پشاور — پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کے خلاف دائر درخواستوں پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ حکام سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مرکزی مقدمات کی مزید سماعت 10 نومبر 2026 تک ملتوی کر دی۔
منگل، 20 اکتوبر کو جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی جن میں وفاقی حکومت کے 11 اکتوبر کے فیصلے کو آئین کے خلاف قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کیے، جبکہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر متعلقہ حکام سے بھی جواب طلب کرنے کا کہا۔
عدالت نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کا اقدام آئین کے مطابق تھا یا نہیں۔ فی الحال درخواستوں پر ابتدائی کارروائی جاری ہے۔
پشاور ہائی کورٹ میں کیا دلائل دیے گئے؟
عدالت میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں اور تنظیموں کی درخواستیں زیر سماعت آئیں۔
درخواست گزاروں میں تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار، خیبر پختونخوا بار کونسل، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نمائندے اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ اور بشریٰ گوہر بھی شامل ہیں۔
بیرسٹر گوہر کی جانب سے بیرسٹر سمیر کھوسہ اور سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے۔ دیگر وکلا نے بھی وفاقی حکومت کے فیصلے اور اس کے آئینی طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے۔
بیرسٹر سمیر کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت اپنے انتظامی معاملات چلانے کے قابل تھی اور ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی تھی جس میں وفاق کو غیر معمولی اختیارات استعمال کرنے پڑتے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے ایمرجنسی کے حق میں کوئی قرارداد منظور نہیں کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں دی گئی ضروری شرائط پوری کیے بغیر یہ اقدام کیا گیا۔
سلمان اکرم راجہ نے بھی مؤقف اپنایا کہ گورنر راج نافذ کرنے کے لیے صوبائی حکومت کا آئین کے مطابق کام نہ کر پانا ثابت ہونا ضروری تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
وکلا کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کی آئینی حیثیت برقرار تھی، لیکن انہیں اپنے اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔ اس سلسلے میں بیرسٹر سمیر کھوسہ نے سپریم کورٹ کے پرانے پیر صابر شاہ کیس کا حوالہ بھی دیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق درخواست گزاروں نے صوبائی حکومت اور اسمبلی کے اختیارات بحال کرنے اور متعلقہ سیاسی رہنماؤں کی بازیابی یا عدالت میں پیشی کی استدعا بھی کی۔
یہ تمام درخواست گزاروں کے دلائل ہیں۔ عدالت نے ابھی انہیں درست یا غلط قرار دینے کا حتمی فیصلہ نہیں سنایا۔
آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 پر اختلاف کیوں ہے؟
اس مقدمے میں بنیادی قانونی اختلاف آئین کی دو الگ شقوں کے استعمال پر ہے۔
آرٹیکل 232 مخصوص حالات میں ایمرجنسی لگانے سے متعلق ہے۔ ان میں جنگ، بیرونی حملے یا ایسی شدید اندرونی بدامنی شامل ہے جس پر صوبائی حکومت خود قابو نہ پا سکتی ہو۔
اس آرٹیکل میں اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کا ذکر ہے۔ اسی آرٹیکل میں یہ طریقہ بھی موجود ہے کہ اگر صدر اپنے طور پر ایمرجنسی لگائیں تو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے 10 دن کے اندر منظوری لی جائے۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی کی منظوری ضروری تھی اور اس شرط کو پورا نہیں کیا گیا۔
تاہم ان دونوں آئینی طریقوں کا آپس میں کیا تعلق ہے اور وہ 11 اکتوبر کے فیصلے پر کیسے لاگو ہوتے ہیں، اس بارے میں قانونی اختلاف موجود ہے۔ اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔
آرٹیکل 234 ایک الگ صورتحال سے متعلق ہے۔ اس کے تحت اگر صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلانا ممکن نہ رہے تو صدر، گورنر کی رپورٹ موصول ہونے اور متعلقہ آئینی شرائط پوری ہونے پر، صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات خود استعمال کر سکتے ہیں یا گورنر کو ان کے استعمال کی ہدایت دے سکتے ہیں۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایسی صورتحال موجود نہیں تھی جس میں یہ قدم اٹھانا ضروری ہوتا۔ انہوں نے وفاقی فیصلے کی بنیاد بننے والے حالات اور قانونی طریقہ کار پر بھی اعتراض کیا۔
آئین کے آرٹیکل 236 کی ذیلی شق 2 میں ایمرجنسی سے متعلق صدارتی اعلانات اور احکامات کی قانونی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کرنے پر بھی پابندی درج ہے۔ تاہم اس پابندی کا موجودہ درخواستوں پر کیا قانونی اثر ہوگا، یہ ابھی طے نہیں ہوا۔
ان آئینی شقوں کی تفصیلی وضاحت کے لیے Origin Pakistan کی گورنر راج سے متعلق پہلے سے شائع شدہ رپورٹ پڑھی جا سکتی ہے۔
پارلیمنٹ کی منظوری کو بھی چیلنج کیا گیا
وفاقی حکومت کے اصل فیصلے کے ساتھ پارلیمنٹ کی جانب سے بعد میں دی گئی منظوری بھی اس قانونی تنازعے کا حصہ بن گئی ہے۔
14 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ نے ایمرجنسی سے متعلق قراردادوں کی الگ الگ منظوری دی۔ اگلے روز، 15 اکتوبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق دو قراردادیں منظور کیں۔
قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں 14 اکتوبر کی قومی اسمبلی کی منظوری اور 15 اکتوبر کو آرٹیکل 232 کے تحت مشترکہ اجلاس کی جانب سے ایمرجنسی کی منظوری درج ہے۔
بیرسٹر گوہر نے اپنی پہلے سے دائر درخواست میں ترمیم کی اجازت مانگی تاکہ پارلیمنٹ کی ان قراردادوں اور متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن کو بھی چیلنج کیا جا سکے۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر اصل صدارتی فیصلہ آئینی شرائط پوری کیے بغیر کیا گیا ہو تو بعد میں پارلیمنٹ کی منظوری اسے خود بخود درست نہیں بنا سکتی۔
حکومت کے اقدامات کو پارلیمنٹ کی منظوری مل چکی ہے، لیکن درخواست گزار اس منظوری کے قانونی اثرات کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ نے فی الحال اس اختلاف پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیوں لگایا؟
11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دی تھی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اعلان کیا تھا کہ یہ اقدامات آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت کیے گئے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کی سرکاری رپورٹ کے مطابق حکومت نے صوبے میں خراب ہوتی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کو فیصلے کی وجوہات قرار دیا تھا۔
وفاقی حکومت کے اعلان کے بعد صوبائی انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کیے گئے اور ان کی مدد کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی قائم کی گئی۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ حالات کی سنگینی کے باعث غیر معمولی آئینی اقدامات ضروری تھے۔
دوسری طرف تحریک انصاف اس مؤقف کو مسترد کرتی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے عدالت میں کہا کہ ان کی جماعت دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی حمایت کرتی رہی ہے اور صوبائی حکومت پر عدم تعاون کے الزامات درست نہیں۔
یہ دونوں فریقوں کے الگ الگ مؤقف ہیں۔ عدالت نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وفاقی حکومت کے پیش کردہ حالات آئینی طور پر ان اقدامات کے لیے کافی تھے یا نہیں۔
سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی بازیابی کی درخواستیں
گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف مرکزی مقدمے کے علاوہ پشاور ہائی کورٹ میں تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کی بازیابی سے متعلق الگ درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی۔
سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ انتظامی اختیارات گورنر راج کے نفاذ سے متاثر ہوئے۔ ان کی بازیابی کی درخواست پر جسٹس ارشد علی نے صوبائی حکومت، پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو دو روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر سے متعلق درخواستوں کی سماعت جسٹس ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے کی۔ ان دونوں معاملات میں متعلقہ حکام سے 10 روز کے اندر جواب مانگا گیا۔
ان الگ عدالتی کارروائیوں کی تفصیلات دی نیوز کی 20 اکتوبر کی رپورٹ میں بھی دی گئی ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ وفاقی اقدامات کے بعد ان کی جماعت کے کئی منتخب نمائندوں اور دوسرے افراد کو حراست میں لیا گیا یا ان کے بارے میں معلومات نہیں دی جا رہیں۔
وفاقی وزرا اس سے پہلے سہیل آفریدی اور بعض صوبائی کابینہ اراکین کو حفاظتی حراست میں لیے جانے کی تصدیق کر چکے ہیں۔
تاہم ان افراد کی موجودہ صورتحال، حراست کے حالات اور اس کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات پر مزید سرکاری وضاحت اور عدالتی کارروائی درکار ہے۔
یہ بازیابی کے الگ مقدمات ہیں۔ حکام سے جواب طلب کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے کسی مخصوص حراست کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
اگلی سماعت 10 نومبر کو، اب کیا ہوگا؟
پشاور ہائی کورٹ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف مرکزی درخواستوں کی مزید سماعت 10 نومبر 2026 تک ملتوی کر دی ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ حکام سے آئینی طریقہ کار، حکومتی فیصلے کی وجوہات اور پارلیمنٹ کی بعد میں دی گئی منظوری سے متعلق اعتراضات پر جواب طلب کیا گیا ہے۔
درخواست گزاروں نے مقدمے کے حتمی فیصلے سے پہلے عارضی حکم جاری کرنے کی درخواست بھی کی ہے تاکہ ان کے مطابق متنازع اقدامات کے اثرات کو روکا جا سکے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق عدالت نے کہا کہ وہ اس درخواست کا جائزہ لے کر حکم جاری کرے گی۔ تاہم دستیاب رپورٹنگ میں ایسے تحریری حکم کی تصدیق نہیں ہوئی جس سے یہ ثابت ہو کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
اس وقت یہ سوالات باقی ہیں کہ کیا وفاقی حکومت نے آرٹیکل 232 اور 234 کی شرائط پوری کی تھیں، پارلیمنٹ کی منظوری کا کیا قانونی اثر ہے اور عدالت ان مقدمات میں آئینی پابندیوں کو کس طرح دیکھتی ہے۔
20 اکتوبر کی سماعت کے بعد یہ اختلاف باقاعدہ طور پر عدالت کے سامنے آ گیا ہے، لیکن ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اگلی پیش رفت متعلقہ حکام کے جوابات اور پشاور ہائی کورٹ کے آئندہ احکامات سے سامنے آئے گی۔