انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تصدیق شدہ آخری تاریخ 15 اکتوبر 2026 ہے، جبکہ پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے اسے 2 دسمبر تک بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ 13 اکتوبر کو سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق ٹیکس بار نے آن لائن فائلنگ کے نظام آئرس (IRIS)، ریٹرن فارم اور کم از کم ٹیکس کے بعض حسابات میں مبینہ مسائل کا حوالہ دیا۔ 2 دسمبر کی تاریخ ابھی ایسوسی ایشن کی درخواست ہے، ایف بی آر کی منظور شدہ نئی تاریخ نہیں۔
مزید مہلت کے لیے دوسری درخواستیں بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ان میں مانگی گئی تاریخیں مختلف ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی 13 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن نے 15 نومبر تک توسیع مانگی، جبکہ کراچی ٹیکس بار نے آئرس میں مختلف مسائل اٹھائے۔ یہ الگ درخواستیں اور شکایات ہیں؛ ایف بی آر کے نئے قابلِ اطلاق حکم کے بغیر سرکاری آخری تاریخ تبدیل نہیں ہوتی۔
ایف بی آر نے گوشواروں کے لیے کون سی تاریخ منظور کی ہے؟
ایف بی آر نے 30 ستمبر کو سرکلر نمبر 3 برائے 2026-27 جاری کیا تھا۔ اس کے تحت ٹیکس سال 2026 کے ان گوشواروں کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر کی گئی جنہیں پہلے 30 ستمبر تک جمع کرانا ضروری تھا۔ سرکلر میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 214A کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اس سرکاری دستاویز میں 2 دسمبر کی تاریخ موجود نہیں۔ 15 اکتوبر کو اس رپورٹ کے لیے دیکھے گئے سرکاری ریکارڈز میں 2 دسمبر یا کسی نئی عمومی تاریخ کی منظوری والا ایف بی آر سرکلر نہیں ملا۔ یہ جانچ اسی وقت تک محدود ہے؛ اشاعت سے فوراً پہلے نئے سرکاری اعلان کی تصدیق ضروری ہے، کیونکہ بعد میں جاری ہونے والا حکم خبر کا عنوان اور متن بدل سکتا ہے۔
| تاریخ | کیا حیثیت ہے؟ | وضاحت |
|---|---|---|
| 30 ستمبر 2026 | اصل آخری تاریخ | متعلقہ ٹیکس گزاروں کے لیے پہلے مقرر تھی |
| 15 اکتوبر 2026 | سرکاری طور پر منظور شدہ توسیع | ایف بی آر کے 30 ستمبر کے سرکلر کے مطابق |
| 2 دسمبر 2026 | مزید توسیع کا مطالبہ | ٹیکس بار کی درخواست، منظوری نہیں |
ٹیکس بار مزید مہلت کیوں مانگ رہی ہے؟
پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے خط سے متعلق رپورٹ کے مطابق تنظیم نے ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال سے درخواست کی ہے کہ آن لائن گوشوارے جمع کرانے کے نظام میں آنے والی رکاوٹوں اور فارم کی مبینہ خامیوں کو دور کرنے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 15 دن کی پہلے دی گئی مہلت کافی ثابت نہیں ہوئی۔
شکایات میں غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات درست کرنا اور بینک کھاتوں کے انٹرنیشنل بینک اکاؤنٹ نمبر (IBAN) درج کرنا بھی شامل ہے۔ ٹیکس بار کا دعویٰ ہے کہ ان مسائل پر ایف بی آر اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL) کے متعلقہ حکام سے پہلے بھی رابطے ہوئے۔
یہ شکایات ٹیکس بار کے مؤقف کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آئرس پورٹل ہر ٹیکس گزار کے لیے بند ہے یا تمام گوشواروں میں غلطیاں ہیں۔ تنظیم کا اصل اکتوبر والا خط اور نظام کی آزادانہ تکنیکی جانچ اس رپورٹ کے لیے دستیاب نہیں تھی۔
کم از کم ٹیکس کے حساب پر کیا اعتراض ہے؟
