ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ خلیج فارس میں اسرائیل سے منسوب ممکنہ فوجی کارروائی عالمی منڈیوں پر سنگین اثر ڈال سکتی ہے۔ ڈان نے ان کی 28 اکتوبر کی ایکس پوسٹ کے حوالے سے بتایا کہ ممکنہ اثرات گیس فراہم کرنے والوں اور استعمال کرنے والوں دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ یہ عراقچی سے منسوب انتباہ ہے، منڈیوں کے اثرات کا آزادانہ اندازہ نہیں۔

انتباہ کس بارے میں تھا؟

عراقچی کی پوسٹ میں ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم، یعنی GECF، کے اجلاس کے بعد توانائی کے تعلقات اور گیس منڈی کی سلامتی کا ذکر تھا۔ ڈان کے نقل کردہ بیان کے مطابق، بات خلیج فارس میں ممکنہ آئندہ فوجی کارروائی کی تھی۔ پوسٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ حملے کا حکم دیا جا چکا ہے یا حملہ قریب ہے، اور نہ ہی منڈیوں پر ممکنہ اثر کا کوئی عددی اندازہ دیا گیا۔

GECF کے اعلامیے میں کیا کہا گیا؟

GECF کا اجلاس 27 اکتوبر کو ماسکو میں ہوا۔ فورم کے اعلامیے میں رکن ممالک نے کہا کہ سیاسی حالات، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، گیس کی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق، رسد میں رکاوٹ، طلب اور رسد کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال، سرمایہ کاری کے خطرات اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ممکنہ مسائل ہیں۔ یہ عمومی پس منظر ہے؛ اعلامیہ کسی مخصوص اسرائیلی کارروائی کے اثرات کا اندازہ نہیں لگاتا۔

قارئین کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں؟

یہ بیان عراقچی کی تشویش بتاتا ہے۔ یہ کسی حملے کے فیصلے یا ممکنہ معاشی نقصان کا حساب نہیں۔ اس خبر کے لیے دیکھی گئی رپورٹس میں پاکستان پر پڑنے والے اثرات کا کوئی مخصوص اندازہ نہیں تھا۔ اسے پاکستان میں پیٹرول، گیس یا بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کی پیش گوئی نہ سمجھیں۔