دوحہ — قطر نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں جیسے اہم معاملات پر دونوں ممالک کے اختلافات ابھی ختم نہیں ہوئے۔

قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان اور وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری نے منگل، 20 اکتوبر 2026 کو دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک سفارتی رابطوں میں شامل ہیں۔

انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے امید ظاہر کی کہ بات چیت کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ خطے میں بڑھتی لڑائی مزید ممالک کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

قطری ترجمان نے کسی نئے معاہدے، امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کی نئی براہ راست ملاقات یا مذاکرات کی اگلی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ ان کے بیان کا بنیادی مطلب یہ تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کا سلسلہ ابھی بند نہیں ہوا۔

قطر نے امریکا اور ایران کے مذاکرات کے بارے میں کیا بتایا؟

ڈاکٹر ماجد الانصاری کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور خطے کے دوسرے ممالک بھی مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالات مشکل ہوتے جا رہے ہیں، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔

قطری ترجمان نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ مذاکرات کے بارے میں زیادہ خبریں سامنے نہ آنے کا مطلب یہ نہیں کہ سفارتی کوششیں رک گئی ہیں۔

قطر کے اخبار دی پیننسولا کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ بعض معاملات میں خاموشی سے ہونے والی بات چیت زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے، کیونکہ ہر تفصیل کھلے عام بیان کرنا مذاکرات کو مشکل بنا سکتا ہے۔

الانصاری نے ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق بات چیت کا بھی ذکر کیا۔ یہ معاہدہ JCPOA کے نام سے جانا جاتا ہے، جو 2015 میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پایا تھا۔

تاہم انہوں نے یہ اعلان نہیں کیا کہ پرانا معاہدہ بحال ہو گیا ہے یا امریکا اور ایران کسی نئے جوہری سمجھوتے پر پہنچ گئے ہیں۔

دو ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہونا اور کسی معاہدے کی شرائط پر اتفاق ہونا الگ باتیں ہیں۔ موجودہ صورتحال میں یہی فرق سمجھنا ضروری ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کی تصدیق کس نے کی؟

قطر کے تازہ بیان سے پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کی تصدیق ہو چکی تھی۔

6 اکتوبر کو قطر کی وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ واشنگٹن اور تہران ایک دوسرے کو پیغامات بھیج رہے ہیں اور قطر ان کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے میں مدد کر رہا ہے۔

وزارت خارجہ کے سرکاری بیان کے مطابق اس کے عہدیدار ابراہیم بن سلطان الہاشمی نے کہا تھا کہ قطر کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور کسی حل میں دونوں ممالک کے خدشات کو سامنے رکھنا ضروری ہوگا۔

ثالثی کا مطلب ہے کہ کوئی تیسرا ملک دو فریقوں کے درمیان بات چیت اور پیغامات پہنچانے میں مدد کرے۔

12 اکتوبر کو ایران نے بھی ان رابطوں کی تصدیق کی تھی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا تھا کہ تہران امریکا کی طرف سے موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان اور قطر کو ان ممالک میں شامل کیا جو رابطے جاری رکھنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

انادولو ایجنسی کی 12 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا تھا کہ مذاکرات کے لیے ایران کی شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔

ان بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن کسی نئی براہ راست ملاقات یا باقاعدہ مذاکرات کے نئے دور کی تصدیق نہیں ہوتی۔

آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر اختلاف کیوں برقرار ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایران کا جوہری پروگرام شامل ہیں۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ یہاں سے مختلف ممالک کو تیل اور گیس لے جانے والے جہاز گزرتے ہیں۔ جنگ اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی کی منڈی پر دباؤ بڑھا ہے۔

ایران نے امریکا کو اس سمندری راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک تجویز دی ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی شرائط بھی رکھی ہیں۔

18 اکتوبر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ یہ تجویز اب بھی موجود ہے اور تہران امریکا کی جانب سے دیے گئے جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔

خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹائی جائیں اور خطے میں لڑائی روکی جائے۔

بعد کی رپورٹنگ میں ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ ایرانی تجویز کے مطابق شرائط تسلیم ہونے کی صورت میں سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا راستہ نکل سکتا ہے، تاہم ابھی ان شرائط پر اتفاق نہیں ہوا۔

