وفاقی حکومت نے وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت ہاؤسنگ قرض لینے والوں کے لیے جائیداد کے کاغذات کی شرط آسان بنانے کا اعلان کیا ہے۔ نئی ہدایات کے تحت بینکوں کو جائیداد کی ملکیت اور اسے قرض کے بدلے گروی رکھنے سے متعلق مقررہ فہرست کے مطابق کاغذات حاصل کرنے ہوں گے۔

وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے 18 اکتوبر کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ضروری جائیداد کے کاغذات کی تعداد کم کرکے پانچ کر دی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد قرض کے لیے غیر ضروری کاغذی کارروائی اور تاخیر کم کرنا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے APP کے مطابق اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے لیے باقاعدہ ہدایات جاری کی ہیں۔ مرکزی بینک نے 9 اکتوبر 2026 کو ہاؤسنگ فنانس کے ضابطے HF-7 میں تبدیلی کی تھی۔

تاہم اس اعلان کا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص صرف پانچ کاغذات جمع کرا کے قرض حاصل کر سکتا ہے۔ اصل میں یہ تبدیلی جائیداد کی ملکیت اور گروی رکھنے سے متعلق دستاویزات کی ہے۔ بینک درخواست دینے والے کی شناخت، آمدن، قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور دوسری ضروری شرائط بھی چیک کرے گا۔

اپنا گھر اسکیم میں کون سے پانچ کاغذات درکار ہو سکتے ہیں؟

اسٹیٹ بینک نے مختلف قسم کے پلاٹوں اور گھروں کے لیے الگ فہرستیں مقرر کی ہیں۔ مثال کے طور پر کسی شہری ترقیاتی ادارے یا ہاؤسنگ سوسائٹی میں موجود خالی پلاٹ پر گھر بنانے کے لیے قرض لیا جائے تو اس کی متعلقہ فہرست میں پانچ کاغذات شامل ہیں:

  1. الاٹمنٹ یا ٹرانسفر لیٹر: ایسا خط جس سے ثابت ہو کہ پلاٹ پہلے کس کے نام الاٹ ہوا تھا یا بعد میں کس کے نام منتقل کیا گیا۔
  2. قبضے کا سرٹیفکیٹ یا خط: متعلقہ ادارے کی تصدیق کہ پلاٹ کا قبضہ مالک کو دیا جا چکا ہے۔
  3. سائٹ پلان: ایسا نقشہ جس سے پلاٹ کی جگہ اور اس کے اردگرد کا علاقہ معلوم ہو سکے۔
  4. Permission to Mortgage (PTM): ہاؤسنگ سوسائٹی یا متعلقہ ادارے کی طرف سے جائیداد کو قرض کے بدلے گروی رکھنے کی اجازت۔
  5. لین مارکنگ لیٹر: جائیداد کے ریکارڈ میں بینک کے مالی حق کا اندراج ظاہر کرنے والا خط، جہاں یہ طریقہ لاگو ہو۔

یہ ایک خاص قسم کے خالی پلاٹ کی مثال ہے، تمام جائیدادوں کے لیے ایک جیسی فہرست نہیں۔ مکمل تعمیر شدہ گھر، اپارٹمنٹ، DHA کے پلاٹ اور دیہی زمین کے لیے مختلف کاغذات درکار ہو سکتے ہیں۔

وزارت ہاؤسنگ کے اعلان میں بھی ٹرانسفر اور قبضے کے خطوط، سائٹ پلان، جائیداد گروی رکھنے کی اجازت اور گروی کے اندراج سے متعلق دستاویزات کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ جائیداد کا باقاعدہ گروی اندراج اور لین مارکنگ ایک ہی طریقہ نہیں ہیں۔ قرض کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے گا، یہ متعلقہ قواعد اور جائیداد کی قسم پر منحصر ہے۔

کیا DHA، ہاؤسنگ سوسائٹی اور دیہی زمین کے لیے شرائط ایک جیسی ہیں؟

نہیں۔ اسٹیٹ بینک کی نئی فہرستوں میں خالی پلاٹ، زیر تعمیر مکان اور مکمل تعمیر شدہ گھر کے لیے الگ شرائط موجود ہیں۔

ان میں شہری ترقیاتی اداروں، نجی ہاؤسنگ اسکیموں، DHA، ریونیو ریکارڈ والی زمین، کنٹونمنٹ کی جائیداد، دیہی زمین اور بعض سرکاری ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے مختلف کاغذات شامل ہیں۔

مثال کے طور پر بعض زیر تعمیر یا مکمل گھروں کے لیے منظور شدہ تعمیراتی نقشہ درکار ہو سکتا ہے۔ مکمل گھر کی صورت میں، جہاں متعلقہ قواعد لاگو ہوں، تعمیر مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی مانگا جا سکتا ہے۔

