ڈان نے 31 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ نورین نیازی کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے واپس کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ اخبار کے مطابق ان کے وکیل نے کہا کہ علاج مکمل ہونے سے پہلے انہیں جیل بھیجا گیا۔ دستیاب ذرائع سے ان کی موجودہ طبی حالت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی۔

وزیر نے سینیٹ کو کیا بتایا؟

ڈان کی سینیٹ اجلاس سے متعلق رپورٹ کے مطابق، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے 30 اکتوبر کو کہا کہ نورین نیازی کو ڈاکٹروں کے مشورے پر اسپتال منتقل کیا گیا اور انہیں ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی تھیں۔ یہ حکومتی مؤقف تھا، آزاد طبی جائزہ نہیں۔

اسپتال منتقلی کے بارے میں کیا معلوم ہے؟

نورین نیازی کے وکیل نے ڈان کو بتایا تھا کہ انہیں 28 اکتوبر کو کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا۔ وکیل کے مطابق یہ منتقلی جیل کے ڈاکٹروں کے مشورے پر ہوئی اور انہیں ہائی بلڈ پریشر تھا۔ ڈان کی رپورٹ میں تشخیص کی تصدیق کے لیے کوئی طبی ریکارڈ شامل نہیں تھا۔

اہلِ خانہ کی ملاقات کے بارے میں کیا کہا گیا؟

چوہدری نے کہا کہ نیازی کے اہلِ خانہ اسپتال میں موجود تھے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ان کے شوہر نے بڑی بیٹی کی ملاقات کے انتظام پر حکومت کا شکریہ ادا کیا تھا۔ سواتی نے چھوٹی بیٹی کو بھی ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

30 اکتوبر کو نیازی کے وکیل نے ڈان کو بتایا کہ اسپتال میں 24 گھنٹے سے زیادہ گزرنے کے باوجود اہلِ خانہ میں سے کسی کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا۔ رپورٹس میں اہلِ خانہ کی ملاقات کے بارے میں مختلف بیانات ہیں، لیکن مکمل اور متفقہ زمانی ترتیب سامنے نہیں آتی۔

لاہور ہائی کورٹ نے کیا ہدایت دی؟

ڈان کے مطابق، لاہور ہائی کورٹ نے 30 اکتوبر کو نورین نیازی کے وکیل کو طبی علاج اور اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے الگ درخواست دائر کرنے کی ہدایت دی۔ دستیاب ذرائع میں عدالتی حکم نامہ شامل نہیں۔ ڈان کی عدالتی کارروائی کی رپورٹ کے مطابق اس وقت عدالت کو معلوم نہیں تھا کہ نیازی اسپتال میں تھیں یا جیل واپس بھیج دی گئی تھیں۔

دستیاب رپورٹس حکام، سینیٹرز اور وکیل سے منسوب بیانات بتاتی ہیں۔ ان سے نورین نیازی کی موجودہ طبی حالت یا اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کے تمام حالات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی۔