اسلام آباد — پاکستان اور مالدیپ نے تجارت، ٹیکنالوجی، دفاع، صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں 20 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے اگلے دو سال میں باہمی تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

یہ اعلان بدھ، 21 اکتوبر 2026 کو مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیز کے دورہ پاکستان کے دوران سامنے آیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں شریک ہوئے، جہاں دونوں ملکوں کے نمائندوں نے پہلے سے دستخط شدہ دستاویزات کا تبادلہ کیا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات اچھے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان تجارت اب بھی اتنی نہیں جتنی بڑھائی جا سکتی ہے۔

صدر محمد معیز نے بھی تجارت بڑھانے کے ہدف کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدوں کا اصل فائدہ تب ہوگا جب ان پر عمل کیا جائے گا اور دونوں ممالک کے لوگوں کو اس کے نتائج ملیں گے۔

پاکستان اور مالدیپ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک کیسے بڑھائیں گے؟

وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق پاکستان اور مالدیپ اگلے دو سال میں باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر، یعنی 20 کروڑ ڈالر، تک لے جانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے موجودہ تجارت کا حجم تقریباً ایک کروڑ 39 لاکھ ڈالر بتایا۔ یہ رقم وزیراعظم کے بیان کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں میں دی گئی ہے، تاہم اسے تازہ ترین سرکاری تجارتی اعداد و شمار سے الگ طور پر تصدیق نہیں کیا جا سکا۔

یہ بھی پوری طرح واضح نہیں کیا گیا کہ دو سال بعد 20 کروڑ ڈالر کا ہدف سالانہ تجارت کے لیے ہے یا اس کا حساب کسی اور طریقے سے ہوگا۔

اس اعلان کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 کروڑ ڈالر کی تجارت ہو چکی ہے یا اتنی مالیت کے نئے آرڈرز مل گئے ہیں۔ یہ دونوں حکومتوں کا آئندہ دو سال کے لیے مقرر کیا گیا ہدف ہے۔

پاکستان بزنس کونسل کی 2024-25 کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق 2023 میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان اشیا کی تجارت تقریباً 94 لاکھ ڈالر تھی۔ اس میں تقریباً 92 لاکھ ڈالر کی پاکستانی برآمدات شامل تھیں۔

یہ پرانے اعداد و شمار صرف اشیا کی تجارت کے ہیں، اس لیے انہیں وزیراعظم کی بتائی گئی نئی رقم کے ساتھ براہ راست موازنہ کرنا درست نہیں ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالدیپ میں پاکستانی خوراک، ادویات، سبزیوں، زرعی مصنوعات اور دوسری اشیا کی فروخت بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔ ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات بھی تعاون کا ایک ممکنہ شعبہ ہیں۔

پاکستان اور مالدیپ کے 20 معاہدے کن شعبوں میں ہوئے؟

دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے صرف تجارت تک محدود نہیں ہیں۔ ان میں سرکاری اداروں، کاروباری شعبے، تعلیم، صحت اور سکیورٹی سے متعلق تعاون بھی شامل ہے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل مہارتوں اور نئی ٹیکنالوجی پر تعاون کے لیے دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔

دفاع، سمندری سکیورٹی، پولیس کی تربیت، سرکاری ملازمین کی تربیت اور منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ روکنے کے معاملات بھی معاہدوں میں شامل ہیں۔

صحت کے شعبے میں ادویات کی نگرانی کرنے والے پاکستانی اور مالدیپی اداروں کے درمیان تعاون طے پایا۔ ان اداروں میں پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور مالدیپ کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی شامل ہیں۔ طبی عملے کی بھرتی سے متعلق تعاون بھی اس سلسلے کا حصہ ہے۔

دونوں ممالک نے اعلیٰ تعلیم، فنی تربیت، زراعت، ماہی گیری، سیاحت، ماحولیات، کھیلوں، نوجوانوں کے پروگراموں اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

تجارت کے حوالے سے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان اور مالدیپ کی اسٹیٹ ٹریڈنگ آرگنائزیشن کے درمیان خوراک، زرعی اجناس اور دیگر مصنوعات کی فراہمی سے متعلق تعاون کی دستاویز بھی شامل ہے۔

مالدیپ کی ایک رپورٹ میں بھی 20 معاہدوں اور ان میں شامل اہم اداروں کی تفصیلات دی گئی ہیں۔

تاہم ان دستاویزات کے تبادلے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام منصوبے شروع ہو گئے ہیں، نئی سرمایہ کاری آ چکی ہے یا پاکستانی کمپنیوں کو کاروباری آرڈرز مل گئے ہیں۔ ان پر عمل درآمد کے لیے مزید فیصلے اور عملی اقدامات ضروری ہوں گے۔

تجارت بڑھانے میں فضائی اور سمندری رابطے کیوں اہم ہیں؟

پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے سامان پہنچانے کی سہولتیں بہتر بنانا ایک اہم ضرورت ہے۔

