مظاہرے میں استعمال ہونے والے دونوں کمپیوٹرز میں 512GB میموری تھی۔ The Wall Street Journal کے مطابق، اس خاص ہارڈویئر سیٹ اپ پر 40 ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ خرچ آتا ہے۔

یعنی Apple اور Meta نے AI کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت دکھائی ہے، لیکن اسے عام لوگوں کے لیے سستا حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

Muse Spark Open کیا ہے اور یہ کیا کر سکتا ہے؟

Muse Spark Open ایک بڑا AI ماڈل ہے جسے Meta Superintelligence Labs نے تیار کیا ہے۔

Meta کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کو خاص طور پر ایسے کاموں کے لیے بنایا گیا ہے جن میں AI کو معلومات پڑھنے، انہیں سمجھنے، کوئی منصوبہ بنانے اور پھر مختلف ٹولز کی مدد سے کئی کام مکمل کرنے ہوں۔

مثال کے طور پر، یہ کسی سافٹ ویئر پروجیکٹ کی فائلیں دیکھ سکتا ہے، کوڈ میں غلطیاں تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور پروگرام میں تبدیلیاں کرنے کے لیے تجاویز یا ہدایات تیار کر سکتا ہے۔

یہ صرف لکھا ہوا متن ہی نہیں سمجھتا بلکہ تصاویر، آڈیو اور ویڈیو سے بھی معلومات لے سکتا ہے۔ تاہم اس کا جواب متن کی شکل میں آتا ہے۔

Meta نے اسے امریکہ میں تیار ہونے والے طاقتور ترین Open-Weight AI ماڈلز میں سے ایک قرار دیا ہے۔ لیکن یہ کمپنی کا اپنا دعویٰ ہے۔ اسے تمام دوسرے AI ماڈلز کے مقابلے میں ثابت شدہ نمبر ون ماڈل نہیں سمجھنا چاہیے۔

816 ارب پیرامیٹرز کا مطلب کیا ہے؟

AI کے بارے میں بات کرتے ہوئے پیرامیٹرز کا لفظ اکثر سننے کو ملتا ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ ماڈل کے اندر موجود بہت بڑی تعداد میں عددی سیٹنگز ہوتی ہیں۔

AI اپنی تربیت کے دوران ان سیٹنگز کی مدد سے زبان، معلومات اور مختلف چیزوں کے درمیان تعلق سمجھنا سیکھتا ہے۔

Muse Spark Open میں ایسے 816 ارب پیرامیٹرز موجود ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر سوال کا جواب بناتے وقت تمام 816 ارب پیرامیٹرز ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔

Meta کے مطابق، ہر token کو پراسیس کرتے وقت تقریباً 42 ارب پیرامیٹرز استعمال ہوتے ہیں۔

Token کسی لفظ یا جملے کا چھوٹا حصہ ہو سکتا ہے جسے AI پڑھتا یا لکھتا ہے۔

ماڈل میں Mixture-of-Experts نامی ایک خاص طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں AI کے مختلف حصے مخصوص کاموں کے لیے تیار ہوتے ہیں اور ضرورت کے مطابق ان میں سے کچھ حصے فعال کیے جاتے ہیں۔

اس سے ہر بار پورے ماڈل کو ایک ساتھ حساب کتاب نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن اتنے بڑے ماڈل کی تمام فائلیں رکھنے کے لیے پھر بھی بہت زیادہ میموری درکار ہوتی ہے۔

Meta کے مطابق، Muse Spark Open ایک وقت میں دس لاکھ tokens تک کا context سنبھال سکتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ AI لمبی دستاویزات، بڑے کوڈ پروجیکٹس اور بہت زیادہ معلومات پر ایک ہی کام کے دوران توجہ دے سکے۔

تاہم اس بڑی صلاحیت کا یہ مطلب نہیں کہ ہر کمپیوٹر پر اتنی زیادہ معلومات کے ساتھ ایک جیسی رفتار ملے گی۔

