پاکستان کی معیشت میں بہتری آ رہی ہے، لیکن کیا اس بہتری سے عام آدمی کو اچھی نوکری اور بہتر آمدنی بھی مل رہی ہے؟ عالمی بینک کی نئی رپورٹ میں یہی سوال پاکستان کے لیے ایک بڑے مسئلے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
عالمی بینک نے 22 اکتوبر 2026 کو اپنی رپورٹ Pakistan Development Update: Attaining Escape Velocity جاری کی، جس میں مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان کی معاشی ترقی کا اندازہ 3.7 فیصد لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026-27 میں شرح 3.8 فیصد اور 2027-28 میں 4.2 فیصد رہ سکتی ہے۔
لیکن معاشی ترقی کے ان اعداد کے ساتھ عالمی بینک نے روزگار کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً 36 لاکھ پاکستانی کام کرنے کی عمر کو پہنچ رہے ہیں، جبکہ افرادی قوت میں اضافے کے مقابلے میں مناسب اور اچھی تنخواہ والی نوکریاں کم پیدا ہو رہی ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق 2018 کے بعد سے روزگار کی مارکیٹ میں آنے والے تقریباً ہر چھ میں سے ایک نئے شخص کو کام نہیں مل سکا۔ دوسری طرف قومی پیمانے پر پاکستان میں غربت کی شرح 2018-19 کے 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 29 فیصد ہو گئی۔
یہ صورتحال ایک اہم سوال پیدا کرتی ہے: اگر معیشت بڑھ رہی ہے تو لاکھوں لوگوں کو اچھی نوکریاں کیوں نہیں ملتیں اور گھر کے اخراجات پورے کرنا اب بھی مشکل کیوں ہے؟
عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی ترقی کے بارے میں کیا بتایا؟
عالمی بینک کی اصل اکتوبر 2026 کی پاکستان ڈیولپمنٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی معیشت 3.2 فیصد بڑھی تھی۔
رپورٹ میں مالی سال 2025-26 کے لیے ترقی کی شرح 3.7 فیصد بتائی گئی ہے۔ اس کے بعد موجودہ مالی سال 2026-27 میں 3.8 فیصد اور اگلے مالی سال 2027-28 میں 4.2 فیصد ترقی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ 4.2 فیصد پاکستان کی موجودہ شرح نہیں ہے۔ یہ جولائی 2027 سے جون 2028 تک کے مالی سال کے لیے عالمی بینک کا اندازہ ہے۔
عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی معاشی صورتحال میں ہونے والی کچھ بہتری کو تسلیم کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں حکومت کا مجموعی مالیاتی خسارہ GDP کے اندازاً 2.6 فیصد تک محدود ہوا، جبکہ قرضوں کے سود کو نکال کر دیکھا جائے تو حکومتی آمدنی اور اخراجات کے حساب میں 2.9 فیصد کا بنیادی سرپلس رہا۔
بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا بہتر اعتماد بھی معاشی استحکام کا حصہ رہے ہیں۔
عالمی بینک نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے اور ستمبر 2026 میں تین ارب امریکی ڈالر کے Eurobond کے ذریعے عالمی قرض مارکیٹ سے رقم حاصل کرنے کا بھی ذکر کیا ہے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق معاشی بحران پر قابو پانا اور ملک میں مسلسل زیادہ ترقی حاصل کرنا دو الگ کام ہیں۔ پاکستان کو ایسی ترقی کی ضرورت ہے جس سے سرمایہ کاری بڑھے، کاروبار بہتر کام کریں اور لوگوں کے لیے مناسب روزگار پیدا ہو۔
اگر بڑی معاشی اصلاحات محدود رہیں تو عالمی بینک کے بنیادی اندازے کے مطابق آنے والے سالوں میں ترقی تقریباً 4.5 فیصد کے قریب رہ سکتی ہے۔
ہر سال 36 لاکھ افراد کام کرنے کی عمر کو پہنچتے ہیں، اس کا کیا مطلب ہے؟
پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور ہر سال لاکھوں افراد اس عمر میں پہنچتے ہیں جہاں وہ روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔
عالمی بینک کی نئی رپورٹ کے ابتدائی حصے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ہر سال تقریباً 36 لاکھ پاکستانی کام کرنے کی عمر کو پہنچ رہے ہیں۔
اسی رپورٹ کے صفحہ 6 پر ایک الگ حساب دیا گیا ہے کہ 2018 کے بعد سے پاکستان کی افرادی قوت میں اوسطاً تقریباً 36 لاکھ افراد سالانہ کا اضافہ ہوا ہے۔
یہ دونوں اعداد دیکھنے میں ایک جیسے ہیں، مگر ان کا مطلب مختلف ہے۔
کام کرنے کی عمر کو پہنچنے والا ہر شخص ضروری نہیں کہ اسی وقت نوکری ڈھونڈ رہا ہو۔ افرادی قوت میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو کام کر رہے ہوں یا باقاعدہ کام تلاش کر رہے ہوں۔
اس لیے 36 لاکھ کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں اس وقت 36 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں۔
عالمی بینک کی پاکستان سے متعلق ویب سائٹ پر بھی روزگار کی مارکیٹ میں شامل ہونے والوں کی تعداد کا ایک مجموعی اندازہ تقریباً 35 لاکھ سالانہ بتایا گیا ہے۔ یہ ایک الگ، قدرے گول کیا گیا عدد ہے۔
عالمی بینک کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ کام تلاش کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن نئی نوکریوں کی رفتار اتنی تیز نہیں رہی۔
رپورٹ کے مطابق 2018 کے بعد سے روزگار کی مارکیٹ میں آنے والے تقریباً ہر چھ میں سے ایک شخص کو کام نہیں مل سکا۔
اس کمی کا اثر خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین پر پڑا۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
جب ملازمتیں ضرورت کے مطابق نہ بڑھیں تو بعض افراد کو طویل عرصہ نوکری تلاش کرنا پڑتی ہے، جبکہ کچھ لوگ کم آمدنی یا غیر مستقل کام قبول کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے پاکستان کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا آنے والے کئی سالوں کی ایک بڑی معاشی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ایک کروڑ 77 لاکھ نوکریاں بنیں، پھر تنخواہیں کمزور کیوں رہیں؟
عالمی بینک کے مطابق 2018 کے بعد سے پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 77 لاکھ خالص نئی نوکریاں پیدا ہوئی ہیں۔
یہ تعداد ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں روزگار بالکل رکا ہوا نہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ان ملازمتوں کی بڑی تعداد کم تنخواہ اور کم پیداواری صلاحیت والے شعبوں میں پیدا ہوئی۔
عالمی بینک کی پاکستان سے متعلق ویب سائٹ پر ان میں غیر رسمی ملازمتوں اور خود روزگار کا بھی ذکر ہے۔
غیر رسمی روزگار سے مراد ایسا کام ہے جس میں اکثر مستقل معاہدہ، تنخواہ کی ضمانت، کام کا تحفظ یا ترقی کے واضح مواقع موجود نہیں ہوتے۔
مثال کے طور پر کوئی شخص روزانہ مزدوری یا چھوٹا ذاتی کام کرکے گھر چلا سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اسے ہر ماہ ایک جیسی آمدنی حاصل ہو یا وہ مہنگائی کے مطابق اپنے کام سے زیادہ پیسے کما سکے۔
عالمی بینک کے مطابق 2014 سے 2024 کے دوران پاکستان میں ہر کارکن کے کام سے حاصل ہونے والی مجموعی پیداوار میں اوسط سالانہ اضافہ صرف 0.4 فیصد رہا۔
اسے پیداواری صلاحیت کہا جاتا ہے۔ جب کارکنوں اور کاروباروں کی پیداواری صلاحیت بہت آہستہ بڑھتی ہے تو تنخواہوں میں مستقل اضافہ کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق 2018-19 سے 2024-25 کے دوران مہنگائی کو سامنے رکھنے کے بعد حقیقی تنخواہوں کی قدر میں اوسطاً 3.4 فیصد سالانہ کمی ہوئی۔
