ایران جنگ کا خرچ، امریکی فوج کے لیے، 47 ارب ڈالر سے زیادہ بتایا گیا ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق، اسے امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایک تخمینہ ملا تھا جس میں اکتوبر کے وسط تک لاگت کم از کم 47.1 ارب ڈالر بتائی گئی۔ رائٹرز نے بھی پینٹاگون کے اعداد کی بنیاد پر 47 ارب ڈالر سے زیادہ رقم رپورٹ کی۔
47.1 ارب ڈالر کے تخمینے کا بنیادی ماخذ ایک ہی ہے: سی بی ایس نیوز اور رائٹرز نے اسی پینٹاگون اور سینٹرل کمانڈ کے تخمینے پر رپورٹ دی۔ رائٹرز کے مطابق یہ دستاویز عوام کے لیے جاری نہیں کی گئی، اس لیے یہاں اصل کاغذ دیکھ کر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ستمبر میں مختلف رقمیں کیوں سامنے آئیں؟
ستمبر میں بلومبرگ گورنمنٹ نے رپورٹ کیا کہ سینٹرل کمانڈ کے ایک تخمینے میں 3 ستمبر 2026 تک خرچ 43.6 ارب ڈالر تھا۔ سی این این نے اسی پہلے دور کے لیے 45.1 ارب ڈالر کی رقم بتائی۔ اس نے دو ایسے افراد کی معلومات کا حوالہ دیا جنہیں تخمینے کا علم تھا، اور کہا کہ اس میں ایندھن کے مزید 1.5 ارب ڈالر شامل تھے۔ دیکھی گئی رپورٹوں میں اصل حساب موجود نہیں، اس لیے ان سے اختلاف کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
47.1 ارب ڈالر کے تخمینے میں کیا شامل ہے؟
سی بی ایس نیوز کے مطابق، رپورٹ شدہ خرچ میں استعمال شدہ ہتھیاروں کی جگہ نئے ہتھیار لانے کے لیے تقریباً 29 ارب ڈالر، ضائع ہونے والے فوجی سامان کی جگہ سامان لینے کے لیے 6.1 ارب ڈالر، اور فوجیوں کی مدد جیسے دوسرے اخراجات کے لیے تقریباً 11.9 ارب ڈالر شامل ہیں۔
یہ قریب قریب رقمیں ہیں۔ ان کا مجموعہ عین 47.1 ارب ڈالر نہیں بنتا، اس لیے انہیں درست حسابی تقسیم نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ فوجی خرچ کا تخمینہ ہے، جنگ کی ہر معاشی لاگت کا حساب نہیں۔
کیا اس میں فوجی اڈوں کی مرمت شامل ہے؟
سی بی ایس نیوز نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کی مرمت کا خرچ اس تخمینے میں شامل نہیں۔ رائٹرز کے مطابق، دستیاب اعداد سے یہ واضح نہیں کہ اڈوں کی مرمت کا خرچ حساب میں آیا یا نہیں۔ ان رپورٹوں میں تخمینے کا پورا طریقہ دکھانے والی عوامی دستاویز موجود نہیں۔
رائٹرز نے بتایا کہ اسے پینٹاگون سے فوری جواب نہیں ملا۔ سی بی ایس نیوز نے کہا کہ اس نے بھی محکمے سے تبصرہ مانگا تھا۔
کانگریشنل بجٹ آفس کا 38 ارب ڈالر کا تخمینہ الگ کیوں ہے؟
کانگریشنل بجٹ آفس (CBO) کے مطابق، یکم اگست 2026 تک محکمۂ دفاع کا خرچ تقریباً 38 ارب ڈالر تھا۔ 15 ستمبر کی رپورٹ میں ادارے نے بتایا کہ اس رقم میں استعمال شدہ ہتھیاروں اور ضائع شدہ سامان کی جگہ لینے، پروازوں کے زیادہ گھنٹوں، دوسرے فوجی کاموں اور ایندھن کا اضافی خرچ شامل تھا۔
یہ پہلے کی مدت کا الگ حساب ہے، اس لیے یہ بعد کے پینٹاگون تخمینے کی براہِ راست تصدیق یا تردید نہیں کرتا۔ CBO نے خبردار کیا کہ خرچ کی مختلف اقسام کے اعداد کو براہِ راست نہیں ملانا چاہیے اور نہ ہی انہیں جمع کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے معلوماتی ذرائع، طریقے اور مدتیں الگ ہیں۔
اس عدد سے پاکستان کے بارے میں کیا معلوم نہیں ہوتا؟
یہ رقم امریکی فوجی خرچ سے متعلق ہے۔ دیکھی گئی رپورٹیں یہ ثابت نہیں کرتیں کہ اس 47.1 ارب ڈالر کے عدد سے پاکستان میں پیٹرول، بجلی کے بل یا سرکاری اخراجات پر کوئی خاص اثر پڑا۔ ایسے دعوے کے لیے پاکستان سے متعلق الگ ثبوت درکار ہوں گے۔
آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور پاکستان میں اس کے رپورٹ شدہ توانائی اثرات کے پس منظر کے لیے اورجن پاکستان کی یہ رپورٹ دیکھی جا سکتی ہے۔