قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں نجکاری کمیشن کا بل، یعنی Privatisation Commission (Amendment) Bill, 2026، 22 اکتوبر 2026 کو پیش کردہ بلوں میں شامل ہے۔ ڈان نے 26 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ نجکاری کمیشن اور Public-Private Partnership Authority (P3A) کو ملا کر ایک نیا ادارہ بنانے کی تجویز ہے۔ رپورٹ میں اس کا نام Privatisation and Public-Private Partnership Commission (PPPPC) بتایا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق بل میں موجودہ اور سابق عہدے داروں کو قانونی کارروائی اور تحقیقات سے تحفظ دینے کی بات بھی ہے۔ قومی اسمبلی کا ریکارڈ بل پیش ہونے کی تصدیق کرتا ہے، لیکن اصل مسودہ اس جائزے میں نہیں کھل سکا۔ اس لیے تحفظ سے متعلق شقوں کے درست الفاظ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

26 اکتوبر 2026 کو دوپہر 3:25 بجے پاکستان کے وقت کے مطابق، قومی اسمبلی کی منظور شدہ بلوں کی فہرست میں یہ بل شامل نہیں تھا۔ اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ پر اگلا اجلاس اسی دن شام 5 بجے مقرر دکھایا گیا تھا۔ یہ جانچ اجلاس سے پہلے کی گئی، اس لیے بعد کی کارروائی کی تصدیق نہیں ہوتی۔

دونوں اداروں کو ملانے کی تجویز کیا ہے؟

ڈان کے مطابق حکومت نجکاری کمیشن اور P3A کا کام ایک نئے ادارے کے تحت لانا چاہتی ہے۔ رپورٹ میں حکومت کا مؤقف یہ بتایا گیا کہ دونوں اداروں کی الگ ذمہ داریوں سے بعض کام دہرائے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بل میں Privatisation Commission Ordinance, 2000 میں ترمیم کی تجویز ہے۔ اس میں Public Private Partnership Authority Act, 2017 کو ختم کرنے کی بات بھی ہے۔ یہ ابھی تجاویز ہیں، نافذ قانون نہیں۔

ڈان کے مطابق نئے کمیشن کے کام میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) منصوبوں کا جائزہ لینا، ان کی تیاری اور نگرانی شامل ہوگی۔ قومی اسمبلی کا ریکارڈ بل پیش ہونے کی تصدیق کرتا ہے، لیکن ان تفصیلی اختیارات کی اصل مسودے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

قانونی تحفظ کے بارے میں کیا رپورٹ ہوا؟

ڈان کے مطابق مجوزہ بل میں قانونی کارروائی اور تحقیقات سے تحفظ دینے کی تجویز ہے۔ رپورٹ میں موجودہ اور سابق چیئرمینوں، سیکریٹریوں، بورڈ ارکان، دوسرے افسران اور مشیروں کا ذکر ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ تحفظ نیک نیتی سے کیے گئے کام یا کوتاہی اور ذاتی حیثیت میں کیے گئے عمل سے متعلق ہوگا۔ ڈان نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایسے مقدمات کے دفاع کے لیے سرکاری رقم استعمال کرنے کی تجویز ہے۔

اصل مسودہ دستیاب نہیں تھا۔ اس لیے تحفظ کی مکمل شرائط، اس سے فائدہ اٹھانے والے تمام افراد اور وہ حالات واضح نہیں ہیں جن میں تحفظ لاگو نہیں ہوگا۔ دستیاب شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ یہ تحفظ ہر قسم کے عمل پر لاگو ہوگا۔ اسے مکمل قانونی چھوٹ کہنا درست نہیں ہوگا۔

P3A کے موجودہ قانون میں کیا تحفظ ہے؟

P3A کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود Public Private Partnership Authority Act, 2017 کی نقل میں دفعہ 26 کے تحت نیک نیتی سے کیے گئے کام کے لیے قانونی تحفظ درج ہے۔ یہ شق وفاقی حکومت، بورڈ، اتھارٹی اور ان کی طرف سے کام کرنے والے مخصوص افسران سے متعلق ہے۔

اس قانون کی دستیاب نقل میں نیک نیتی سے کیے گئے کام کے لیے تحفظ پہلے سے موجود ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اکتوبر کے مجوزہ بل میں بھی یہی الفاظ ہیں یا تحفظ کی حد وہی رہے گی۔ سرکاری PDF میں 2021 اور 2022 کی ترامیم کے حوالے درج ہیں۔ اس کے بعد کی کسی تبدیلی کی تصدیق نہیں کی گئی۔

کیا PPP معاہدے عوام کے لیے دستیاب ہیں؟

اسی قانون کی دفعہ 24 میں PPP معاہدوں کو عوامی دستاویز قرار دیا گیا ہے۔ متعلقہ قوانین کے تحت دلچسپی رکھنے والا شخص معاہدے کی نقل حاصل کر سکتا ہے۔ اس لیے دستیاب متن یہ ثابت نہیں کرتا کہ عوام کو یہ حق پہلی بار اکتوبر کے بل سے ملے گا۔

ڈان نے رپورٹ کیا کہ مجوزہ بل میں PPP معاہدوں سے متعلق شقیں بھی ہیں۔ اصل مسودے کے بغیر یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ دفعہ 24 برقرار رہے گی، اس میں تبدیلی ہوگی یا اسے ختم کیا جائے گا۔