سادہ الفاظ میں، کسی شخص کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ روپے مل رہے ہوں، لیکن اگر کھانے پینے کی چیزیں، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور کرایہ زیادہ تیزی سے مہنگے ہو جائیں تو اس کی خریدنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نوکری ہونے کے باوجود بہت سے گھرانوں کے لیے ضروری اخراجات پورے کرنا مشکل رہ سکتا ہے۔
پاکستان کو صرف نئی نوکریوں کی تعداد نہیں بڑھانی، بلکہ ایسی ملازمتیں بھی پیدا کرنی ہیں جن سے لوگوں کی آمدنی اور مستقبل کے مواقع بہتر ہوں۔
پاکستان میں غربت 22 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد کیسے ہوئی؟
عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی Poverty and Equity Brief کے مطابق پاکستان میں قومی غربت کی شرح 2018-19 میں 22 فیصد تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی۔
عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ اس قومی پیمانے کے مطابق پاکستان میں تقریباً سات کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں۔
اس اضافے کے پیچھے کئی بڑے معاشی اور قدرتی واقعات رہے ہیں۔
کورونا وبا نے روزگار اور کاروباروں کو متاثر کیا۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے لاکھوں گھرانوں، فصلوں، رہائش اور آمدنی کے ذرائع کو شدید نقصان پہنچایا۔
اس کے بعد بلند مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور معاشی مشکلات نے لوگوں کے روزمرہ اخراجات مزید بڑھا دیے۔
کم آمدنی والے گھرانوں پر ان حالات کا اثر زیادہ پڑا کیونکہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک، رہائش، بجلی اور دوسری ضروری چیزوں پر خرچ ہوتا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق غربت میں اضافہ پاکستان کے مختلف صوبوں، شہروں اور دیہی علاقوں میں دیکھا گیا۔
رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ غربت بڑھنے کی ایک بڑی وجہ مختلف گھرانوں کے درمیان کھپت اور وسائل کی تقسیم میں بگاڑ تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت کے مجموعی حجم میں اضافہ ہونے کے باوجود ضروری نہیں کہ اس ترقی کا فائدہ تمام لوگوں تک برابر پہنچے۔
یہاں 22 اور 29 فیصد کے اعداد پاکستان میں غربت ناپنے کے قومی پیمانے کے مطابق ہیں۔ انہیں عالمی بینک کی روزانہ تین ڈالر والی بین الاقوامی غربت کی حد سے الگ سمجھنا چاہیے۔
خطے کے 48 فیصد انتہائی غریب افراد پاکستان میں ہونے کا مطلب کیا ہے؟
اکتوبر 2026 کے شروع میں عالمی بینک کی ایک الگ علاقائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ MENAAP نامی خطے میں انتہائی غربت کی مقررہ بین الاقوامی حد سے نیچے زندگی گزارنے والے تقریباً 48 فیصد افراد پاکستان میں رہتے ہیں۔
MENAAP میں مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان شامل ہیں۔ عالمی بینک نے اپنی علاقائی رپورٹنگ میں پاکستان کو اس گروپ میں شامل کیا ہے۔
یہ نتیجہ عالمی بینک کی رپورٹ From Divide to Opportunity: AI, Jobs, and Growth میں سامنے آیا تھا، جس کی تفصیلات ڈان نے 7 اکتوبر کو بھی شائع کی تھیں۔
اس رپورٹ میں روزانہ تین امریکی ڈالر کی بین الاقوامی غربت کی حد استعمال کی گئی ہے۔ یہ حساب مختلف ملکوں میں اشیا کی قیمتوں کے فرق کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔
اسے موجودہ ڈالر ریٹ کے مطابق پاکستانی روپوں میں تبدیل کرکے روزانہ کی عام کمائی سمجھ لینا درست نہیں۔
