سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایشین کپ 2027 کی تیاریاں شیڈول کے مطابق جاری ہیں، حالانکہ ملک میں حالیہ حملوں کے بعد کئی بڑے کھیلوں کے مقابلے ملتوی یا منسوخ ہو چکے ہیں۔

ایشین کپ کی مقامی انتظامی کمیٹی کے مطابق، اسٹیڈیمز، کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے سہولتوں اور دوسرے انتظامات پر کام جاری ہے۔ ٹورنامنٹ 7 جنوری سے 5 فروری 2027 تک ریاض، جدہ اور الخبر میں ہونا ہے۔

لیکن دوسری طرف ایشین فٹبال کنفیڈریشن (AFC) نے یہ امکان کھلا رکھا ہے کہ ضرورت پڑنے پر مقابلے ایک سال آگے، یعنی 2028 میں منتقل کیے جا سکتے ہیں۔

16 اکتوبر تک ایشین کپ ملتوی کرنے کا کوئی حتمی اعلان نہیں ہوا۔ سعودی عرب اب بھی اس کا میزبان ہے اور موجودہ تاریخیں برقرار ہیں۔

سعودی عرب نے ایشین کپ کی تیاریوں کے بارے میں کیا کہا؟

مقامی انتظامی کمیٹی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ٹورنامنٹ کی تیاریوں پر کام پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔

کمیٹی کے مطابق، اس میں اسٹیڈیمز کے انتظامات، ضروری سہولتیں اور ٹورنامنٹ کو چلانے کے دوسرے کام شامل ہیں۔

Reuters کی 16 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، سعودی منتظمین نے کہا کہ وہ حالات پر بھی نظر رکھیں گے تاکہ مقابلے کے انعقاد کے لیے مناسب انتظامات کیے جا سکیں۔

منتظمین نے واضح کیا ہے کہ وہ AFC اور دوسرے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

تاہم اس بیان کا یہ مطلب نہیں کہ تمام آٹھ اسٹیڈیمز مکمل ہو چکے ہیں یا سیکیورٹی سے متعلق تمام خدشات ختم ہو گئے ہیں۔

فی الحال سعودی عرب اپنے اصل منصوبے کے مطابق کام کر رہا ہے، جبکہ ٹورنامنٹ کی حتمی تاریخوں سے متعلق کسی بھی تبدیلی کا اعلان AFC کو کرنا ہوگا۔

ایشین کپ کے انعقاد پر خدشات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

گزشتہ چند دنوں کے دوران سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان میں 10 اکتوبر کو ریاض کے King Khalid International Airport پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔

Reuters کے مطابق، اس حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یمن کی حوثی تحریک نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس کے علاوہ سعودی عرب میں دوسرے مقامات پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ Associated Press نے ایک سے زیادہ واقعات کے دوران مزید ہلاکتوں کی رپورٹ دی ہے۔ اس لیے مختلف خبروں میں سامنے آنے والی تعداد کو صرف ایک حملے کی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔

ان واقعات کے بعد بین الاقوامی ٹیموں اور شائقین کے سفر کے بارے میں بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

ایشین کپ میں 24 ممالک کی ٹیمیں شریک ہوں گی۔ ان کے ساتھ کوچز، ڈاکٹرز، دوسرے عملے، صحافیوں اور بڑی تعداد میں فٹبال شائقین کی آمد بھی متوقع ہے۔

ٹورنامنٹ کے لیے صرف میدان تیار ہونا کافی نہیں ہوتا۔ ہوائی اڈوں، ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، ٹریننگ سینٹرز اور میچوں کے مقامات پر بھی مناسب انتظامات ضروری ہیں۔

یہ خدشات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اس وقت یہ کہنا درست نہیں کہ جنوری میں ٹورنامنٹ ہونا ناممکن ہے۔ اسی لیے فٹبال حکام حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

کیا ایشین کپ 2028 تک ملتوی ہو سکتا ہے؟

ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم آل خلیفہ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایشین کپ ایک سال آگے کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے رواں ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں فوری فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

Associated Press کے مطابق، AFC کے صدر نے کہا کہ ادارہ نومبر کے آخر تک حالات کا جائزہ لے سکتا ہے۔ اگر صورتحال نے مجبور کیا تو ٹورنامنٹ 2028 میں منتقل کرنا بھی ممکن ہے۔

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ انہوں نے ٹورنامنٹ ملتوی کرنے کا اعلان نہیں کیا، بلکہ اسے ایک ممکنہ راستہ قرار دیا ہے۔

