واشنگٹن / اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ 23 اکتوبر کو کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو بہت جلد ختم کر سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا واشنگٹن کو یہ جنگ فوری طور پر ختم کر دینی چاہیے یا اسے وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ خود کمزور پڑ کر ختم ہونے دینا چاہیے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز (Reuters) کے مطابق، فلوریڈا روانہ ہونے سے پہلے وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: "ہم اسے بہت جلدی ختم کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے ابھی پورا ختم کرنا چاہتے ہیں یا بس اسے آہستہ آہستہ دم توڑنے (wither) کے لیے چھوڑ دینا چاہتے ہیں؟"

سوشل میڈیا پر اس بیان کے بعد کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، تاہم مصدقہ حقائق کے مطابق امریکی صدر نے کسی باقاعدہ جنگ بندی (سیز فائر)، حملے روکنے یا مذاکرات کی کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت اس وقت دو مختلف راستوں پر غور کر رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر مشرقِ وسطیٰ کے امن اور پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معیشت پر پڑتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا اصل مطلب کیا ہے؟

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے مختصر بات چیت کے دوران صدر ٹرمپ نے انگریزی کا لفظ "Wither" استعمال کیا، جس کا عام فہم اردو میں مطلب کسی چیز کا آہستہ آہستہ مرجھا جانا، کمزور پڑنا یا خود بخود ٹھنڈا پڑ جانا ہے۔

اس بیان کے مطابق امریکہ کے سامنے اس وقت دو راستے ہیں:

  • پہلا راستہ (جنگ کا فوری خاتمہ): امریکہ کسی بڑے فیصلے یا فوری معاہدے کے ذریعے اس جنگ کو جلدی سمیٹ لے تاکہ فروری کے آخر سے جاری تصادم رک جائے۔
  • دوسرا راستہ (جنگ کو آہستہ آہستہ کمزور پڑنے دینا): امریکہ کوئی باقاعدہ امن معاہدہ کیے بغیر بڑے حملے کم کر دے، لیکن ایران پر معاشی پابندیاں، سمندری ناکہ بندی اور دباؤ برقرار رکھے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تنازع خود ہی کمزور پڑ جائے۔

جمعہ کے روز امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) یا امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے کوئی نیا فوجی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ فی الحال امریکی پالیسی میں کوئی عملی تبدیلی نہیں آئی۔

آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی: ٹرمپ کا دعویٰ اور زمینی حقائق

وائٹ ہاؤس میں اسی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ خلیج کے اہم ترین سمندری راستے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے ذریعے تیل باہر نکل رہا ہے اور "ہمیں وہ سب کچھ مل رہا ہے جو ہم چاہتے ہیں"۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز وہ تنگ سمندری راستہ ہے جہاں سے جنگ سے پہلے دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل اور پاکستان سمیت ایشیائی ممالک کو آنے والی گیس (LNG) کے جہاز گزرتے تھے۔

اس سے قبل، جیسا کہ العربیہ اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا، ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اس وقت ایران سے مذاکرات نہیں کر رہا اور انہوں نے الزام لگایا تھا کہ تہران 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) سے پہلے دنیا میں تیل مہنگا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب 21 سے 23 اکتوبر کی علاقائی رپورٹس بتاتی ہیں کہ سمندری راستے میں خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا:

  • سات بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا ایرانی دعویٰ: جمعہ 23 اکتوبر کو ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں تیل لے جانے والے سات بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم روزنامہ دی نیشن (The Nation) میں شائع ہونے والی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی جہازوں یا جانی نقصان کی تفصیلات سامنے آئیں۔
  • جون کے اسلام آباد معاہدے پر ایرانی موقف: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 21 اکتوبر کو اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور قطر کے ذریعے بالواسطہ رابطے جاری ہیں، لیکن جب تک امریکہ جون کے اسلام آباد معاہدے (Islamabad MoU) کے وعدوں پر عمل نہیں کرتا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو مسائل کا سامنا رہے گا۔
  • سمندری اخراجات اور انشورنس کا بوجھ: ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحریہ نے جہازوں کو سیکیورٹی دینا جاری رکھا تو خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ اوریجن پاکستان نے اپنی حالیہ معلوماتی رپورٹ میں واضح کیا تھا، آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کے جہاز گزرنے کے باوجود پاکستان کو مہنگے بحری کرایوں اور انشورنس کے خطرات کا سامنا ہے۔