یہاں ایک اور اہم فرق ہے۔ 48 فیصد کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی اپنی 48 فیصد آبادی اس مخصوص غربت کی حد سے نیچے رہتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے MENAAP خطے میں اس حد سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی مجموعی تعداد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں موجود ہیں۔
اسی رپورٹ کے مطابق افغانستان، شام اور یمن میں مجموعی طور پر ایسے مزید تقریباً 47 فیصد افراد رہتے ہیں۔
پاکستان کی بڑی آبادی اس کے علاقائی حصے کو بڑھانے کی ایک اہم وجہ ہے، لیکن عالمی بینک نے پاکستان کے اندر غربت میں اضافے کی بھی نشاندہی کی ہے۔
اس لیے پاکستان کی قومی غربت کے 22 سے 29 فیصد والے اعداد اور MENAAP کے 48 فیصد والے عدد کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔
48 فیصد والا نتیجہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں سامنے آیا تھا۔ یہ 22 اکتوبر کی نئی پاکستان ڈیولپمنٹ رپورٹ میں پہلی بار جاری ہونے والا عدد نہیں ہے۔
پاکستانی حکومت نے عالمی بینک کی غربت والی رپورٹ پر کیا جواب دیا؟
پاکستانی حکام نے عالمی بینک کی علاقائی غربت والی رپورٹ کے کچھ نتائج کی تشریح پر سوال اٹھائے ہیں، جبکہ معیشت میں ہونے والی بہتری کو بھی نمایاں کیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اکتوبر کے شروع میں کہا تھا کہ پاکستان کو MENAAP کے گروپ میں شامل کرنا انتظامی اور اعداد و شمار سے متعلق تبدیلی ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان جیسے بڑی آبادی والے ملک کو کسی نئے علاقائی گروپ میں شامل کرنے سے پورے علاقے کے مجموعی اعداد و شمار تبدیل ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان کی جغرافیائی شناخت نہیں بدلتی اور نہ ہی صرف گروپ بدلنے سے اچانک ملک کی حقیقی معاشی صورتحال تبدیل ہوتی ہے۔
ان کے مطابق غربت کا درست موازنہ کرنے کے لیے ایک جیسے سال، ایک ہی غربت کی حد اور الگ ملکوں کے قابلِ اعتماد اعداد و شمار استعمال کیے جانے چاہئیں۔
حکومت کا یہ مؤقف 48 فیصد کے علاقائی حصے کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ تاہم اس سے پاکستان کے اندر قومی غربت کی شرح 2018-19 کے 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 کے 29 فیصد ہونے والا الگ نتیجہ ختم نہیں ہوتا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی اکتوبر میں IMF اور عالمی بینک کے اجلاسوں کے دوران پاکستان میں بڑھتی غربت کے مسئلے کو تسلیم کیا۔
عرب نیوز پاکستان کی 16 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، مخصوص طبقوں کے لیے مالی مدد اور روزگار بڑھانے کی کوششوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے سرمایہ کاری، برآمدات، تعلیم اور ہنر کی بہتری کو غربت میں مستقل کمی کے لیے اہم قرار دیا۔
22 اکتوبر کو پاکستان کی نئی معاشی رپورٹ جاری ہونے کے بعد خرم شہزاد نے عالمی بینک کی جانب سے حکومتی مالیاتی نظم و ضبط، ترسیلاتِ زر، معاشی استحکام اور اصلاحات میں پیش رفت کو تسلیم کیے جانے پر بھی بات کی۔
یہ مؤقف APP کی 22 اکتوبر کی خبر میں سامنے آیا۔
حکومت کے یہ بیانات مختلف معاملات سے متعلق ہیں: ایک علاقائی غربت کے اعداد و شمار کی تشریح، دوسرا عوام کی معاشی مشکلات، اور تیسرا ملک میں استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات۔
عالمی بینک نے معاشی بہتری کو تسلیم کیا ہے، مگر ساتھ ہی روزگار اور غربت میں بہتری کے لیے مزید اصلاحات پر زور دیا ہے۔