دو Mac Studio کمپیوٹرز پر اتنا بڑا AI کیسے چلایا گیا؟

اس مظاہرے میں Apple کی M5 Ultra چپ، 512GB Unified Memory اور MLX نامی سافٹ ویئر استعمال ہوا۔

Mac Studio ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر ہے جس کا سائز عام بڑے کمپیوٹر ٹاور کے مقابلے میں کافی چھوٹا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے مہنگے ورژن میں بہت طاقتور ہارڈویئر موجود ہوتا ہے۔

Unified Memory کا مطلب یہ ہے کہ کمپیوٹر کے مختلف حصے، جن میں CPU اور GPU شامل ہیں، ایک مشترکہ میموری سسٹم استعمال کر سکتے ہیں۔

بڑے AI ماڈلز کے لیے یہ خاص طور پر فائدہ مند ہے، کیونکہ ان کی فائلیں بہت زیادہ جگہ لیتی ہیں اور انہیں تیزی سے پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔

Apple کی سرکاری تحقیق کے مطابق، Muse Spark Open کو اس کی اصل BF16 شکل میں رکھنے کے لیے صرف ماڈل کے پیرامیٹرز کی خاطر 1.6TB سے زیادہ میموری چاہیے۔

Apple نے NVFP4 نامی ایک طریقے سے ماڈل کا سائز کم کیا، جس سے ان پیرامیٹرز کے لیے درکار میموری تقریباً 493GB رہ گئی۔

لیکن یہاں ایک مسئلہ تھا۔

ایک Mac Studio میں زیادہ سے زیادہ 512GB میموری موجود ہونے کے باوجود پورا AI عملی طور پر اس پر نہیں چل سکتا تھا، کیونکہ جواب بنانے کے دوران اضافی میموری بھی استعمال ہوتی ہے۔

اسی لیے Apple نے دو کمپیوٹرز کو آپس میں جوڑ کر AI کا کام ان میں تقسیم کیا۔

ایک طریقے میں ماڈل کا پہلا حصہ ایک کمپیوٹر پر کام کرتا ہے، پھر معلومات دوسرے کمپیوٹر کو بھیجی جاتی ہیں۔ دوسرے طریقے میں دونوں کمپیوٹرز ماڈل کے حساب کتاب کو مزید تفصیل سے آپس میں تقسیم کرتے ہیں۔

اس رابطے کے لیے Thunderbolt 5 اور RDMA ٹیکنالوجی استعمال ہوئی، جبکہ MLX سافٹ ویئر نے دونوں کمپیوٹرز کے کام کو سنبھالا۔

اس طرح ایک بہت بڑا AI ماڈل مقامی طور پر چلانا ممکن ہوا، بغیر اس کے کہ اس کی تمام پراسیسنگ کسی بیرونی سرور پر کی جائے۔

یہ AI کتنی تیزی سے جواب دیتا ہے؟

Apple نے Muse Spark Open کی رفتار جانچنے کے لیے دو اور چار Mac Studio کمپیوٹرز پر مختلف ٹیسٹ کیے۔

AI کی رفتار جانچنے کا ایک طریقہ یہ دیکھنا ہے کہ وہ ایک سیکنڈ میں جواب کے کتنے tokens تیار کرتا ہے۔

Apple کے مطابق، 8192 tokens والی معلومات کے ساتھ کیے گئے ٹیسٹ میں دو کمپیوٹرز نے ایک طریقے سے 15.74 tokens فی سیکنڈ کی رفتار حاصل کی۔

اسی دو کمپیوٹرز والے سیٹ اپ میں Tensor Parallelism نامی دوسرے طریقے سے رفتار 24.99 tokens فی سیکنڈ تک پہنچ گئی۔

