ڈان کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایک روز پہلے، 13 اکتوبر 2026 کو، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے فوری رپورٹ طلب کی۔ معاملہ اسلام آباد کے علاقے کری میں دو مجوزہ سرکاری جامعات کے لیے مختص تقریباً 250 ایکڑ زمین مارگلہ انکلیو رہائشی منصوبے میں شامل کیے جانے سے متعلق رپورٹ کردہ تنازع کا ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم آفس نے سی ڈی اے سے معاملے کی وضاحت مانگی اور متعلقہ افسران جواب تیار کر رہے تھے۔ تاہم وزیراعظم آفس کا اصل مراسلہ آزادانہ طور پر دستیاب نہیں ہوا۔ اس لیے اسے باضابطہ تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل یا کسی اہلکار کے خلاف ثابت شدہ کارروائی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

ایچ ای سی کو 250 ایکڑ زمین کیوں دی گئی تھی؟

اطلاعات کے مطابق ایچ ای سی نے اسلام آباد کے علاقے کری میں سی ڈی اے سے تقریباً 250 ایکڑ زمین دو مجوزہ سرکاری جامعات کے لیے حاصل کی تھی۔ ان میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور نیشنل یونیورسٹی آف لا شامل تھیں۔ یہ منصوبہ ان جامعات کے قیام کے لیے تھا؛ دستیاب رپورٹوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں دونوں جامعات کے کیمپس قائم ہو کر تدریسی کام شروع کر چکے تھے۔

زمین حاصل کرنے کے سال اور ادائیگی کی تفصیلات میں رپورٹنگ کا فرق ہے۔ ڈان کی 13 اکتوبر کی خبر میں 2007 اور ایک ارب روپے سے زائد رقم کا ذکر ہے، جبکہ 14 اکتوبر کی خبر میں 2008 اور ایک ارب 30 کروڑ روپے بتائے گئے ہیں۔ اصل الاٹمنٹ اور ادائیگی کی دستاویزات سامنے نہ آنے کے باعث دونوں تاریخوں کی حتمی ترتیب کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

زمین کی الاٹمنٹ اور اس کا عملی قبضہ بھی الگ معاملات ہیں۔ مارچ 2025 میں ڈان نے رپورٹ کیا تھا کہ قبضے کے ایک پہلے سے موجود مسئلے کے باعث سی ڈی اے کری میں مختص زمین ایچ ای سی کے حوالے نہیں کر سکا تھا۔ اس پس منظر سے تنازع کی تاریخ سمجھنے میں مدد ملتی ہے، لیکن اس سے موجودہ ملکیت یا قانونی حقوق کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا۔

مارگلہ انکلیو کے ساتھ زمین کا معاملہ کیسے جڑا؟

مارگلہ انکلیو کی سرکاری منصوبہ جاتی ویب سائٹ کے مطابق یہ سی ڈی اے اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اسلام آباد کا مشترکہ رہائشی منصوبہ ہے۔ ڈان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کری میں جامعات کے لیے مختص زمین بھی اس منصوبے میں شامل کر دی گئی، جس پر ایچ ای سی سے وابستہ حکام نے اعتراض اٹھایا۔

اس معاملے پر حکومت کا ایک پہلے کا مؤقف مختلف تھا۔ سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کی 20 اگست کی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ سی ڈی اے نے ڈی ایچ اے مارگلہ انکلیو میں تعلیمی مقاصد کے لیے مختص کوئی زمین حاصل نہیں کی۔ وزیر کا یہ بیان اکتوبر میں سامنے آنے والی ایچ ای سی کی زمین سے متعلق ڈان کی رپورٹنگ سے مختلف ہے۔ اصل الاٹمنٹ، حدبندی اور زمین کے ریکارڈ کے بغیر دونوں مؤقف میں فرق کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

تعلیمی اداروں کے لیے متبادل جگہ کا منصوبہ پہلے سے زیرِ غور تھا۔ سی ڈی اے بورڈ کے 10 دسمبر 2024 کے شائع شدہ اجلاس کی کارروائی کے مطابق کری سے جامعات اور تعلیمی اداروں کو سیکٹر آئی-17 منتقل کرنے کی اصولی منظوری دی گئی تھی، تاہم نقشہ بندی اور سروے سمیت شرائط بھی رکھی گئی تھیں۔ اسی کارروائی میں نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے لیے 50 ایکڑ کا الگ معاملہ درج ہے۔ اسے ایچ ای سی کی متنازع 40 ایکڑ تجویز کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

ان حوالوں سے رہائشی منصوبے کا وجود اور تعلیمی اداروں کی منتقلی سے متعلق پچھلی اصولی کارروائی سامنے آتی ہے۔ تاہم یہ کارروائی ایچ ای سی کے لیے حتمی متبادل الاٹمنٹ کا ثبوت نہیں۔ متنازع 250 ایکڑ کی درست حدبندی، ملکیتی حیثیت اور بعد کی کسی حتمی منتقلی کی تصدیق کے لیے اصل الاٹمنٹ اور منظور شدہ نقشے درکار ہیں۔