مالدیپ جزائر پر مشتمل ملک ہے اور خوراک، ایندھن اور روزمرہ استعمال کی بہت سی اشیا دوسرے ممالک سے منگواتا ہے۔ اس لیے سامان کی بروقت ترسیل اور مناسب اخراجات کاروبار کے لیے اہم ہیں۔

پاکستان بزنس کونسل نے اپنی تحقیق میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست سمندری اور فضائی راستوں کی کمی کو تجارت بڑھانے کی بڑی رکاوٹ قرار دیا تھا۔

تازہ معاہدوں میں فضائی رابطے بہتر بنانے پر بھی تعاون شامل ہے۔ صدر محمد معیز نے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کے لیے جاری بات چیت کا خیرمقدم کیا۔

تاہم ابھی کسی نئی براہ راست پرواز کے باقاعدہ آغاز، ایئرلائن، مخصوص روٹ یا تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی۔

مالدیپ کے صدر نے سیاحت میں تعاون بڑھانے کی بات بھی کی، خاص طور پر ان سیاحوں کے لیے جو حلال خوراک اور اپنی مذہبی ضروریات کے مطابق سہولتیں چاہتے ہیں۔

دونوں ممالک کے کاروباری افراد کو قریب لانے کے لیے مالدیپ پاکستان بزنس فورم کا انعقاد جمعرات، 22 اکتوبر کے لیے طے کیا گیا تھا۔ اس فورم میں تاجروں اور سرمایہ کاروں کو ممکنہ کاروباری تعاون پر بات کرنے کا موقع ملنا تھا۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مالدیپ کے کاروباری وفد کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔ پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے رابطوں سے تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔

تاہم 21 اکتوبر تک دستیاب اعلانات میں اس فورم کے نتیجے میں کسی نئے تجارتی معاہدے یا سرمایہ کاری کی حتمی مالیت سامنے نہیں آئی تھی۔

ٹیکنالوجی، صحت اور تعلیم میں پاکستان کیا تعاون کرے گا؟

وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ کو ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے پاکستانی ماہرین کا تجربہ اور تکنیکی تعاون فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس شعبے کا تجربہ رکھنے والے ماہرین موجود ہیں اور مالدیپ اپنی ضروریات کے مطابق اس مہارت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تاہم کسی نئے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر یا اس کی لاگت سے متعلق معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔

صحت کے شعبے میں وزیراعظم نے بتایا کہ تقریباً 250 پاکستانی ڈاکٹر مالدیپ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور پاکستانی پیرامیڈیکل عملہ بھی وہاں کام کر رہا ہے۔ یہ تعداد وزیراعظم کے بیان پر مبنی ہے، کسی نئی آزادانہ گنتی پر نہیں۔

صدر محمد معیز نے پاکستانی تعلیمی اداروں میں مالدیپ کے طلبہ کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے پر بھی بات کی۔ ان میں میڈیکل کی تعلیم کے لیے نشستیں بڑھانے اور مالدیپ کے میڈیکل گریجویٹس کو پاکستان میں عملی تربیت دینے کے امکانات شامل ہیں۔

تاہم نئی نشستوں، وظائف یا تربیتی پروگراموں کے لیے کسی حتمی تعداد کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ماحولیات کے شعبے میں شہباز شریف نے مالدیپ کے 50 لاکھ درخت لگانے کے منصوبے کے لیے زیتون کی ایک لاکھ قلمیں اور مختلف پودوں کے ایک لاکھ بیج فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

یہ پودے اور بیج دونوں ممالک کی مشاورت سے طے ہونے والے وقت پر فراہم کیے جانے ہیں۔ ابھی ان کی ترسیل مکمل ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

مالدیپ کے صدر کے دورہ پاکستان کی کیا اہمیت ہے؟

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیز خاتون اول ساجدہ محمد اور اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ 20 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے تھے۔

مالدیپ کے ایوان صدر کے سرکاری بیان کے مطابق ان کا دورہ 20 سے 22 اکتوبر تک ہے۔ یہ 11 سال بعد مالدیپ کے کسی صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان اور مالدیپ کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 26 جولائی 1966 کو قائم ہوئے تھے۔

اسلام آباد میں صدر محمد معیز نے وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی کے معاملات پر گفتگو ہوئی۔

مالدیپ کے ایوان صدر نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کی اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر بات ہونے کی اطلاع دی۔

نئے معاہدوں سے پاکستان اور مالدیپ کے لیے مختلف شعبوں میں مل کر کام کرنے کے راستے کھل سکتے ہیں، لیکن ان کے اصل نتائج کا اندازہ تب ہوگا جب تجارتی آرڈرز، بہتر سفری رابطے، تعلیمی پروگرام اور دوسرے منصوبے عملی طور پر آگے بڑھیں گے۔

فی الحال 20 کروڑ ڈالر کی تجارت دونوں حکومتوں کا اگلے دو سال کے لیے مقرر کردہ ہدف ہے، حاصل شدہ نتیجہ نہیں۔