جب چار M5 Ultra Mac Studios استعمال کیے گئے تو یہ رفتار 36.73 tokens فی سیکنڈ ریکارڈ ہوئی۔

یہ نتائج 128 نئے tokens تیار کرنے والے ٹیسٹ سے حاصل کیے گئے تھے۔

ایک بات خاص طور پر سمجھنا ضروری ہے: 36.73 tokens فی سیکنڈ والا نتیجہ چار کمپیوٹرز کا تھا، دو کمپیوٹرز کا نہیں۔

Apple نے یہ بھی دیکھا کہ سوال دینے کے بعد AI کو جواب کا پہلا حصہ لکھنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔

دو کمپیوٹرز والے Tensor سیٹ اپ میں تقریباً 8.2 سیکنڈ لگے، جبکہ چار کمپیوٹرز پر یہ وقت 4.8 سیکنڈ رہا۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ AI اپنے کمپیوٹر پر چلانا ممکن تو ہے، لیکن اتنا بڑا ماڈل ضروری نہیں کہ ہر سوال پر فوراً جواب دینا شروع کر دے۔

یہ تمام نتائج Apple کے اپنے ٹیسٹس کے ہیں، نہ کہ کسی آزاد ادارے کی تصدیق شدہ جانچ کے۔

یہ بھی یاد رہے کہ دس لاکھ tokens کی صلاحیت الگ چیز ہے۔ Apple نے اپنی رپورٹ میں 8192 اور 65536 tokens والے ٹیسٹس کے نتائج دیے ہیں۔ اس لیے دس لاکھ tokens کے ساتھ بھی یہی رفتار ملنے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

اس AI کو چلانے کے لیے کتنے پیسے چاہییں؟

یہ وہ سوال ہے جو اس کامیابی کو عام صارفین سے الگ کرتا ہے۔

Apple نے اگست 2026 میں M5 Ultra Mac Studio متعارف کروایا تھا۔ امریکہ میں اس کی ابتدائی قیمت 5499 ڈالر رکھی گئی۔

لیکن یہ ایک کمپیوٹر کے بنیادی ماڈل کی قیمت ہے۔ اس میں وہ 512GB میموری شامل نہیں جو Apple اور Meta کے مظاہرے میں استعمال ہوئی۔

The Wall Street Journal کی رپورٹ کے مطابق، دونوں کمپیوٹرز کے مطلوبہ ہائی میموری سیٹ اپ پر 40 ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ آتا ہے۔

یہ رقم Apple کی طرف سے دونوں کمپیوٹرز کے لیے اعلان کردہ کسی ایک سرکاری پیکج کی قیمت نہیں، بلکہ رپورٹ میں بتائی گئی ہارڈویئر لاگت ہے۔

Apple نے یہ بھی بتایا تھا کہ 512GB میموری والے Mac Studio کو اکتوبر 2026 کے آخر میں دستیاب کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس لیے 15 اکتوبر کے مظاہرے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہر صارف اسی دن یہ مکمل سیٹ اپ خرید سکتا تھا۔

کمپیوٹرز خریدنے کے علاوہ بجلی، دیکھ بھال، اسٹوریج اور انہیں چلانے کے لیے تکنیکی معلومات بھی درکار ہوں گی۔

اپنے کمپیوٹر پر AI چلانے سے بعض کمپنیوں کے آن لائن AI سروسز کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ ہر صارف کے لیے ضروری نہیں کہ سستا حل ہو۔

اصل فرق اس بات پر ہوگا کہ AI کتنی بار استعمال ہوتا ہے اور آن لائن سروس کے مقابلے میں اپنا ہارڈویئر چلانے پر کتنا خرچ آتا ہے۔

Meta نے اس AI سے کون سے کام کر کے دکھائے؟

Meta نے Muse Spark Open کو مختلف عملی کاموں میں استعمال کرنے کی مثالیں پیش کی ہیں۔