IMF پروگرام اور اگلے قومی انتخابات کا ذکر کیوں اہم ہے؟
عالمی بینک کی رپورٹ میں پاکستان کے IMF پروگرام کے آخری مرحلے اور اگلے قومی انتخابات کے تناظر میں حکومتی اخراجات اور قرض سے متعلق خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں ستمبر 2027 کو IMF پروگرام کے اختتامی مرحلے کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور اگلے قومی انتخابات کے لیے 2029 کے شروع کا وقت استعمال کیا گیا ہے۔
لیکن IMF کے اپنے سرکاری ریکارڈ میں آخری طے شدہ جائزے سے متعلق تاریخ اور پروگرام کے باقاعدہ ختم ہونے کی تاریخ الگ ہیں۔
IMF کی سرکاری جائزہ اور ادائیگی کی جدول کے مطابق EFF پروگرام کے چھٹے اور آخری طے شدہ جائزے سے متعلق رقم کی دستیابی کی تاریخ 15 ستمبر 2027 رکھی گئی ہے۔ یہ متعلقہ شرائط پوری ہونے اور جائزہ منظور ہونے سے مشروط ہے۔
دوسری طرف IMF کے سرکاری قرض ریکارڈ میں اس پروگرام کے باقاعدہ ختم ہونے کی تاریخ 24 اکتوبر 2027 درج ہے۔
اس لیے 15 ستمبر کو آخری رقم لازمی ملنے کی تاریخ یا پروگرام کے باقاعدہ ختم ہونے کا دن کہنا درست نہیں ہوگا۔
عالمی بینک کی اصل تشویش یہ ہے کہ پاکستان آنے والے سالوں میں حکومتی آمدنی، اخراجات اور قرض کے معاملات کو کس طرح سنبھالے گا۔
رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ مجموعی مالیاتی خسارہ 2025-26 میں GDP کے 2.6 فیصد سے بڑھ کر 2026-27 میں 3.5 فیصد اور 2027-28 میں 4 فیصد ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انتخابات کے قریب حکومتی اخراجات بڑھنے کا دباؤ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں بعض انتخابی ادوار میں دیکھا گیا ہے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی بینک نے حکومت پر انتخابات سے پہلے جان بوجھ کر معاشی ترقی کے اعداد بدلنے یا مصنوعی ترقی پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اسی طرح 2027-28 کے لیے 4.2 فیصد معاشی ترقی کی پیش گوئی کو صرف انتخابی اخراجات کا نتیجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
رپورٹ میں 2029 کے شروع کا وقت انتخابات کے لیے استعمال ہوا ہے، مگر اسے حتمی سرکاری پولنگ تاریخ نہیں سمجھنا چاہیے۔
عالمی بینک نے حکومت کو کئی سالوں کی واضح مالی منصوبہ بندی کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ معاشی استحکام برقرار رہے اور قرض کا بوجھ قابو میں رکھا جا سکے۔
کیا پاکستان کی معاشی ترقی 6 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے؟
عالمی بینک کے مطابق اگر پاکستان اپنے معاشی نظام اور سرکاری اداروں میں بڑی اصلاحات کرے تو مستقبل میں ترقی کی رفتار موجودہ اندازوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں دو ایسے ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں پالیسیوں اور اداروں کی بہتری کو زیادہ معاشی ترقی سے جوڑا گیا ہے۔
پہلے منظرنامے کے مطابق اگر پاکستان سات سال میں اپنے اداروں اور پالیسیوں کے معیار کو بہتر بنا کر زیادہ ترقی یافتہ درمیانی آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں موجود فرق کا نصف ختم کر دے تو سالانہ ترقی تقریباً 4.5 فیصد سے بڑھ کر 6.2 فیصد ہونے سے منسلک ہو سکتی ہے۔
دوسرے منظرنامے میں اگر اسی نوعیت کی بہتری پانچ سال میں حاصل کر لی جائے تو سالانہ ترقی تقریباً 6.9 فیصد ہونے سے منسلک ہو سکتی ہے۔
لیکن یہ دونوں اعداد پاکستان کے لیے یقینی پیش گوئیاں نہیں ہیں۔