پاکستان ٹیکس بار نے بعض گوشواروں میں کم از کم ٹیکس کے حساب کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے۔ تنظیم کے مطابق ایسے مخصوص معاملات میں جہاں ٹیکس گزار کی کچھ آمدن کم از کم ٹیکس کے نظام کے تحت آتی ہو اور دوسری آمدن الگ ذرائع سے حاصل ہو، آن لائن فارم میں ٹیکس کی رقم درست نہیں نکلتی۔ تنظیم چاہتی ہے کہ فارم کا حساب متعلقہ قانون کے مطابق درست کیا جائے۔
کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے بھی 12 اکتوبر کے ایک الگ خط میں مختلف مسائل اٹھائے۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان میں دفعہ 153 کے تحت کم از کم ٹیکس کا حساب، نظرثانی شدہ گوشواروں کی فائلنگ اور توسیع کی زیرِ التوا درخواستیں بھی شامل ہیں۔ یہ تنظیموں کی نشاندہی کردہ مشکلات ہیں، ایف بی آر کی جانب سے ہر معاملے میں غلطی تسلیم کرنے کا اعلان نہیں۔
کسی ایک ٹیکس گزار کے درست قانونی حساب، اس کی مختلف آمدن اور آئرس کی اصل رپورٹ کے بغیر یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ مبینہ خرابی سے کتنے لوگ متاثر ہوئے یا ٹیکس میں کتنا فرق پڑا۔
کیا 15 اکتوبر کی آخری تاریخ ہر شخص کے لیے ہے؟
نہیں۔ 30 ستمبر کے سرکلر کا دائرہ ان ٹیکس گزاروں تک محدود ہے جن کے گوشوارے پہلے اسی تاریخ تک واجب الادا تھے۔ ایف بی آر کی عمومی مقررہ تاریخوں کے مطابق افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز (AOP) کے لیے عموماً 30 ستمبر کی تاریخ ہوتی ہے۔ بعض خصوصی ٹیکس سال والی کمپنیوں پر بھی یہی تاریخ لاگو ہوتی ہے، جبکہ عام ٹیکس سال والی کمپنیوں کے لیے عمومی تاریخ 31 دسمبر ہے۔ کسی مخصوص ٹیکس گزار پر الگ حکم یا قانونی شرط بھی لاگو ہو سکتی ہے۔
کمپنیوں کی عمومی 31 دسمبر والی تاریخ کو ٹیکس بار کی مانگی گئی 2 دسمبر کی توسیع نہیں سمجھنا چاہیے۔ دیگر ٹیکس ماہرین نے 15 نومبر تک مہلت کی الگ درخواست بھی کی ہے۔ یہ مطالبات ایف بی آر کی نئی سرکاری منظوری نہیں؛ کسی ٹیکس گزار کی حقیقی آخری تاریخ کا تعین قابلِ اطلاق سرکاری حکم اور اس کی صورتِ حال سے ہوگا۔
15 اکتوبر کی آخری تاریخ پر ٹیکس گزار کیا کریں؟
جن ٹیکس گزاروں کے لیے 15 اکتوبر کی تاریخ لاگو ہوتی ہے، وہ کسی نئے قابلِ اطلاق سرکاری حکم کے آنے تک اسی تاریخ کو سامنے رکھیں۔ تازہ معلومات ایف بی آر کی سرکاری ویب سائٹ یا اپنے تصدیق شدہ آئرس اکاؤنٹ سے حاصل کریں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے کسی غیر مصدقہ نوٹیفکیشن کو قانونی مہلت نہ سمجھیں۔
گوشوارہ جمع کرانے کے بعد اپنے تصدیق شدہ آئرس اکاؤنٹ میں اس کی جمع شدہ حیثیت چیک کریں اور دستیاب تصدیقی ثبوت، جمع شدہ گوشوارے کی نقل اور ادائیگی کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ کراچی ٹیکس بار نے بعض ڈاؤن لوڈ ہونے والی رسیدوں سے متعلق مسائل بھی رپورٹ کیے ہیں، اس لیے یہ فرض نہ کریں کہ ہر صورت میں ایسی رسید دستیاب ہوگی۔ کسی حقیقی تکنیکی مشکل کی صورت میں اس کا تاریخ کے ساتھ ریکارڈ محفوظ کریں اور انفرادی توسیع کے قابلِ اطلاق طریقے کے بارے میں ایف بی آر یا مستند ٹیکس مشیر سے رہنمائی لیں۔ ایسی درخواست خودبخود منظور نہیں ہوتی اور تکنیکی مشکل ہونے سے لازماً قانونی نتائج ختم نہیں ہو جاتے۔
فی الحال صورتِ حال واضح ہے: ٹیکس سے وابستہ پیشہ ورانہ تنظیمیں مزید مہلت مانگ رہی ہیں، لیکن 2 دسمبر کو آخری تاریخ بنانے کے لیے ایف بی آر کا باضابطہ فیصلہ درکار ہے۔ اس وقت تک 15 اکتوبر ہی متعلقہ گوشواروں کے لیے آخری تصدیق شدہ توسیعی تاریخ ہے۔