ایک مثال پروگرامنگ سے متعلق تھی۔ کمپنی نے Muse Code نامی اپنے AI ٹول کو Ice Cubes نام کی iPhone ایپ پر کام کرنے کے لیے استعمال کیا۔

یہ Mastodon سوشل نیٹ ورک کے لیے بنائی گئی ایک اوپن سورس ایپ ہے۔

Meta کے مطابق، AI نے ایپ میں غلطیاں درست کرنے، نئی سہولتیں شامل کرنے اور ایپ کو دوبارہ build کرنے جیسے کام انجام دیے۔

دوسری مثال ویڈیو ایڈیٹنگ کی تھی، جس میں DaVinci Resolve استعمال ہوا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ AI نے ویڈیو کے مختلف فریم دیکھے، اہم لمحات تلاش کیے اور انہیں موبائل پر دیکھی جانے والی عمودی ویڈیو کے مطابق تیار کرنے میں مدد دی۔

Meta کے مطابق، یہ کام مقامی Mac Studio کمپیوٹرز پر کیے گئے۔

ان مظاہروں سے پتا چلتا ہے کہ AI مستقبل میں پروگرامنگ اور ویڈیو ایڈیٹنگ میں کس طرح مدد دے سکتا ہے۔ لیکن یہ کمپنی کے اپنے تجربات ہیں۔

ان کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ AI ہر کام بغیر غلطی کے مکمل کر سکتا ہے۔ خاص طور پر فائلیں تبدیل کرنے اور پروگرام چلانے جیسے کاموں میں انسان کی نگرانی ضروری ہے۔

Apple اور Meta پہلے اختلافات کے باوجود اب ساتھ کیوں ہیں؟

Apple اور Meta کے درمیان ماضی میں صارفین کی پرائیویسی اور اشتہارات کے لیے ڈیٹا استعمال کرنے جیسے معاملات پر اختلافات رہے ہیں۔

Apple نے اپنے فونز میں ایسی سہولتیں متعارف کروائی تھیں جن سے صارفین کو یہ کنٹرول ملا کہ مختلف ایپس انہیں اشتہارات کے لیے ٹریک کر سکتی ہیں یا نہیں۔ ان تبدیلیوں سے Meta کے اشتہارات کے کاروبار پر بھی اثر پڑا تھا۔

لیکن AI کے معاملے میں دونوں کمپنیوں کے مفادات ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔

Meta چاہتی ہے کہ زیادہ ڈویلپرز اس کے AI ماڈلز استعمال کریں، جبکہ Apple اپنے طاقتور Mac Studio کمپیوٹرز اور MLX سافٹ ویئر کی صلاحیت دکھانا چاہتی ہے۔

The Verge کے مطابق، Meta کے سربراہ Mark Zuckerberg اور Apple کے CEO John Ternus نے اس تعاون کا خیرمقدم کیا۔

تاہم یہ خبر اس بات کا اعلان نہیں ہے کہ Muse Spark Open کو Siri میں شامل کر دیا گیا ہے یا اب ہر Mac پر یہ ماڈل خود بخود دستیاب ہوگا۔

فی الحال دونوں کمپنیوں کا تعاون اس بڑے AI ماڈل کو خاص Mac Studio ہارڈویئر پر چلانے سے متعلق ہے۔

کیا Muse Spark Open واقعی مفت ہے؟

Meta نے Muse Spark Open کی تیار شدہ فائلیں ڈویلپرز کے لیے جاری کی ہیں۔ انہیں Open-Weight ماڈل کہا جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈویلپرز ماڈل کی فائلیں حاصل کر کے اسے اپنے ہارڈویئر یا دوسرے سپورٹڈ سسٹمز پر چلا سکتے ہیں، لیکن اس کے استعمال کے لیے لائسنس کی شرائط موجود ہیں۔

Muse Model License بہت سے کاموں کے لیے بغیر لائسنس فیس استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم اس میں کچھ ضروری شرائط بھی شامل ہیں۔