عالمی بینک نے مختلف ملکوں کے معاشی تجربات اور حسابی ماڈلز کی مدد سے یہ نتائج تیار کیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ انہیں اصلاحات اور معاشی ترقی کے درمیان تعلق سمجھنے کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ مستقبل کی پکی شرح سمجھ لیا جائے۔
عام حالات کے لیے عالمی بینک کی درمیانی مدت کی بنیادی پیش گوئی اس سے کم، تقریباً 4.5 فیصد ہے۔
APP کی 22 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ مسلسل اور مؤثر اصلاحات سے پاکستان 2050 تک فی کس آمدنی میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے اور کچھ ایسے ملکوں کی موجودہ آمدنی کی سطح تک پہنچ سکتا ہے جو آج پاکستان سے آگے ہیں۔
لیکن یہ طویل مدت کا ایک مشروط امکان ہے۔ صرف ایک یا دو سال کی تیز معاشی ترقی سے ایسا نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔
اس کے لیے کئی سال تک سرمایہ کاری، کاروباری ماحول، تعلیم اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانا ضروری ہوگا۔
عالمی بینک پاکستان کو کن شعبوں میں اصلاحات کا مشورہ دے رہا ہے؟
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں زیادہ اور مستقل معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے ایسی تبدیلیاں ضروری ہیں جو کاروباروں کو زیادہ پیداوار اور نئی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد دیں۔
اس سلسلے میں بجلی کا شعبہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مہنگی بجلی، تقسیم کے نظام میں نقصانات اور مالی مسائل صنعتوں اور دوسرے کاروباروں کے اخراجات بڑھاتے ہیں۔
عالمی بینک بجلی کی ترسیل اور تقسیم میں بہتر کارکردگی، نجی شعبے کی شرکت اور مالی نقصانات کم کرنے پر زور دیتا ہے۔
اگر کاروباروں کو قابلِ اعتماد اور مناسب قیمت پر بجلی ملے تو ان کے لیے پیداوار بڑھانا اور بیرونی منڈیوں میں مقابلہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے قوانین آسان بنانے، غیر ضروری سرکاری رکاوٹیں کم کرنے اور سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
ٹیکس کے نظام میں تبدیلی کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے، تاکہ حکومت زیادہ مؤثر اور منصفانہ طریقے سے آمدنی حاصل کر سکے۔ اس میں زرعی آمدنی اور جائیداد سے متعلق ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
برآمدات بڑھانے کے لیے کاروباروں کو بہتر سہولتیں، قرض، بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے میں مدد اور تجارت کے آسان طریقے فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
تعلیم اور کام کرنے کی مہارتوں پر بھی خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر نوجوانوں کو وہ تربیت نہ ملے جس کی کاروباروں کو ضرورت ہے تو نئی نوکریاں پیدا ہونے کے باوجود مناسب روزگار حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
عالمی بینک نے ملازمتوں سے متعلق بہتر معلومات، پیشہ ورانہ قابلیت کے معیار اور بیرون ملک روزگار حاصل کرنے کے طریقے آسان بنانے کی تجاویز بھی دی ہیں۔
اسی طرح خواتین کو روزگار میں زیادہ حصہ لینے کے مواقع، چھوٹے کاروباروں کے لیے مالی سہولتیں اور سرکاری اداروں کی بہتر کارکردگی بھی معاشی ترقی میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
عالمی بینک کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ صرف حکومتی خرچ بڑھانے یا قرض سستا کرنے سے مستقل ترقی حاصل نہیں ہوگی۔ کاروباروں کی پیداوار، مسابقت اور کارکنوں کی صلاحیت بہتر بنانا ضروری ہے۔
پاکستان کی معاشی بحالی کو آگے کون سے خطرات ہیں؟
