پیر، 26 اکتوبر کو خبر آئی کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے حکام ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے لیے تہران میں موجود تھے۔ اے پی نے دو علاقائی حکام اور ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے ان کی موجودگی کی رپورٹ دی۔ رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اس ملاقات کی تجویز پاکستان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے گزشتہ ہفتے دورہ تہران کے دوران دی تھی۔ دستیاب رپورٹس میں کسی حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

پاکستان نے استنبول میں کیا مؤقف دیا تھا؟

23 اکتوبر کو ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ استنبول میں ملے۔ پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق برطانیہ، اٹلی، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ بھی توسیعی اجلاس میں شریک ہوئے۔

ترکی کی وزارت خارجہ کے مشترکہ بیان میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے تنازع کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا۔ بیان میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی حمایت بھی کی گئی اور آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت پر زور دیا گیا۔ پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس اجلاس کے بارے میں سرکاری بیان جاری کیا تھا۔

تہران میں کن حکام کی شرکت متوقع تھی؟

رائٹرز کے مطابق متوقع شرکا میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ترکی کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن شامل تھے۔ پاکستانی حکومت کی 23 اکتوبر کی پریس ریلیز میں عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز کہا گیا ہے۔

اے پی نے علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا کہ یمن کی لڑائی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے معاملات بھی زیر بحث تھے۔ اے پی کے مطابق سعودی عرب نے اس دورے کا مقصد کشیدگی کم کرنے اور خطے میں سلامتی بہتر بنانے کی کوشش بتایا۔

رائٹرز نے پاکستان کی جانب سے ملاقات کی تجویز دینے کی بات ایک سینئر ایرانی عہدیدار سے منسوب کی۔ اس سے ملاقات کے انتظام کے بارے میں ایک رپورٹ سامنے آتی ہے، لیکن اس سے کسی معاہدے کی تصدیق نہیں ہوتی۔

ٹرمپ نے 24 اور 25 اکتوبر کو کیا کہا؟

سی این این کی 24 اکتوبر کی ٹرانسکرپٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کا ذکر کیا اور اگلے دن کو بھی ایک امکان بتایا۔ اسی گفتگو میں انہوں نے معاہدے کا امکان بھی بیان کیا۔ یہ ممکنہ کارروائی کا ذکر تھا، حملے کے حتمی حکم کی تصدیق نہیں۔

اے پی نے 25 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے کہا اس اتوار ایران پر امریکی حملہ نہیں ہوگا۔ یہ بیان صرف 25 اکتوبر کے بارے میں تھا۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پہلے کوئی حتمی فوجی حکم دیا گیا تھا یا بعد کی تاریخوں میں کارروائی کا امکان ختم ہو گیا تھا۔

اے پی کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات ثالثوں کے ذریعے بھیجے جا رہے تھے۔ یہ سفارتی رابطوں کی رپورٹ ہے، کسی نئے معاہدے کی تصدیق نہیں۔

یہ رابطے پاکستان کے لیے کیوں اہم ہیں؟

23 اکتوبر کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سمندری راستوں میں رکاوٹ سے عالمی سپلائی، توانائی، کھاد اور خوراک کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال اسی لیے پاکستان کے لیے اہم ہے۔ تاہم، تہران میں ملاقات کی خبر سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ پاکستان میں پیٹرول یا ڈیزل کی قیمتیں لازماً بڑھیں گی یا کم ہوں گی۔

مزید پس منظر کے لیے امریکا اور ایران کے سفارتی رابطوں پر Origin Pakistan کی سابقہ رپورٹ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے پاکستان کے ایندھن اور بجلی پر اثرات پڑھیں۔

ابھی کیا باتیں واضح نہیں ہوئیں؟

دستیاب رپورٹس کے مطابق وفود ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے لیے تہران میں موجود تھے اور علاقائی سلامتی بات چیت کا ایک موضوع تھا۔ ان رپورٹس میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اس جائزے میں 25 اکتوبر کے بعد امریکی حملے کا کوئی نیا حتمی حکم بھی ثابت نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بعد میں کوئی فیصلہ یا اعلان نہیں ہوا، بلکہ یہ کہ زیرِ جائزہ ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اگلی خبر کے لیے تہران کی ملاقات کے نتائج سے متعلق سرکاری بیان یا نئی قابلِ تصدیق معلومات درکار ہوں گی۔ فی الحال سفارتی رابطوں کو بحران کے حل کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