250 ایکڑ کے بدلے 40 ایکڑ کی تجویز پر اعتراض کیوں ہے؟

ڈان کی 14 اکتوبر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی ڈی اے نے کری کی تقریباً 250 ایکڑ زمین کے بدلے سیکٹر آئی-17 میں مجموعی طور پر 40 ایکڑ کی تجویز دی۔ اس میں انجینئرنگ کی مجوزہ جامعہ کے لیے 25 ایکڑ اور قانون کی جامعہ کے لیے 15 ایکڑ بتائے گئے۔

زمین کی تفصیلرقبہحیثیت
کری میں دو مجوزہ جامعات کے لیے اصل مختص زمین250 ایکڑرپورٹ کردہ سابقہ الاٹمنٹ
انجینئرنگ کی جامعہ کے لیے آئی-17 میں متبادل25 ایکڑرپورٹ کردہ تجویز
قانون کی جامعہ کے لیے آئی-17 میں متبادل15 ایکڑرپورٹ کردہ تجویز
مجوزہ متبادل کا مجموعہ40 ایکڑقبولیت کی آزادانہ تصدیق نہیں

اس حساب سے مجوزہ 40 ایکڑ، اصل 250 ایکڑ کے صرف 16 فیصد کے برابر ہیں، یعنی رقبہ 84 فیصد کم ہوگا۔ یہ محض رقبے کا موازنہ ہے؛ اس سے دونوں جگہوں کی مالیت، قانونی حیثیت یا یونیورسٹی بنانے کے لیے موزونیت کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

ڈان کی 13 اکتوبر کی خبر میں پہلے کل متبادل رقبہ 25 ایکڑ لکھا گیا تھا، جس کی بعد میں تصحیح کر کے 40 ایکڑ کیا گیا۔ 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق 25 ایکڑ انجینئرنگ کی جامعہ کے لیے رپورٹ کردہ حصے کا رقبہ ہے، پوری تجویز کا نہیں۔ یہ اعداد ایک صحافتی رپورٹ سے اخذ کیے گئے ہیں؛ ایچ ای سی کو 40 ایکڑ کی حتمی الاٹمنٹ یا اس کی منظوری کا ثبوت نہیں۔ سی ڈی اے کی متعلقہ تحریری پیشکش کا آزادانہ جائزہ ابھی نہیں ہو سکا۔

ایچ ای سی کا مؤقف کیا ہے، وزیراعظم نے کیا جواب مانگا؟

ڈان کے مطابق وزارتِ داخلہ میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران ایچ ای سی سے وابستہ حکام نے کم رقبے کی پیشکش مسترد کی۔ رپورٹ میں ان کا مؤقف یہ بتایا گیا کہ کری کی اصل زمین کا قبضہ دیا جائے یا قابلِ قبول متبادل فراہم کیا جائے۔ اضافی رقم کی مبینہ شرط پر بھی اعتراض کیا گیا۔ یہ مؤقف صحافتی رپورٹ میں حکام سے منسوب ہے، ایچ ای سی کی کسی دستیاب دستخط شدہ قرارداد سے اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

یہ معاملہ 12 اکتوبر کے سی ڈی اے بورڈ اجلاس میں بھی زیرِ بحث آنا تھا، لیکن ڈان کے ذرائع کے مطابق وقت کی کمی کی وجہ سے بات نہ ہو سکی۔ ڈان نے 14 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ وزیراعظم نے 13 اکتوبر کو فوری رپورٹ طلب کی تھی۔ دستیاب مواد میں نہ کسی حتمی تصفیے، نہ سی ڈی اے بورڈ کے نئے فیصلے اور نہ ہی کسی اہلکار کے خلاف ثابت شدہ بے ضابطگی کا ریکارڈ ملا۔

مجوزہ جامعات کی زمین کا اب کیا ہوگا؟

یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ زمین کا ابتدائی مقصد سرکاری تعلیمی اداروں کا قیام بتایا گیا تھا۔ لیکن موجودہ رپورٹس سے یہ طے نہیں ہوتا کہ اس تاخیر سے کتنے طلبہ متاثر ہوئے، کسی منصوبے پر کتنی لاگت ضائع ہوئی یا رہائشی منصوبے کے خریداروں کی انفرادی ملکیت پر کیا قانونی اثر پڑا۔ ایسے نتائج کے لیے الگ شواہد درکار ہیں۔

اگلا واضح جواب ایچ ای سی کی اصل الاٹمنٹ اور ادائیگی کے ریکارڈ، سی ڈی اے کے منظور شدہ نقشوں، آئی-17 کی تحریری متبادل تجویز اور وزیراعظم کے لیے تیار کی گئی رپورٹ سے مل سکتا ہے۔ ان دستاویزات یا کسی حتمی فیصلے کے سامنے آنے تک ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے سی ڈی اے سے جواب طلب کیا ہے، جبکہ جامعات کی زمین کا تنازع بدستور حل طلب ہے۔