نومبر کے آخر کا ذکر بھی کسی لازمی حتمی فیصلے کی تاریخ نہیں ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس تک AFC حالات کو دیکھ سکتی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی انتظامی کمیٹی موجودہ شیڈول کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

یعنی اس وقت دونوں باتیں اپنی جگہ موجود ہیں: سعودی عرب جنوری میں ایشین کپ کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ AFC ضرورت پڑنے پر تاریخ تبدیل کر سکتی ہے۔

سعودی عرب میں دوسرے کون سے کھیلوں کے مقابلے متاثر ہوئے؟

حالیہ صورتحال نے سعودی عرب کے دوسرے کھیلوں کے ایونٹس پر بھی اثر ڈالا ہے۔

گالف کے Asian Tour نے سعودی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ یہ مقابلہ 18 سے 21 نومبر تک ریاض گالف کلب میں ہونا تھا۔

منتظمین نے موجودہ حالات میں ٹورنامنٹ کے انتظامات اور بین الاقوامی سفر سے متعلق مشکلات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔

سائیکلنگ کے عالمی ادارے UCI اور سعودی سائیکلنگ فیڈریشن نے بھی اعلان کیا ہے کہ Urban Cycling World Championships 2026 اب ریاض میں نہیں ہوں گی۔

یہ مقابلے 3 سے 7 نومبر تک ہونے تھے، جن میں BMX Freestyle اور دوسرے سائیکلنگ مقابلے شامل تھے۔

UCI کے سرکاری بیان کے مطابق، خطے میں حالات اور مقابلوں کے انتظامات پر ان کے اثرات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

اسی طرح ٹینس کا Six Kings Slam بھی اکتوبر کے بجائے 27 سے 30 دسمبر 2026 تک منتقل کر دیا گیا ہے۔

FIFA اور سعودی Esports Federation نے Jeddah میں ہونے والے FIFAe Finals 2026 بھی ملتوی کر دیے ہیں۔ یہ مقابلہ 16 سے 25 اکتوبر تک ہونا تھا، لیکن نئی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی۔

ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے انتظامات پر موجودہ صورتحال کا اثر پڑ رہا ہے۔

لیکن یہ سب ایشین کپ سے الگ مقابلے ہیں۔ ان کی منسوخی یا تاریخ بدلنے کا یہ مطلب نہیں کہ ایشین کپ بھی ملتوی ہو گیا ہے۔

کھلاڑیوں کی حفاظت کے بارے میں کیا خدشات ہیں؟

جنوبی کوریا کی Professional Footballers' Association نے سعودی عرب کی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔

تنظیم کے سربراہ Lee Keun-ho کے مطابق، خطے میں موجودہ خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب مختلف ملکوں کے کھلاڑی اور شائقین ٹورنامنٹ میں شریک ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں اور فٹبال شائقین کی حفاظت سب سے اہم ہونی چاہیے، اور اگر مناسب حفاظتی انتظامات یقینی نہ بنائے جا سکیں تو تمام راستوں کا جائزہ لینا چاہیے۔

موجودہ شیڈول کے مطابق، جنوبی کوریا نے 10 جنوری کو یمن کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلنا ہے۔

Football Australia نے بھی کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

حالیہ سیکیورٹی الرٹس کا اثر کلب فٹبال پر بھی پڑا۔ 12 اکتوبر کو ریاض میں Cristiano Ronaldo کی ٹیم Al-Nassr اور ازبکستان کی Neftchi Fergana کے درمیان AFC Champions League کا میچ ایک سیکیورٹی الرٹ کے بعد تاخیر سے شروع ہوا۔

تاہم یہ میچ بعد میں کھیلا گیا۔ اسے منسوخ شدہ میچ کہنا درست نہیں ہوگا۔

یہ بھی واضح رہے کہ کھلاڑیوں کی تنظیموں کی تشویش کا مطلب ٹورنامنٹ سے دستبرداری نہیں ہے۔ دستیاب رپورٹس میں جنوبی کوریا یا آسٹریلیا کے ایشین کپ چھوڑنے کا کوئی تصدیق شدہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

ایشین کپ 2027 کب اور کہاں کھیلا جائے گا؟

موجودہ شیڈول کے مطابق، ایشین کپ 7 جنوری 2027 کو شروع ہوگا اور فائنل 5 فروری کو کھیلا جائے گا۔

یہ پہلا موقع ہوگا جب سعودی عرب مردوں کے ایشین کپ کی میزبانی کرے گا۔

ٹورنامنٹ میں 24 قومی ٹیمیں حصہ لیں گی، جنہیں چھ گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 51 میچ رکھے گئے ہیں۔

