لاہور — پنجاب حکومت نے خفیہ ریکارڈنگ کرنے والی اسمارٹ عینکوں اور عام استعمال کی چیزوں میں چھپے کیمروں کے استعمال اور فروخت پر 30 دن کے لیے پابندی لگا دی ہے۔ یہ پابندی 20 اکتوبر 2026 سے پورے پنجاب میں نافذ ہو چکی ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 کے تحت حکم جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق خفیہ کیمرے والی مخصوص اسمارٹ عینکیں پہننے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دکان دار اور آن لائن کاروبار کرنے والے افراد بھی ایسے آلات فروخت نہیں کر سکیں گے۔

ڈان کی 21 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پابندی میں قلم، چابی کے چھلے اور دوسری عام چیزوں میں چھپے چھوٹے ریکارڈنگ کیمرے بھی شامل ہیں۔

تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ عام موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے منظور شدہ مخصوص آلات پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

پنجاب میں کن اسمارٹ عینکوں پر پابندی لگی ہے؟

یہ پابندی ایسی اسمارٹ عینکوں پر ہے جن میں چھپ کر تصاویر، ویڈیو یا آواز ریکارڈ کرنے کی سہولت موجود ہو۔

اس کے علاوہ ایسے چھوٹے کیمرے بھی ممنوع ہیں جو قلم، چابی کے چھلے یا کسی دوسری عام چیز کے اندر لگے ہوں اور دیکھنے والے کو آسانی سے نظر نہ آئیں۔

ان آلات کے ذریعے کسی شخص کو بتائے بغیر اس کی ویڈیو یا آواز ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔ بعض آلات ریکارڈ کی گئی معلومات دوسرے لوگوں تک پہنچانے کی سہولت بھی رکھتے ہیں۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پنجاب میں ہر قسم کی اسمارٹ عینک یا عام نظر کی عینک پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

سرکاری حکم خاص طور پر خفیہ ریکارڈنگ کرنے والے آلات سے متعلق ہے۔ اس میں کسی مخصوص کمپنی کی تمام مصنوعات کا نام لے کر پابندی نہیں لگائی گئی۔

اگر کسی شخص کے پاس ایسی اسمارٹ عینک ہے جس کے بارے میں واضح نہیں کہ وہ پابندی میں شامل ہے یا نہیں، تو اسے متعلقہ حکام سے تصدیق کرنی چاہیے۔

کیا اسمارٹ عینکوں کی آن لائن فروخت بھی بند ہوگی؟

جی ہاں۔ حکومت نے پابندی والے آلات کو دکانوں میں بیچنے کے ساتھ آن لائن فروخت کرنے یا فروخت کے لیے پیش کرنے سے بھی منع کیا ہے۔

یہ حکم چھوٹے دکان داروں کے علاوہ تھوک فروشوں، تاجروں اور ایسے کاروباروں پر بھی لاگو ہوتا ہے جو یہ سامان دوسری دکانوں کو فراہم کرتے ہیں۔

ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں خفیہ ریکارڈنگ والے ان آلات کے استعمال اور خرید و فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

حکومت نے 19 اکتوبر کو اس پابندی کا ابتدائی اعلان کیا تھا، جبکہ اگلے دن باقاعدہ حکم جاری کیا گیا۔

باقاعدہ حکم کی سامنے آنے والی تفصیلات میں خاص طور پر ان آلات کو پہننے، استعمال کرنے، بیچنے اور فروخت کے لیے پیش کرنے پر پابندی واضح کی گئی ہے۔

البتہ یہ بات واضح نہیں کہ کسی شخص کے پاس پہلے سے موجود ایسا آلہ گھر میں رکھنے پر بھی الگ قانونی کارروائی ہو سکتی ہے یا نہیں۔

اسی طرح دستیاب رپورٹوں میں اس مخصوص حکم کی خلاف ورزی پر جرمانے یا قید کی کوئی حتمی تفصیل بھی سامنے نہیں آئی۔ اس بارے میں متعلقہ حکام کی وضاحت ضروری ہوگی۔

کیا موبائل فون اور لیپ ٹاپ پر بھی پابندی ہے؟

نہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ہاتھ میں استعمال ہونے والے ٹیبلٹس اور پی ٹی اے سے منظور شدہ ٹرمینل آلات کو اس پابندی سے باہر رکھا ہے۔

