ریاض — سعودی عرب کے فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دارالحکومت ریاض کی طرف آنے والا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا۔ سعودی حکام نے میزائل داغنے کا الزام یمن کے حوثی گروپ پر لگایا ہے۔
منگل، 20 اکتوبر 2026 کو پیش آنے والے اس واقعے کے دوران ریاض میں خطرے کا الرٹ جاری کیا گیا، جبکہ صحافیوں نے شہر میں دو دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ سعودی سول ڈیفنس نے چند منٹ بعد اعلان کیا کہ فوری خطرہ ٹل گیا ہے۔
یمن میں فوجی کارروائیوں میں شامل سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے میزائل کو تباہ کرنے کا اعلان کیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے سرکاری بیان کے مطابق میزائل کا رخ ریاض کی طرف تھا۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس مقام پر روکا گیا یا اس کے لیے کون سا دفاعی نظام استعمال ہوا۔
ریاض میں خطرے کا الرٹ کیوں جاری ہوا؟
سعودی سول ڈیفنس نے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے ریاض میں ممکنہ خطرے کی اطلاع جاری کی تھی۔ اس نظام کے ذریعے ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو خبردار کیا جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے AFP کے صحافیوں نے شہر میں دو دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔
AFP کی رپورٹ کے مطابق سعودی سول ڈیفنس نے وارننگ جاری ہونے کے چند منٹ بعد اسے ختم کر دیا اور بتایا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
انادولو ایجنسی کے مطابق حکام نے شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے اور غیر ضروری طور پر جمع ہونے یا ویڈیوز بنانے سے گریز کی ہدایت بھی کی۔
تاہم دھماکے کس مقام پر ہوئے اور ان کی اصل وجہ کیا تھی، اس بارے میں آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
الرٹ ختم ہونے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حکام کے مطابق اس وقت فوری خطرہ باقی نہیں تھا۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ممکنہ نقصان کا مکمل جائزہ لیا جا چکا تھا۔
سعودی فوجی اتحاد نے میزائل کے بارے میں کیا بتایا؟
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق بیلسٹک میزائل حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا تھا، جسے روک کر تباہ کر دیا گیا۔
سرکاری بیان میں میزائل کا مخصوص ماڈل، اسے داغنے کا مقام، اس کا ممکنہ ہدف یا تباہ کیے جانے کی جگہ نہیں بتائی گئی۔
سعودی اتحاد نے حملے کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد کی ہے، لیکن اس مخصوص میزائل کے بارے میں جاری معلومات سے اس کی اصل جگہ اور ذمہ دار گروپ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی۔
20 اکتوبر کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے والا حوثیوں کا کوئی تصدیق شدہ بیان بھی زیر جائزہ ابتدائی رپورٹس میں سامنے نہیں آیا۔
اس کے علاوہ اس واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے، ہلاک ہونے یا کسی عمارت کو نقصان پہنچنے کی مصدقہ تفصیلات بھی دستیاب نہیں تھیں۔
یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ نقصان کی تصدیق نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی نقصان ہوا ہی نہیں۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی
ریاض میں تازہ خطرے کا الرٹ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان فوجی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
حوثی یمن کے دارالحکومت صنعا اور ملک کے دوسرے علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد 2015 سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے مختلف شہروں اور اہم تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب سعودی اتحاد نے بھی یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر فضائی کارروائیاں کی ہیں۔
اکتوبر کے دوران ریاض کی طرف آنے والے دوسرے میزائل بھی تباہ کرنے کے اعلانات کیے گئے تھے۔ 14 اکتوبر کو ہونے والا واقعہ بھی ان میں شامل تھا۔
پچھلے حملوں اور میزائلوں کے ٹکڑے گرنے کے بعض واقعات میں لوگ زخمی ہوئے اور گھروں کو نقصان بھی پہنچا۔ تاہم ان نقصانات کا تعلق پہلے پیش آنے والے واقعات سے تھا، نہ کہ لازمی طور پر 20 اکتوبر کے تازہ واقعے سے۔
سعودی عرب میں اس کشیدگی کے باعث شہریوں کی حفاظت، ہوائی سفر اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
اس سے پہلے پاکستان نے مدینہ میں بجلی کی ایک تنصیب پر رپورٹ ہونے والے الگ حملے کی مذمت کی تھی۔ اس حوالے سے Origin Pakistan کی تفصیلی خبر بھی موجود ہے۔
کیا تازہ واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا؟
20 اکتوبر کی ابتدائی سرکاری اور صحافتی رپورٹس میں ریاض کی طرف آنے والا میزائل تباہ کرنے کا اعلان تو سامنے آیا، لیکن اس مخصوص واقعے میں جانی یا مالی نقصان کی کوئی تصدیق شدہ تفصیل نہیں دی گئی۔
ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ میزائل کے ٹکڑے کہاں گرے یا اسے کس جگہ روکا گیا۔
AFP کے صحافیوں نے شہر میں دو دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، جبکہ سعودی سول ڈیفنس نے چند منٹ بعد خطرے کا الرٹ ختم کرنے کا اعلان کیا۔
اس وقت دستیاب معلومات کے مطابق یہی اس واقعے کی اہم تصدیق شدہ تفصیلات ہیں۔ ممکنہ نقصان یا میزائل کے ٹکڑوں سے متعلق مزید معلومات کے لیے سعودی حکام کی نئی رپورٹ یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد درکار ہوں گے۔