عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی کا کہنا ہے کہ عراق میں اب کوئی امریکی فوجی نہیں، فوجی مشیر بھی نہیں۔ انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جو اے نیوز پر شائع ہوئی، انہوں نے یہ بات جمعہ کو عراقی نیوز ایجنسی (INA) کو انٹرویو میں کہی۔ عرب ٹائمز نے بھی یہی خبر شائع کی۔ دونوں رپورٹیں 24 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئیں۔
دونوں رپورٹوں میں امریکی حکومت کا کوئی ردعمل شامل نہیں۔
یہ بیان امریکا اور ایران کی جنگ کے دوران آیا ہے۔ اے پی کے مطابق یہ جنگ کبھی کبھی عراق تک بھی پہنچی ہے۔
وزیراعظم اور پینٹاگون نے کیا کہا
| کس نے کہا | کیا کہا | کب | ذریعہ |
|---|---|---|---|
| علی فالح الزیدی، عراقی وزیراعظم | عراق میں کوئی امریکی فوجی باقی نہیں، فوجی مشیر بھی نہیں | 24 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق جمعہ کو دیا گیا انٹرویو | انادولو (اے نیوز)، عرب ٹائمز |
| شان پارنل، پینٹاگون کے ترجمان | امریکی فوج عراقی ساتھیوں کو خاص شعبوں میں تربیت اور انٹیلی جنس مدد دیتی رہے گی | 30 ستمبر 2026 | اے پی، کردستان 24 |
اے پی کے مطابق 30 ستمبر کو امریکی فوج نے اعلان کیا کہ عراق سے تمام امریکی فوجیوں کی واپسی مکمل ہو گئی ہے۔ پارنل کے مطابق آخری فوجی اور سازوسامان اربیل کے ایئر بیس سے جا چکے ہیں۔
رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تربیت اور انٹیلی جنس کی یہ مدد کہاں سے دی جائے گی۔
کردستان 24 کے مطابق پینٹاگون کے بیان میں پیشمرگہ اور عراقی سکیورٹی فورسز کو سکیورٹی کی جاری کوششوں میں آگے رہنے والی قوتیں کہا گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ داعش (ISIS) کے بچے کھچے عناصر اور ایران نواز ملیشیاؤں سے نمٹنے کی بنیادی ذمہ داری اب عراقی حکومت پر ہے۔
انخلا کے مراحل
- ستمبر 2024: امریکا اور عراق کے مشترکہ بیان میں اتحادی افواج کی مرحلہ وار واپسی طے ہوئی۔ مشن ستمبر 2026 میں ختم ہونا تھا۔ الجزیرہ کے مطابق عراق میں جنگی کارروائیاں ستمبر 2025 تک ختم ہونی تھیں، جبکہ شام کی کارروائیوں کے لیے مدد ستمبر 2026 تک جاری رہ سکتی تھی۔
- جنوری 2026: الجزیرہ کے مطابق عراق نے اعلان کیا کہ اتحادی فوجی مشیر وفاقی علاقوں سے جا چکے ہیں۔ شام کی کارروائیوں کے لیے سامان اور رسد کی مدد اربیل کے ایک اڈے سے جاری رہی۔
- جولائی 2026 کا وسط: سٹارز اینڈ سٹرائپس نے 15 جولائی کو رپورٹ دی کہ الزیدی نے، جو مئی میں وزیراعظم بنے، کہا تھا کہ آخری امریکی فوجی ستمبر کے آخر تک چلے جائیں گے۔ وہ اس وقت واشنگٹن میں تھے اور وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملے۔ اسی رپورٹ کے مطابق اس وقت عراق میں فوجی مشیروں اور دیگر اہلکاروں کا ایک چھوٹا گروپ موجود تھا۔
- 30 ستمبر 2026: کردستان 24 کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادیوں نے عراق میں آپریشن انہیرنٹ ریزالو (Operation Inherent Resolve) باضابطہ طور پر ختم کر دیا۔ اے پی کے مطابق امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس کے تمام فوجیوں کی واپسی مکمل ہو گئی ہے۔
- 1 اکتوبر 2026: الزیدی نے مسلح گروہوں کے لیے ہتھیار ریاست کے حوالے کرنے کی آخری تاریخ 30 جون 2027 مقرر کی۔ عرب نیوز میں اے ایف پی کے مطابق وہ اس سے پہلے 30 ستمبر کی تاریخ دے چکے تھے، جس سے وہ پیچھے ہٹ گئے۔
- 24 اکتوبر 2026 کی رپورٹ: انادولو کے مطابق الزیدی نے عراقی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ عراق میں کوئی امریکی فوجی باقی نہیں، فوجی مشیر بھی نہیں۔
مسلح گروہ اور 30 جون 2027
الزیدی کے بقول غیر ملکی فوجوں کے جانے سے مسلح گروہوں کے پاس ہتھیار رکھنے کی وہ وجہ نہیں رہی جو وہ بیان کرتے تھے۔ انہوں نے ریاست کے کنٹرول سے باہر ہتھیار حوالے کرنے کی آخری تاریخ 30 جون 2027 رکھی ہے۔ عرب نیوز میں اے ایف پی کے مطابق یہ تاریخ 30 ستمبر کی پرانی تاریخ کی جگہ آئی ہے۔
اے پی نے 30 ستمبر کو بتایا کہ صرف چند چھوٹی ملیشیاؤں نے ہتھیار دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اے پی کے مطابق ایران کے قریب طاقتور گروہوں کی شرائط ایسی ہیں جنہیں بغداد کے لیے ماننا مشکل ہے، اور ان میں سے کچھ نے اس بات کو ہی رد کر دیا۔
اے ایف پی کے مطابق ایران نواز گروہوں نے 30 ستمبر کو کہا کہ وہ ہتھیار حوالے کرنے کی کسی مدت کے پابند نہیں۔ کتائب حزب اللہ کے فوجی ترجمان جعفر الحسینی نے کہا کہ ہتھیاروں کو ضابطے میں لانے کی بات چیت پر گروہوں کو ابھی تک حکومت کا جواب نہیں ملا۔
جو بات ابھی واضح نہیں
- سفارت خانے سے جڑے اہلکار۔ سٹارز اینڈ سٹرائپس نے کانگریس کو دی گئی انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا۔ اس کے مطابق مارچ 2026 کے آخر میں امریکی فورسز زیادہ تر اربیل ایئر بیس اور اربیل ڈپلومیٹک سپورٹ سینٹر میں تھیں۔ حریر ایئر بیس، کیمپ دہوک اور بغداد ایمبیسی کمپلیکس میں بھی ان کی موجودگی تھی۔ 24 اکتوبر کی دونوں رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سفارت خانے سے جڑے امریکی فوجی اہلکار اب بھی موجود ہیں یا نہیں۔
- آئندہ تعاون۔ الجزیرہ کے مطابق جولائی 2024 کے امریکا عراق سکیورٹی مذاکرات میں اگلے مرحلے پر اتفاق ہوا۔ اس میں رابطہ افسر، تربیت اور سکیورٹی تعاون کے پروگرام شامل تھے۔ رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایسے افسر اب عراق میں ہیں یا نہیں۔
- اربیل کا فضائی دفاع۔ الجزیرہ نے 30 ستمبر کو رپورٹ دی کہ اربیل سے امریکی فضائی دفاعی نظام ہٹائے جا رہے ہیں۔ اے پی کے مطابق کرد حکام نے ان کے ہٹنے پر تشویش ظاہر کی۔ رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کی جگہ کوئی نظام لگا یا نہیں۔