مقابلے تین شہروں، ریاض، جدہ اور الخبر کے آٹھ اسٹیڈیمز میں ہوں گے۔

ریاض میں پانچ اسٹیڈیمز استعمال کیے جائیں گے۔ ان میں King Fahd Sports City Stadium، King Saud University Stadium، Kingdom Arena، Imam Mohammed Ibn Saud University Stadium اور Al Shabab Stadium شامل ہیں۔

جدہ میں King Abdullah Sports City Stadium اور Prince Abdullah Al Faisal Sports City Stadium میں میچ کھیلے جائیں گے۔

الخبر میں نئے Aramco Stadium کو ٹورنامنٹ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

AFC کے سرکاری ڈرا اور شیڈول کے مطابق، افتتاحی میچ 7 جنوری کو سعودی عرب اور فلسطین کے درمیان ہوگا۔

King Fahd Sports City Stadium میں افتتاحی میچ کے ساتھ 5 فروری کو فائنل بھی کھیلا جانا ہے۔

یہ تمام تفصیلات موجودہ شیڈول کی ہیں۔ کسی سرکاری تبدیلی کی صورت میں نئی تاریخیں اور میچوں کی تفصیلات AFC جاری کرے گی۔

کیا تمام اسٹیڈیمز مکمل طور پر تیار ہیں؟

سعودی انتظامی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسٹیڈیمز اور دوسری سہولتوں پر کام شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔

تاہم تازہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تمام آٹھ اسٹیڈیمز کا کتنا کام مکمل ہو چکا ہے یا انہیں آخری منظوری مل گئی ہے۔

کچھ مقامات پہلے ہی فٹبال کے بڑے میچوں کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں، جبکہ بعض جگہوں پر نئی تعمیر یا بہتری کا کام کیا گیا ہے۔

Reuters نے جولائی 2026 میں الخبر کے Aramco Stadium میں جاری تعمیراتی کام کی تصاویر شائع کی تھیں۔ ان تصاویر سے جولائی کی صورتحال سامنے آتی ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اکتوبر میں اسٹیڈیم کا کتنا کام باقی تھا۔

کسی بڑے ٹورنامنٹ کے لیے اسٹیڈیم کے ساتھ ٹیموں کی رہائش، طبی سہولتیں، سیکیورٹی اور شائقین کی آمدورفت کا بندوبست بھی ضروری ہوتا ہے۔

اس لیے منتظمین کی طرف سے تیاریوں میں پیش رفت کا اعلان تمام انتظامات سو فیصد مکمل ہونے کی تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔

سعودی عرب کے لیے ایشین کپ کی میزبانی کیوں اہم ہے؟

سعودی عرب کے لیے ایشین کپ ایک بڑا بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ ہوگا۔ ملک پہلی بار ایشیا کی اس چیمپئن شپ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔

سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں فٹبال اور دوسرے بین الاقوامی کھیلوں پر بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ اسے 2034 FIFA World Cup کی میزبانی بھی مل چکی ہے۔

ایشین کپ جیسے ٹورنامنٹ سے کئی شہروں میں ٹیموں، شائقین اور بڑے کھیلوں کے انتظامات سنبھالنے کا تجربہ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ تجربہ مستقبل کے دوسرے بڑے مقابلوں کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے، لیکن ایشین کپ اور 2034 ورلڈ کپ دو الگ ایونٹس ہیں۔

اگر ایشین کپ کی تاریخ بدلتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ورلڈ کپ کا شیڈول بھی تبدیل ہو گیا ہے۔

اب اگلا فیصلہ کب ہو سکتا ہے؟

فی الحال سعودی عرب کے منتظمین جنوری 2027 میں ایشین کپ کروانے کے منصوبے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

AFC نے بھی ابھی ٹورنامنٹ ملتوی کرنے کا کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔ تاہم ادارے کے صدر نے ضرورت پڑنے پر 2028 تک تاخیر کا امکان ظاہر کیا ہے۔

آنے والے ہفتوں میں سیکیورٹی صورتحال، بین الاقوامی سفر اور AFC کے نئے اعلانات اہم ہوں گے۔

کھلاڑیوں، قومی ٹیموں اور شائقین کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ سفر سے پہلے ٹورنامنٹ کی تازہ سرکاری معلومات دیکھیں۔

اس وقت اصل خبر یہی ہے کہ ایشین کپ 2027 کی تیاریاں سعودی عرب میں جاری ہیں، لیکن حالات کے مطابق اس کی تاریخ تبدیل کرنے کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا۔

ذرائع