سینیٹ کے تازہ ریکارڈ کے مطابق 30 اکتوبر کو پیش کیا گیا اوگرا ترمیمی بل کابینہ سیکریٹریٹ کی قائمہ کمیٹی کے پاس زیرِ غور ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق بل میں گیس کے بعض اخراجات کا سہ ماہی جائزہ تجویز کیا گیا ہے۔ بل کی منسلک اصل فائل براہِ راست تصدیق کے لیے نہیں کھل سکی، اس لیے شقوں کی تفصیل ڈان سے منسوب ہے۔
سہ ماہی جائزے میں کون سے گیس اخراجات شامل ہوں گے؟
ڈان کی بل سے متعلق رپورٹ کے مطابق قدرتی گیس کا لائسنس رکھنے والی کمپنی ہر سہ ماہی اپنی آمدنی کی ضرورت اوگرا کے جائزے کے لیے پیش کرے گی۔ یہ جائزہ صرف کنویں سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمت اور درآمدی گیس، بشمول ری گیسفائیڈ مائع قدرتی گیس یعنی آر ایل این جی، کی لاگت تک محدود ہوگا۔
اوگرا کے جائزے کے بعد کیا ہوگا؟
ڈان کے مطابق اوگرا وفاقی حکومت کو مشورہ دے گا۔ اس کے بعد حکومت 30 دن کے اندر صارفین کے ہر زمرے کے لیے کم از کم چارجز اور فروخت کی قیمتوں کے بارے میں مشورہ دے گی، تاکہ انہیں گزٹ میں نوٹیفائی کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا کچھ یا پورا حصہ اگلے ششماہی جائزے تک مؤخر بھی کر سکے گی۔
کیا اوگرا کی تمام عوامی سماعتیں ختم ہو جائیں گی؟
ڈان کی رپورٹ میں سماعت نہ ہونے کی پابندی صرف مجوزہ دفعہ 8A کے تحت قیمتوں کی نظرثانی سے متعلق ہے۔ رپورٹ یہ نہیں کہتی کہ اوگرا کے ہر فیصلے پر عوامی سماعتیں ختم ہو جائیں گی۔ بل کا مکمل متن دستیاب نہ ہونے کے باعث اس شق کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
بل کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟
سینیٹ کے ریکارڈ میں 30 اکتوبر کے بل کو کابینہ سیکریٹریٹ کی قائمہ کمیٹی کے پاس زیرِ غور درج کیا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق یہ بل منظور ہونے کی صورت میں نافذ ہوگا۔
یہ بل جون کے اوگرا ترمیمی آرڈیننس سے الگ ہے، اگرچہ سینیٹ کے ریکارڈ میں دونوں اندراجات کا عنوان ایک ہی ہے۔ سینیٹ کے بلوں کے ریکارڈ میں 30 اکتوبر کا بل الگ درج ہے، جبکہ آرڈیننس نمبر V سنہ 2026 کی تاریخ اجرا 30 جون اور سینیٹ میں پیش ہونے کی تاریخ 13 اکتوبر درج ہے۔ سینیٹ دونوں اندراجات کو کمیٹی کے زیرِ غور بتاتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے رپورٹ کیا تھا کہ جون کے آرڈیننس نے اوگرا آرڈیننس 2002 کی دفعات 2 اور 3 میں ترمیم کی۔ ڈان کی 30 اکتوبر کی رپورٹ دفعہ 8A اور سماعتوں سے متعلق الگ تجویز بیان کرتی ہے۔