اصل اختلاف یہ بھی ہے کہ مذاکرات میں پہلے کس مسئلے کو حل کیا جائے۔

امریکا چاہتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ابتدا ہی سے بات ہو۔ دوسری طرف ایران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز، امریکی پابندیوں اور خطے میں سکیورٹی سے متعلق اس کے مطالبات پہلے پورے کیے جائیں۔

Reuters کی 20 اکتوبر کی رپورٹ میں سینئر ایرانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان شرائط اور ان پر عمل کرنے کی ترتیب کے باعث مذاکرات میں پیش رفت رکی ہوئی ہے۔

رپورٹ میں ایرانی عہدیداروں نے امریکا پر عدم اعتماد اور دوبارہ حملوں کے خدشات کا بھی ذکر کیا۔ تاہم یہ ان عہدیداروں کا مؤقف تھا، مذاکرات ختم ہونے کا کوئی سرکاری اعلان نہیں۔

اس لیے قطر کا بیان اور مذاکرات میں تعطل کی اطلاعات ضروری نہیں کہ ایک دوسرے کے خلاف ہوں۔ دونوں ممالک رابطے میں رہ سکتے ہیں، چاہے معاہدے کی شرائط پر اتفاق نہ ہو رہا ہو۔

قطر نے مزید کشیدگی سے کیوں خبردار کیا؟

دوحہ میں خطاب کے دوران قطری ترجمان نے خطے میں بڑھتی لڑائی پر بھی تشویش ظاہر کی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوجی کارروائیاں اور جوابی حملے جاری رہے تو تنازع مشرق وسطیٰ سے باہر بھی پھیل سکتا ہے۔

ڈاکٹر ماجد الانصاری کے مطابق اس سے پہلے جنگ بندی کی ایک کوشش کا مقصد مزید مذاکرات کا راستہ کھولنا تھا، لیکن وہ برقرار نہ رہ سکی اور دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف جنگ بندی ہونا کافی نہیں، بلکہ ان مسائل کو حل کرنا بھی ضروری ہے جو کشیدگی کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے یمن میں جاری لڑائی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس تنازع کے اپنے مسائل ہیں، اگرچہ اس کے اثرات خطے کی دوسری کشیدگی سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

قطر نے سعودی عرب کی خودمختاری اور حملوں کے مقابلے میں اپنے دفاع کے حق کی حمایت بھی کی ہے۔

یہ قطر کا سفارتی مؤقف ہے۔ اس بیان میں کسی نئی جنگ بندی یا خطے کے لیے مشترکہ امن معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کیا کردار ادا کر رہا ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان جاری رابطوں میں پاکستان بھی ثالثی کر رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے 12 اکتوبر کو واضح کیا تھا کہ پاکستان اور قطر دونوں ممالک کے درمیان پیغامات پہنچانے اور بات چیت جاری رکھنے میں مدد کر رہے ہیں۔

پاکستان نے اس سے پہلے 18 جون 2026 کو امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے کرانے میں بھی کردار ادا کیا تھا۔

اس معاہدے کا مقصد لڑائی کم کرنا اور مزید بات چیت کے ذریعے بڑے مسائل حل کرنے کا راستہ بنانا تھا۔ تاہم بعد میں اس پر عمل درآمد اور بعض اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔

پاکستان کا سفارتی کردار اور جون کے معاہدے کی تفصیل Origin Pakistan کی پہلے سے شائع شدہ رپورٹ میں موجود ہے۔

پاکستان کے لیے آبنائے ہرمز کی صورتحال معاشی طور پر بھی اہم ہے۔ اس راستے میں رکاوٹیں عالمی تیل کی قیمتوں اور بحری تجارت کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے اخراجات بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

تاہم قطر کے 20 اکتوبر کے بیان میں پاکستان کی کوششوں سے کسی نئے معاہدے یا اسلام آباد میں مذاکرات کے نئے دور کا اعلان نہیں کیا گیا۔

فی الحال قطر کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے، جبکہ ایران بھی ثالثوں کے ذریعے رابطوں کی تصدیق کر چکا ہے۔

لیکن آبنائے ہرمز، پابندیوں اور جوہری پروگرام پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ کسی نئے مکمل معاہدے یا آئندہ براہ راست ملاقات کی تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی۔