پاکستان کے لیے اس صورتحال کی کیا اہمیت ہے؟

ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ بلوچستان میں 909 کلومیٹر لمبی سرحد ملتی ہے، جبکہ پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل اور گیس خلیجی ممالک سے منگواتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ کا ہر فیصلہ پاکستان پر دو طرح سے اثر انداز ہوتا ہے:

1. پاکستان کی صلح اور ثالثی کی کوششیں

سال 2026 کے دوران پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ روکنے کے لیے مسلسل پل کا کردار ادا کیا ہے۔ جون میں اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) کے بعد سے پاکستان دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ستمبر میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکہ اور ایران پر زور دیا تھا کہ وہ جون کے امن معاہدے پر عمل درآمد کریں۔ اسی سلسلے میں منگل 20 اکتوبر کو آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی جس میں خطے میں امن اور ثالثی کی کوششوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات میں ایرانی قیادت کا موقف تھا کہ جب تک امریکہ اعتماد کی بحالی کے لیے ایران کی شرائط (بشمول خطے میں جنگ بندی اور تیل پر پابندیوں کے خاتمے) کو پورا نہیں کرتا، براہِ راست مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

اگر امریکہ اس جنگ کو باقاعدہ معاہدے کے ذریعے ختم کرنے کے بجائے لمبے عرصے تک لٹکائے رکھنے کی پالیسی اپناتا ہے، تو پاکستان کے لیے سرحدی تجارت بحال کرنا اور خطے میں مستقل امن قائم کرنے کی کوششیں مزید مشکل ہو جائیں گی۔

2. پاکستان میں پیٹرول، ڈیزل اور مہنگائی پر اثر

پاکستانی عوام کے لیے اس جنگ کا سب سے بڑا تعلق پیٹرول، ڈیزل اور مہنگائی سے ہے۔ جب تک خلیج میں جنگ کا خطرہ موجود رہتا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور بحری جہازوں کے کرایوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے۔

پاکستانی معاشی اشاریے مصدقہ اعداد و شمار جنگ لمبی کھنچنے کا اثر
پیٹرول کی نئی قیمت (23 اکتوبر) 377.71 روپے فی لیٹر (1.60 روپے کمی کے بعد) عالمی منڈی اور بحری کرایوں میں خطرے کے باعث قیمتوں میں بڑا ریلیف ملنا مشکل رہتا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل (23 اکتوبر) 391.75 روپے فی لیٹر (1.64 روپے اضافے کے بعد) ڈیزل مہنگا رہنے سے ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کی اشیاء کی لاگت بلند رہتی ہے۔
اکتوبر کے آغاز کی سطح (6 اکتوبر) پیٹرول 393.64 روپے، ڈیزل 397.76 روپے (80 روپے لیوی سمیت) درآمدی لاگت اور فریٹ مارجن بڑھنے سے ٹیکس برقرار رہنے کے باوجود قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
اسٹیٹ بینک شرحِ سود (14 ستمبر فیصلہ) 11.5 فیصد پر برقرار (اگست میں مہنگائی 11.1 فیصد) مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے مہنگائی کے خطرے کے باعث شرحِ سود میں کمی رک جاتی ہے۔

پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور پرافٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، جمعہ 23 اکتوبر سے نافذ العمل قیمتوں میں پیٹرول 1 روپے 60 پیسے کمی کے بعد 377 روپے 71 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 1 روپے 64 پیسے اضافے کے بعد 391 روپے 75 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 6 اکتوبر کی قیمتوں کے جائزے میں پیٹرول 393 روپے 64 پیسے اور ڈیزل 397 روپے 76 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا، جس میں 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل تھی۔

اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی 14 ستمبر کے اپنے فیصلے میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والی مہنگائی کے خطرے کی وجہ سے اپنی شرحِ سود (Policy Rate) کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔ اگر یہ جنگ کسی باضابطہ معاہدے کے تحت فوری ختم ہونے کے بجائے لمبے عرصے تک سلگتی رہی تو تیل منگوانے کی لاگت اور ملکی مہنگائی پر دباؤ برقرار رہے گا۔

اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھیں: Trump Weighs Quick End to Iran War Against Letting Conflict 'Wither': What It Means for Hormuz and Pakistan