عالمی بینک نے آئندہ معاشی ترقی کی توقع کے ساتھ کئی ایسے خطرات بھی بیان کیے ہیں جو صورتحال خراب کر سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی زیادہ عرصہ جاری رہنے سے عالمی منڈی میں تیل، گیس، سامان کی ترسیل اور کاروباری اخراجات بلند رہ سکتے ہیں۔
پاکستان توانائی درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتیں بڑھنے سے ملک میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
تجارتی راستوں میں رکاوٹ یا بیرونی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی طلب کم ہونے سے برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
عالمی بینک نے El Niño جیسے موسمی حالات کو بھی خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ موسم میں ایسی تبدیلیوں سے منسلک ہے جو بعض علاقوں میں شدید گرمی، کم بارش یا غیر معمولی بارشوں کا سبب بن سکتی ہیں۔
اگر زرعی پیداوار متاثر ہو تو خوراک مہنگی ہو سکتی ہے اور دیہی گھرانوں کی آمدنی کم ہو سکتی ہے۔
عالمی بینک نے ایک الگ ممکنہ صورتحال میں بتایا کہ اگر 2026-27 میں فصلوں کی پیداوار میں کوئی اضافہ نہ ہو تو مجموعی معاشی ترقی کا اندازہ 3.8 فیصد سے کم ہو کر 3.6 فیصد تک آ سکتا ہے۔
یہ خطرے کی صورت میں کیا گیا حساب ہے، عالمی بینک کی اصل معاشی پیش گوئی نہیں۔
خوراک کی قیمتیں بڑھنے سے کم آمدنی والے گھرانے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ کھانے پینے کی ضروری چیزوں پر خرچ ہوتا ہے۔
حکومتی قرض اور بیرونی ادائیگیوں کی ضرورت بھی پاکستان کے لیے چیلنج ہے۔ بار بار معاشی یا قدرتی جھٹکے آنے کی صورت میں حکومت کے لیے ضروری اخراجات اور اصلاحات کے لیے رقم نکالنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
معاشی ترقی بڑھ رہی ہے تو عام آدمی کی زندگی کب بہتر ہوگی؟
عالمی بینک کی نئی رپورٹ پاکستان کی معیشت کی دو الگ تصویریں سامنے لاتی ہے۔
ایک طرف مالیاتی صورتحال، زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام میں بہتری آئی ہے۔ دوسری طرف اچھی نوکریوں کی کمی، حقیقی تنخواہوں میں کمی اور بڑھتی ہوئی غربت بہت سے پاکستانی گھرانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
GDP کی شرح بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی مجموعی معاشی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اس سے یہ خودبخود معلوم نہیں ہوتا کہ کتنے لوگوں کو مناسب ملازمت ملی، ان کی تنخواہ سے کتنی ضروری چیزیں خریدی جا سکتی ہیں یا غربت میں کتنی کمی ہوئی۔
پاکستان میں لاکھوں نوکریاں ضرور پیدا ہوئی ہیں، مگر ان میں بہت سا کام کم آمدنی اور محدود مواقع والا رہا ہے۔ دوسری طرف مہنگائی اور دوسرے معاشی بحرانوں نے گھرانوں کی خریدنے کی طاقت متاثر کی ہے۔
عالمی بینک یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان کی معاشی بحالی بے فائدہ رہی ہے یا 4.2 فیصد ترقی سے کوئی نئی نوکری پیدا نہیں ہوگی۔
اس کی اصل تشویش یہ ہے کہ معیشت میں آنے والے استحکام کو ایسی مستقل ترقی میں بدلنا ہوگا جس سے زیادہ اچھی نوکریاں پیدا ہوں، تنخواہوں کی حقیقی قدر بڑھے اور غربت کم ہو۔
عام پاکستانی کے لیے معاشی بہتری کا اصل فائدہ تب ہوگا جب اسے مناسب روزگار ملے، گھر کے اخراجات پورے کرنا آسان ہو اور آنے والے وقت کے لیے کچھ بچت بھی ممکن ہو۔
پاکستان کی معاشی کامیابی کا اہم امتحان یہی ہوگا کہ آنے والے برسوں میں بہتر معاشی اعداد و شمار لوگوں کی روزمرہ زندگی میں کتنی حقیقی بہتری لا سکیں گے۔