ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت اسلام آباد کے پاک چین فرینڈشپ اسپتال میں مریضوں کے علاج کے اخراجات برداشت کرے گی۔ اسپتال کا افتتاح 29 اکتوبر کو ہوا۔ دستیاب ذرائع میں اہلیت یا علاج میں شامل اخراجات کی وضاحت نہیں کی گئی۔

اسپتال کون چلاتا ہے اور یہاں کون سی سہولتیں درج ہیں؟

انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (IHHN) کے مطابق وہ وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری کے ساتھ پبلک پرائیویٹ شراکت کے تحت اسپتال چلاتا ہے۔ نیٹ ورک کے اسپتال سے متعلق ویب پیج پر ایمرجنسی میڈیسن، فیملی میڈیسن اور پرائمری کیئر، جنرل سرجری، انتہائی نگہداشت اور ہائی ڈیپینڈنسی کیئر، متعدی امراض، انٹرنل میڈیسن، زچگی و امراضِ نسواں، آپریشن تھیٹر، آرتھوپیڈکس اور بچوں کے علاج کی سہولتیں درج ہیں۔ اس پیج کے مطابق ایمرجنسی اور داخل مریضوں کی خدمات 24 گھنٹے دستیاب ہیں۔

اسپتال کہاں واقع ہے؟

IHHN نے پتہ Kuri Road، Zong Headquarters کے قریب، Mohran Jejan، اسلام آباد درج کیا ہے۔ نیٹ ورک کے پیج پر رابطے کے خانے میں “TBD” لکھا ہے اور وہاں اسپتال کا فون نمبر درج نہیں۔

مفت علاج کے اعلان سے کیا بات واضح ہوتی ہے؟

ریڈیو پاکستان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ اسپتال میں مریضوں کے علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ ریڈیو پاکستان نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم نے اسلام آباد، راولپنڈی، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے مریضوں کا ذکر کیا۔

اعلان میں مریضوں کی اہلیت، ریفرل یا داخلے کا طریقہ، اور ادویات، ٹیسٹ یا طبی عمل میں سے کون سے اخراجات شامل ہیں، یہ واضح نہیں کیا گیا۔ یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ IHHN کے درج کردہ ہر شعبے کی ہر خدمت اس وعدے میں شامل ہے۔ تفصیلی قواعد سامنے آنے تک اسے وزیراعظم سے منسوب اعلان ہی سمجھنا چاہیے۔