ایف بی آر کے نئے DIRBS قواعد اہل درآمد شدہ موبائل فونز کے سیلز ٹیکس کی قسطوں سے متعلق ہیں۔ ان کا طریقہ کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 06 آف 2026 میں درج ہے، جو 22 اکتوبر 2026 کو جاری ہوا۔ یہ حکم کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 01 آف 2019 میں ترمیم کرتا ہے۔

یہ سہولت اہل درآمد شدہ موبائل فونز کے سیلز ٹیکس سے متعلق ہے۔ اس حکم سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ موبائل رجسٹریشن کے ہر ٹیکس یا چارج کی ادائیگی بھی قسطوں میں ہو سکتی ہے۔

کون لوگ قسطوں کی سہولت لے سکتے ہیں؟

نئے حکم میں کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 01 آف 2019 کی شق A، B اور C میں شامل افراد کا ذکر ہے۔ متعلقہ شرائط ایف بی آر کی اس دستاویز میں دیکھی جا سکتی ہیں، جس میں 2019 کا بنیادی حکم اور بعد کی ترامیم شامل ہیں۔

ان میں بیرون ملک سے اپنے سامان کے ساتھ فون لانے والے مسافر، DIRBS کے ذریعے فون رجسٹر کرانے والے مقامی افراد، اور ڈاک یا کوریئر کے ذریعے فون منگوانے والے افراد شامل ہیں۔

ماہانہ قسطوں کی تعداد کیسے طے ہوگی؟

حکم کے مطابق قسطیں برابر ماہانہ رقم میں ادا کی جائیں گی۔ قسطوں کی تعداد اس مالی سال میں باقی مہینوں کے حساب سے طے ہوگی جس میں فون درآمد کیا گیا ہو۔ درخواست دینے والا مہینہ بھی اس حساب میں شامل ہوگا۔ اس لیے ہر شخص کے لیے قسطوں کی ایک ہی مقررہ تعداد نہیں ہے۔

اگر فون جون میں درآمد کیا جائے تو پورا سیلز ٹیکس اسی جون کے اختتام سے پہلے ادا کرنا ہوگا۔ حکم یہ بھی کہتا ہے کہ آخری قسط 30 جون سے پہلے ادا کی جائے۔

ہر قسط کی ادائیگی کیسے ہوگی؟

ایف بی آر کے حکم کے مطابق، DIRBS پر درخواست دیتے وقت جو پہلا Payment Slip ID (PSID) بنتا ہے، اس کے ذریعے پہلی قسط ادا کی جائے گی۔ PSID ادائیگی کی پرچی کا شناختی نمبر ہے۔

اگلی ہر قسط کے لیے الگ PSID درکار ہوگا۔ یہ نمبر اگلے مہینے کی متعلقہ تاریخ کے لیے بنایا جائے گا۔ اگر کسی مہینے میں وہ تاریخ موجود نہ ہو تو اس مہینے کے آخری دن کے لیے PSID بنایا جائے گا۔

حکم کے مطابق، کوئی بھی قسط یا تمام قسطیں پیشگی ادا کی جا سکتی ہیں۔ درخواست دینے والے کو اپنے PSID اور اس پر درج ادائیگی کی تاریخ کے مطابق رقم جمع کرانی چاہیے۔

قسط وقت پر ادا نہ کرنے کا کیا نتیجہ ہوگا؟

اگر کوئی فرد مقررہ تاریخ تک قسط ادا نہ کرے تو اسے نادہندہ سمجھا جائے گا، یعنی ایسا شخص جس نے وقت پر قسط ادا نہیں کی۔ حکم کے مطابق، فون کو غیر رجسٹرڈ قرار دے کر DIRBS کے ذریعے بلاک کر دیا جائے گا۔

قسط نہ دینے کے بعد باقی تمام واجب الادا سیلز ٹیکس فوری طور پر ادا کرنا ہوگا۔ اس طریقے کے تحت باقی رقم مزید قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت بھی ختم ہو جائے گی۔