مثال کے طور پر، ماڈل استعمال کرنے والی مصنوعات یا سروسز میں "Built with Muse Spark Open" کا حوالہ مخصوص طریقے سے دینا ضروری ہے۔

ماڈل یا اس سے بننے والی متعلقہ فائلیں دوسروں کو دیتے وقت لائسنس اور استعمال کی پالیسی بھی شامل کرنا ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ ایک خاص شرط ان بڑی کمپنیوں کے لیے ہے جو دوسروں کو AI ماڈل بطور آن لائن سروس فراہم کرتی ہیں۔

اگر ایسی کمپنی اور اس سے منسلک کاروباروں کی مجموعی آمدنی کسی بھی مسلسل 12 ماہ کے دوران دو کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ ہو، تو مخصوص صورت میں اسے یہ ماڈل اپنی سروس کے طور پر پیش کرنے سے پہلے Meta کو اطلاع دے کر الگ معاہدہ کرنا ہوگا۔

یہ شرط عام اندرونی استعمال، تحقیق یا ایسے دوسرے کاروباری کاموں پر لاگو نہیں ہوتی جو Model as a Service کے زمرے میں نہیں آتے۔

اس لیے ماڈل کی فائلیں دستیاب ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہر طرح سے بغیر شرائط استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ ماڈل پر لائسنس فیس نہ ہونے کے باوجود اسے چلانے والے کمپیوٹرز، بجلی اور دوسرے انتظامات پر پیسے خرچ ہوتے ہیں۔

اپنے کمپیوٹر پر AI چلانے سے پرائیویسی کو کیا فائدہ ہے؟

Local AI کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ کے سوالات، فائلیں اور AI کے جوابات آپ کے اپنے کمپیوٹر پر پراسیس ہو سکتے ہیں۔ انہیں ہر بار کسی بیرونی AI کمپنی کے سرور پر بھیجنا ضروری نہیں ہوتا۔

یہ بات خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے جو اپنی اندرونی دستاویزات یا کاروباری معلومات پر AI استعمال کرنا چاہتی ہیں۔

لیکن اپنے کمپیوٹر پر AI چلانے کا یہ مطلب نہیں کہ تمام معلومات ہر حال میں محفوظ رہنے کی ضمانت ہے۔

اگر AI کے ساتھ آن لائن ٹولز، دوسری ویب سروسز یا بیرونی APIs منسلک ہوں، تو کچھ معلومات کمپیوٹر سے باہر بھی جا سکتی ہیں۔

اسی لیے پرائیویسی کا انحصار ماڈل کے ساتھ استعمال ہونے والے سافٹ ویئر، سیٹنگز اور حفاظتی انتظامات پر بھی ہوتا ہے۔

Meta نے بھی ڈویلپرز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ AI کو بیرونی ٹولز کے ساتھ استعمال کرتے وقت اضافی حفاظتی انتظامات کریں۔

کیا دو Mac Studios خریدے بغیر بھی یہ AI استعمال ہو سکتا ہے؟

جی ہاں۔ Muse Spark Open استعمال کرنے کے لیے دو Mac Studio کمپیوٹرز خریدنا لازمی نہیں۔

Meta کے مطابق، یہ ماڈل مختلف آن لائن AI سروسز کے ذریعے بھی دستیاب ہے۔ ان میں Baseten، Fireworks AI، Groq، Modal، Nebius، OpenRouter اور Together AI شامل ہیں۔

ان سروسز کے ذریعے ڈویلپرز اپنے منصوبوں میں ماڈل استعمال کر سکتے ہیں، جبکہ اسے چلانے والے بڑے کمپیوٹرز متعلقہ کمپنی سنبھالتی ہے۔

ہر سروس کی قیمت، استعمال کی حد اور دستیابی مختلف ہو سکتی ہے۔

Meta نے ماڈل کی فائلیں Hugging Face سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب کی ہیں۔

