پاکستان میں 200 یونٹ پر بجلی رعایت کا نظام بدل سکتا ہے۔ ڈان نے 28 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ حکومت نے موجودہ سلیب نظام ختم کرکے ہدفی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹوں میں دو خاص تبدیلیاں ابھی زیر غور ہیں؛ کسی نئی بجلی قیمت کے نافذ ہونے کی اطلاع نہیں۔

دو تجاویز سے کیا بدلے گا؟

ایک تجویز میں رعایت کی حد 200 سے بڑھا کر 250 یونٹ کرنے کی بات ہے۔ ڈان اور آج نیوز نے اس امکان کی خبر دی۔

دوسری تجویز کے تحت، اگر کوئی صارف ماہانہ استعمال 200 یونٹ تک رکھے تو اسے اسی ماہ رعایت مل سکتی ہے، بجائے اس کے کہ حد سے اوپر جانے کے بعد چھ ماہ تک رعایت نہ ملے۔ اس تجویز کی خبر ڈان نے دی۔

پہلی تجویز یونٹ کی حد بدلتی ہے۔ دوسری یہ بدلتی ہے کہ حد سے بڑھنے کے بعد رعایت کتنے عرصے کے لیے رکتی ہے۔ ان رپورٹوں میں کسی تجویز کو نافذ شدہ بجلی نرخ نہیں بتایا گیا۔

چھ ماہ کی شرط کا پس منظر کیا ہے؟

وزارتِ توانائی کی 9 جون 2021 کی پالیسی ہدایت میں کہا گیا تھا کہ رہائشی صارفین کا استعمال ہر ماہ 200 کلوواٹ گھنٹے (kWh) سے کم رہے، اور یہ شرط چھ ماہ تک پوری ہو۔ قومی برقی توانائی ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی ویب سائٹ پر یہ ہدایت موجود ہے۔

یہ پرانی پالیسی ہدایت ہے۔ اس سے بعد کے ہر بجلی نرخ کے درست اصول ثابت نہیں ہوتے۔

کیا آمدن کے حساب سے بھی رعایت ملے گی؟

ڈان کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، لغاری نے غربت اور آمدن کی بنیاد پر بجلی رعایت دینے کے نظام پر کام کا ذکر کیا، تاکہ صرف بجلی کے استعمال کو بنیاد نہ بنایا جائے۔

حتمی منصوبہ کب بن سکتا ہے؟

ڈان نے لغاری کے حوالے سے بتایا کہ منصوبے کو حتمی شکل دینے میں ڈیڑھ ماہ لگ سکتا ہے۔ یہ خبر میں دیا گیا اندازہ ہے، نافذ ہونے کی تاریخ نہیں۔

ایک ماخذ پر مبنی تفصیل: ماہانہ رعایت کی تجویز اور مدت کا اندازہ ڈان سے منسوب ہے۔ آج نیوز نے 250 یونٹ کی تجویز بھی رپورٹ کی۔

ذرائع: نیپرا کی ویب سائٹ پر وزارتِ توانائی کی پالیسی ہدایت، 27 اکتوبر کی ڈان رپورٹ، 28 اکتوبر کی ڈان رپورٹ، اور 250 یونٹ کی تجویز پر آج نیوز کی رپورٹ۔ متعلقہ مطالعہ: اکتوبر کے بجلی بلوں میں ایڈجسٹمنٹ پر اوریجن پاکستان کی رپورٹ۔