یعنی صرف کیمرہ موجود ہونے کی وجہ سے عام اسمارٹ فون کو اس نئے حکم کے تحت ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔

تاہم کسی کی اجازت کے بغیر غیر قانونی ریکارڈنگ کرنا یا اس کی ذاتی معلومات کا غلط استعمال کرنا دوسرے قوانین کے تحت قابلِ کارروائی ہو سکتا ہے۔

حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ان اہلکاروں کو بھی رعایت دی ہے جنہیں سرکاری ڈیوٹی کے لیے ایسے آلات استعمال کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

یہ رعایت ہر سرکاری ملازم کے لیے نہیں ہے، بلکہ صرف متعلقہ اجازت رکھنے والے اہلکاروں کے لیے ہے۔

پنجاب حکومت نے یہ پابندی کیوں لگائی؟

محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد لوگوں کی نجی زندگی، ذاتی معلومات اور سکیورٹی کو محفوظ بنانا ہے۔ حکومت نے خاص طور پر خواتین اور بچوں کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

حکام کے مطابق خفیہ ریکارڈنگ والے آلات سے کسی شخص کو بتائے بغیر اس کی تصاویر یا ویڈیو بنائی جا سکتی ہے۔ حساس معلومات بھی دوسروں تک پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

حکومت نے ہوائی اڈوں، امتحانی مراکز، سرکاری عمارتوں، اسپتالوں، شاپنگ مالز اور عدالتوں کا خاص طور پر ذکر کیا ہے، جہاں ایسی ریکارڈنگ سے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

تاہم پابندی صرف ان جگہوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ پورے پنجاب میں نافذ کی گئی ہے۔

19 اکتوبر کو حکومت کے ابتدائی اعلان میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ خفیہ کیمروں کے غلط استعمال، ہراسانی اور بلیک میلنگ سے متعلق شکایات سامنے آئی تھیں۔

یہ حکومت کی بتائی گئی وجوہات ہیں۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسمارٹ عینک استعمال کرنے والا ہر شخص کسی غیر قانونی کام میں ملوث ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں اسمارٹ عینکوں کا کیا کیس چل رہا ہے؟

پنجاب حکومت کی پابندی سے پہلے لاہور ہائی کورٹ میں بھی کیمرے اور مائیکروفون والی اسمارٹ عینکوں کی درآمد اور فروخت سے متعلق ایک درخواست زیرِ سماعت تھی۔

درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایسے آلات سے لوگوں کی نجی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کی درآمد اور فروخت کے لیے واضح قوانین بنانے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا۔

15 اکتوبر کو سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ اس معاملے پر تیار کی گئی سمری وفاقی کابینہ کو بھیجی جائے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس کیس کی اگلی سماعت 12 نومبر کے لیے مقرر کی گئی تھی۔

یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے۔ لاہور ہائی کورٹ میں چلنے والا کیس اور پنجاب حکومت کی 30 دن کی پابندی دو الگ معاملات ہیں۔

عدالت میں معاملہ وفاقی سطح پر ان آلات کے لیے قوانین بنانے سے متعلق ہے، جبکہ موجودہ پابندی پنجاب کے محکمہ داخلہ نے دفعہ 144 کے تحت لگائی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے خود پورے پاکستان میں اسمارٹ عینکوں پر پابندی نہیں لگائی۔

پنجاب میں یہ پابندی کب تک رہے گی؟

محکمہ داخلہ کے مطابق پابندی 20 اکتوبر سے فوری طور پر نافذ ہوئی اور 30 دن تک جاری رہے گی۔ حکومت اسے مقررہ مدت سے پہلے بھی واپس لے سکتی ہے۔

21 اکتوبر تک دستیاب رپورٹوں میں پابندی کی مدت بڑھانے یا اسے واپس لینے کی کسی نئی کارروائی کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ پابندی ختم ہونے کے درست وقت کے لیے اصل سرکاری حکم دیکھنا ضروری ہوگا۔

فی الحال پنجاب میں خفیہ ریکارڈنگ والی مخصوص اسمارٹ عینکیں اور عام چیزوں میں چھپے چھوٹے کیمرے استعمال کرنے اور بیچنے پر عارضی پابندی ہے۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور حکم میں واضح کیے گئے دوسرے آلات اس پابندی میں شامل نہیں ہیں۔