سول سوسائٹی کے کارکنوں اور ماہرین آثار قدیمہ نے سوات موٹروے کی سب سے لمبی سرنگ کے قریب کان کنی (مائننگ)، پتھر توڑنے کے لیے دھماکوں (بلاسٹنگ) اور پتھر کچلنے کے کام پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ڈان کی 24 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ کام شاہ کوٹ پاس پر قدیم ہتھی لار (ہاتھی روڈ) کی ایک شاخ اور اس مرکزی گیس پائپ لائن کے بھی قریب ہو رہا ہے جو پورے ملاکنڈ ڈویژن کو گیس دیتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آثار قدیمہ کے محکمے نے اگست میں ملاکنڈ کے ڈپٹی کمشنر کو اس مسئلے سے آگاہ کیا تھا۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اقبال حسین نے رابطہ کرنے پر فوری کارروائی کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈپٹی کمشنر کو ضروری اقدامات کی ہدایت پہلے ہی دے چکے ہیں۔

سرنگ کے قریب کیا ہو رہا ہے

کارکنوں کا کہنا ہے کہ پتھر کاٹنے کے لیے روزانہ ہونے والے بھاری دھماکے سب سے بڑا خطرہ ہیں، کیونکہ پتھر نکالنے اور کچلنے کی جگہیں سرنگ کے بہت قریب ہیں۔ ناصر خان نے خبردار کیا کہ جلد سرنگوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔

مقامی لوگوں کو یہ ڈر بھی ہے کہ جھٹکوں سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز (ایس این جی پی ایل) کی پائپ لائن کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا وہ پھٹ سکتی ہے۔ ایسا ہوا تو پورے ملاکنڈ ڈویژن میں گیس بند ہو جائے گی۔

یہ خدشات سرنگ اور پائپ لائن کے قریب ہونے کی وجہ سے ظاہر کیے گئے ہیں۔ لکھتے وقت کسی آزاد انجینئرنگ جائزے کی خبر نہیں آئی تھی جس میں نقصان کی تصدیق ہو یا جھٹکوں کی پیمائش بتائی گئی ہو۔

سڑک کے ساتھ موجود آثار قدیمہ کا مقام

اس علاقے میں زلم کوٹ ہتھی درہ کا مقام بھی ہے۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالصمد اسے ہندو شاہی دور کی اہم ترین باقیات میں سے ایک کہہ چکے ہیں۔ ڈان نے نومبر 2025 میں رپورٹ کیا کہ خیبر پاتھ منصوبے کے تحت اٹلی کے آثار قدیمہ مشن (وینس کی کا فوسکاری یونیورسٹی) اور صوبائی محکمہ آثار قدیمہ نے معلوم کیا کہ یہ مقام ایک بڑے قلعہ بند شہر کا حصہ ہے جس کی پہلے نشاندہی نہیں ہوئی تھی۔

منصوبے کے سربراہ پروفیسر لوکا ماریا اولیویری کے مطابق پتھر سے بنی ہتھی لار (ہاتھی روڈ) اترا پتھ کا ایک اہم حصہ تھی۔ اترا پتھ برصغیر کی قدیم شمالی بڑی شاہراہ تھی۔ ڈان کے مطابق یہ سڑک کبھی مشرقی گندھارا کو سوات، باجوڑ، کنڑ اور ننگرہار سے ملاتی تھی۔

اسی رپورٹ میں اب تک کی دریافتیں بتائی گئی تھیں: ایک بڑے برہمن مندر کا چبوترا، سیڑھیوں والا پانی کا ٹینک، چنائی سے بنا کنواں اور پتھر نکالنے کی قدیم کانیں۔ 200 سے زیادہ تراشے ہوئے پتھر ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے بہت سے 250 کلوگرام تک وزنی تھے۔ ان میں سے 15 اہم ترین ٹکڑے حفاظت کے لیے سوات میوزیم منتقل کیے گئے۔

مقامی بزرگ اور ماہر آثار قدیمہ عبدالناصر کے حوالے سے ڈان نے 2025 میں لکھا کہ ہتھی درہ ملاکنڈ ضلع کے اہم ترین مقامات میں سے ہے اور غیر قانونی کھدائی سے بہت سے نوادرات ضائع ہو گئے۔

موٹروے کے ساتھ سیاحت کا منصوبہ

خیبر پاتھ منصوبے میں سوات موٹروے کے ساتھ 125 کلومیٹر لمبا ورثہ سیاحتی راستہ بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ڈان کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق یہ راستہ بریکوٹ اور زلم کوٹ سے ہتھی لار، پلائی، اسوٹا، تھریلی اور ٹیکسلا تک مقامات کو جوڑے گا۔ مقصد روزگار پیدا کرنا اور ذمہ دارانہ سیاحت کو فروغ دینا ہے۔

اب تک کی معلوم باتوں کی ترتیب

  • 28 نومبر 2025: ڈان نے زلم کوٹ ہتھی درہ پر خیبر پاتھ منصوبے کی دریافتیں رپورٹ کیں۔
  • اگست 2026: 24 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق آثار قدیمہ کے محکمے نے ملاکنڈ کے ڈپٹی کمشنر کو خدشات سے آگاہ کیا۔
  • 24 اکتوبر 2026: خدشات رپورٹ ہوئے اور کمشنر ملاکنڈ نے کہا کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو ضروری اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔

جو باتیں ابھی واضح نہیں

جو رپورٹس دیکھی گئیں ان میں پتھر نکالنے کی جگہوں، سرنگ اور گیس پائپ لائن کے درمیان درست فاصلہ نہیں بتایا گیا۔ یہ بھی تصدیق نہیں ہوئی کہ کان کنی اور پتھر کچلنے کے یونٹ قانونی طور پر کام کر رہے ہیں یا نہیں۔ لکھتے وقت نیشنل ہائی وے اتھارٹی یا ایس این جی پی ایل کا کوئی بیان رپورٹ نہیں ہوا تھا اور کسی آزاد معائنے کے نتائج بھی جاری نہیں ہوئے تھے۔

کارکنوں اور ماہرین آثار قدیمہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ورثے اور قریبی سہولتوں کی حفاظت کے لیے یہ کام فوراً روکا جائے۔ اب تک سب سے واضح سرکاری ردعمل کمشنر کی وہ ہدایت ہے جو انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو دی۔

ماخذ: ڈان، 24 اکتوبر 2026؛ ڈان، 28 نومبر 2025۔