زمین کے سرکاری ریکارڈ والی جائیداد کے لیے رجسٹری، فرد ملکیت، زمین کا نقشہ یا دیگر مقررہ ریکارڈ ضروری ہو سکتا ہے۔

اس لیے درخواست دینے سے پہلے اپنے بینک سے یہ معلوم کریں کہ آپ کے پلاٹ یا مکان پر کون سی فہرست لاگو ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود ایک عام پانچ کاغذات کی فہرست ہر جائیداد کے لیے درست نہیں ہو سکتی۔

ڈان کی 19 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق نئے قواعد میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا بھی ذکر ہے۔

اگر پنجاب حکومت یا کسی دوسرے صوبے کا متعلقہ ادارہ ایسا قابل قبول سرٹیفکیٹ جاری کرے جس سے جائیداد کی ملکیت اور قبضے کی تصدیق ہو جائے تو بعض پرانے خاندانی یا ملکیتی ریکارڈ الگ سے پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ تاہم قرض کی دوسری شرائط پھر بھی پوری کرنا ہوں گی۔

اسٹیٹ بینک کی نئی ہدایات میں کیا تبدیلی آئی ہے؟

اسٹیٹ بینک کے 9 اکتوبر کے سرکلر کے مطابق بینک اور ترقیاتی مالیاتی ادارے ہاؤسنگ قرض کے لیے جائیداد کی ملکیت اور گروی رکھنے سے متعلق وہی کاغذات حاصل کریں گے جو ضابطے کے ساتھ دی گئی فہرست میں درج ہیں۔

یہ ہدایات ہاؤسنگ فنانس کے عمومی قواعد میں تبدیلی ہیں، جبکہ وفاقی حکومت نے ان کا ذکر خاص طور پر وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے حوالے سے کیا ہے۔

ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ بینک کو جمع کرائے گئے جائیداد کے کاغذات کی دستخط شدہ رسید دینا ہوگی۔ اس پر یہ بھی درج ہوگا کہ بینک نے کون کون سی دستاویزات وصول کی ہیں۔

اس سے قرض لینے والے کے پاس اپنے جمع کرائے گئے کاغذات کا تحریری ریکارڈ موجود رہے گا۔

اسٹیٹ بینک نے 50 لاکھ روپے تک کے ہاؤسنگ قرض کے لیے ایک اور سہولت بھی دی ہے۔ بینک بعض صورتوں میں متعلقہ سرکاری لینڈ ریکارڈ میں اپنا مالی حق درج کروا کر قرض کی رقم محفوظ بنا سکتا ہے۔ اسے لین مارکنگ کہا جاتا ہے۔

یہ بینک کو دیا گیا ایک اختیار ہے، ہر درخواست گزار کے لیے لازمی سہولت نہیں۔

50 لاکھ روپے کی یہ حد صرف قرض کی ضمانت کے ایک خاص طریقے سے متعلق ہے۔ اپنا گھر اسکیم میں زیادہ سے زیادہ قرض کی حد ایک کروڑ روپے ہے۔

اسٹیٹ بینک نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کی دوسری قابل اطلاق ہدایات برقرار رہیں گی۔ اس لیے آمدن کا ثبوت، شناختی معلومات اور قرض کی جانچ کے دوسرے مراحل ختم نہیں ہوئے۔

کیا اپنا گھر اسکیم میں 15 دن کے اندر قرض مل جائے گا؟

نہیں، ہر درخواست دینے والے کو 15 دن میں قرض کی رقم ملنے کی ضمانت نہیں دی گئی۔

اسٹیٹ بینک کے 28 اپریل 2026 کے سرکلر کے مطابق متعلقہ بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی کو مکمل درخواست اور ضروری معلومات وصول ہونے کے بعد 15 کام کے دنوں میں قرض کی منظوری سے متعلق کارروائی مکمل کرنا ہوگی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بینک کو مقررہ مدت میں قرض کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا عمل مکمل کرنا ہے۔ یہ شرط ہر درخواست منظور کرنے یا فوراً رقم جاری کرنے کی ضمانت نہیں ہے۔

اگر درخواست میں ضروری معلومات موجود نہ ہوں تو 15 کام کے دنوں کی گنتی مکمل درخواست موصول ہونے سے شروع ہوگی۔

منظوری کے بعد بھی جائیداد کی تصدیق، گروی رکھنے کا عمل اور رقم جاری کرنے کی دوسری شرائط پوری کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔

اسی اپریل کے سرکلر کے مطابق درخواست گزار کی تمام متعلقہ ماہانہ قرض اقساط، نئے ہاؤسنگ قرض سمیت، اس کی قرض کی ادائیگی کے لیے دستیاب خالص آمدن کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہییں۔

اپنا گھر اسکیم میں کتنا قرض مل سکتا ہے؟

وفاقی حکومت کا وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، گھر ہو تو اپنا ایسے اہل افراد کے لیے ہے جو پہلی بار اپنا گھر خریدنا یا تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

سرکاری شرائط کے مطابق درخواست دینے والے کے پاس درست شناختی کارڈ ہونا چاہیے اور اسے گھر کی ملکیت سمیت پروگرام کی دیگر اہلیتی شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔ بینک کی جانچ بھی لاگو ہوگی۔

اسکیم کی سرکاری ویب سائٹ پر درج اہم تفصیلات یہ ہیں:

  • زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے تک ہاؤسنگ قرض۔
  • قرض واپس کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 20 سال کی مدت۔
  • پہلے 10 سال کے لیے 5 فیصد رعایتی شرح منافع۔
  • اس کے بعد باقی مدت کے لیے مارکیٹ کے مطابق شرح منافع۔
  • اہل جائیداد کی قیمت کا 90 فیصد تک بینک سے قرض، جبکہ 10 فیصد درخواست گزار کی اپنی رقم۔
  • 10 مرلے تک کے اہل گھر کی خریداری یا تعمیر، اور 1,500 مربع فٹ تک کے اپارٹمنٹ کے لیے قرض۔
  • شرائط پوری ہونے پر پلاٹ خریدنے کے ساتھ گھر تعمیر کرنے کے لیے بھی فنانسنگ۔

سرکاری معلومات کے مطابق پروگرام میں پراسیسنگ فیس اور وقت سے پہلے قرض واپس کرنے کا جرمانہ نہیں رکھا گیا۔ تاہم درخواست گزار کو جائیداد، قانونی کارروائی اور قرض سے متعلق دیگر قابل اطلاق اخراجات کی تفصیل بینک سے معلوم کرنی چاہیے۔

یہ وفاقی حکومت کا پروگرام ہے اور پنجاب حکومت کی الگ اسکیم 'اپنی چھت اپنا گھر' سے مختلف ہے۔ دونوں کی شرائط ایک جیسی نہیں ہیں۔

اب تک کتنے ہاؤسنگ قرض منظور ہوئے ہیں؟

14 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں حکام نے بتایا کہ اپنا گھر پروگرام کے تحت 75 ہزار 198 درخواست گزاروں کے لیے مجموعی طور پر 448 ارب روپے کے قرض منظور کیے جا چکے ہیں۔

وفاقی وزارت اطلاعات کی 15 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق 14 ہزار افراد کو مجموعی طور پر 76 ارب روپے کی رقم جاری کی گئی تھی۔

حکومت نے رواں سال کے لیے ایک لاکھ 25 ہزار گھروں کی خاطر 700 ارب روپے کی فنانسنگ کا ہدف بھی بتایا۔

یہ حکومت کی فراہم کردہ معلومات ہیں۔ قرض منظور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پوری رقم درخواست گزار کو مل چکی ہے۔ منظور شدہ قرض اور واقعی جاری ہونے والی رقم الگ اعداد و شمار ہیں۔

اپنا گھر اسکیم میں درخواست کیسے دی جائے؟

درخواست دینے والے شہری سرکاری ویب سائٹ apnaghar.gov.pk پر پروگرام کی تفصیلات دیکھ سکتے ہیں یا کسی شریک بینک، اسلامی بینک، مائیکروفنانس ادارے یا ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

درخواست دینے سے پہلے اپنے پلاٹ، مکان یا اپارٹمنٹ کی قسم کے مطابق بینک سے کاغذات کی مکمل فہرست حاصل کریں۔ یہ بھی پوچھیں کہ جائیداد گروی رکھنے کی اجازت، لین مارکنگ یا گروی کا باقاعدہ اندراج آپ کے معاملے میں کیسے ہوگا۔

جائیداد کے کاغذات جمع کراتے وقت بینک سے دستخط شدہ رسید ضرور حاصل کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کریں کہ آپ کی درخواست کس تاریخ کو مکمل سمجھی جائے گی، کیونکہ 15 کام کے دنوں کی مدت اسی بنیاد پر شروع ہوتی ہے۔

نئی ہدایات کا مقصد غیر ضروری کاغذات کی شرط کم کرنا ہے، لیکن قرض ملنے کا حتمی فیصلہ درخواست گزار کی اہلیت، جائیداد کی قانونی حیثیت اور متعلقہ بینک کی جانچ کے مطابق ہوگا۔