لیکن اپنے دوسرے ہارڈویئر پر پورا ماڈل چلانا بھی آسان نہیں۔ Meta کی تکنیکی معلومات کے مطابق، NVFP4 ورژن کے لیے مخصوص GPU سیٹ اپ میں کم از کم 700GB گرافکس میموری، جبکہ BF16 ورژن کے لیے تقریباً 2TB میموری چاہیے۔

یہ دوسرے ہارڈویئر کے لیے بتائی گئی شرائط ہیں۔ انہیں Apple کے دو Mac Studios والے خاص MLX سیٹ اپ کی شرائط سے الگ سمجھنا چاہیے۔

اس لیے آن لائن سروس استعمال کرنا بہت سے ڈویلپرز کے لیے اپنا اتنا مہنگا ہارڈویئر خریدنے سے زیادہ آسان راستہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ڈویلپرز کو اس خبر سے کیا فائدہ ہوگا؟

پاکستان میں IT کمپنیوں، سافٹ ویئر ڈویلپرز اور AI سیکھنے والے طلبہ کے لیے یہ ایک اہم ٹیکنالوجی خبر ہے۔

یہ دکھاتی ہے کہ بہت بڑے AI ماڈلز کو چلانے کے لیے نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں اور ڈویلپرز کے پاس اب مختلف ہارڈویئر اور آن لائن سروسز کے آپشنز موجود ہیں۔

پاکستانی ڈویلپرز اس ماڈل کی سرکاری تفصیلات پڑھ سکتے ہیں، اسے سپورٹ کرنے والی آن لائن سروسز کے ذریعے آزما سکتے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق چھوٹے AI ماڈلز پر بھی کام کر سکتے ہیں۔

البتہ Apple اور Meta کے مظاہرے میں استعمال ہونے والے دو 512GB M5 Ultra Mac Studios کی پاکستان میں کوئی تصدیق شدہ سرکاری قیمت یا مقامی ڈیلیوری کی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

پاکستان میں ایسا سیٹ اپ لگانے کی صورت میں درآمدی اخراجات، بجلی، دیکھ بھال اور تکنیکی ماہرین کی ضرورت بھی اہم ہوگی۔

زیادہ تر انفرادی ڈویلپرز کے لیے فی الحال آن لائن AI سروسز یا نسبتاً چھوٹے مقامی ماڈلز استعمال کرنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔

آگے AI کی دنیا میں کیا بدل سکتا ہے؟

Apple اور Meta کا یہ مظاہرہ بتاتا ہے کہ اب بہت بڑے AI ماڈلز کو چلانے کے لیے صرف طاقتور چپس ہی نہیں، بلکہ بہتر میموری، ماڈل کا سائز کم کرنے کے طریقے اور کئی کمپیوٹرز کو ایک ساتھ چلانے والا سافٹ ویئر بھی اہم ہو گیا ہے۔

اس سے مستقبل میں کچھ کمپنیوں کو یہ موقع مل سکتا ہے کہ وہ اپنے AI سسٹمز اپنے ہی دفتر یا مقامی ہارڈویئر پر چلائیں۔

تاہم ابھی Muse Spark Open کا مکمل مقامی سیٹ اپ بہت مہنگا ہے اور اسے چلانے کے لیے اچھے خاصے تکنیکی علم کی ضرورت ہے۔

آنے والے وقت میں آزادانہ ٹیسٹس، نئے ہارڈویئر کی دستیابی اور حقیقی پروجیکٹس میں اس کی کارکردگی سے واضح ہوگا کہ یہ طریقہ کتنا کامیاب ہو سکتا ہے۔

فی الحال یہ ایک بڑی تکنیکی کامیابی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر عام لیپ ٹاپ یا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اب اتنا بڑا AI ماڈل آسانی سے چلا سکتا ہے۔

ذرائع