ڈان نے 29 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ وزارتِ قومی صحت نے بارڈر ہیلتھ سروسز (BHS) کے ذریعے زائرین اور بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے افراد کی ویکسینیشن کا موجودہ عمل روک دیا ہے۔ ڈان کے مطابق وزارت ایک ماہ کے اندر نیا ٹینڈر جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مسودے کے لیے دیکھی گئی ویب سائٹس میں وزارت کا فیصلہ یا باقاعدہ حکم نامہ موجود نہیں تھا، اس لیے یہ باتیں ڈان سے منسوب ہیں۔
سرکاری ٹینڈر ریکارڈ کیا بتاتا ہے؟
پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے ریکارڈ میں سابقہ ٹینڈر کو BHS کے ذریعے گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا کی ویکسین اور ویکسینیشن خدمات کے لیے سرکاری و نجی شراکت داری کا ٹینڈر بتایا گیا ہے۔ اس میں بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 6 جولائی 2026، دوپہر 1 بجے درج ہے اور ٹینڈر بند دکھایا گیا ہے۔ یہ ریکارڈ صرف ٹینڈر کی درج شدہ حالت کی تصدیق کرتا ہے؛ اس سے بعد میں اسے منسوخ کرنے کا فیصلہ ثابت نہیں ہوتا۔
جانچ کے وقت وزارتِ قومی صحت کی ٹینڈر فہرست میں BHS ویکسین کا متبادل ٹینڈر دکھائی نہیں دیا۔ یہ بات صرف اس فہرست میں نظر آنے والے اندراجات تک محدود ہے؛ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی دوسری جگہ کوئی نوٹس موجود نہیں۔
کراچی سے متعلق رپورٹس کو احتیاط سے کیوں پڑھنا چاہیے؟
اس سے پہلے کی رپورٹس میں محدود دائرے کی تبدیلیوں کا ذکر تھا۔ Trips.pk نے 21 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ ایئرپورٹ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ایک سرکلر میں کراچی سے عمرے پر جانے والوں کے لیے بعض شرائط پر عمل درآمد کی تاریخ 20 نومبر 2026، صبح 10 بجے تک بڑھائی گئی۔ Health Matters نے رپورٹ کیا کہ 22 اکتوبر کے ایک الگ سرکلر میں کراچی کے مرکز پر نادرا سے منسلک گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا کی ویکسینیشن سروس معطل کی گئی۔
ان سرکلرز کی اصل نقول دیکھی گئی ویب سائٹس میں دستیاب نہیں تھیں۔ دونوں رپورٹس مختلف تاریخوں اور عمل کے مختلف پہلوؤں سے متعلق ہیں، اس لیے ان سے پورے پاکستان میں موجودہ انتظامات کی تصدیق نہیں ہوتی۔ مسافر اپنے روانگی کے ہوائی اڈے اور سفر کی تاریخ کے مطابق شرائط متعلقہ محکمۂ صحت اور ایئرلائن سے معلوم کریں۔
ابھی کیا باتیں تصدیق طلب ہیں؟
دیکھی گئی ویب سائٹس میں وزارت کا باقاعدہ فیصلہ، تحقیقاتی رپورٹ یا متبادل ٹینڈر کا نوٹس شامل نہیں تھا۔ ڈان نے ایک ماہ کے اندر نئے ٹینڈر کی توقع ظاہر کی، لیکن جانچ کے وقت وزارت کی فہرست میں نیا ٹینڈر موجود نہیں تھا۔ دستیاب شواہد یہ بھی واضح نہیں کرتے کہ رپورٹ کردہ تعطل ہر ہوائی اڈے یا ویکسینیشن مرکز پر یکساں طور پر لاگو ہے یا نہیں۔