27 اکتوبر کو انگور اڈہ میں جھڑپ کی خبر آئی، لیکن پاکستان اور افغانستان نے اس بارے میں مختلف مؤقف پیش کیے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان فورسز نے پہلے فائرنگ اور مارٹر گولے چلائے۔ افغانستان کی وزارتِ دفاع کے مطابق، پہلے پاکستانی ڈرون حملے ہوئے اور افغان فورسز نے جواب دیا۔ دستیاب رپورٹنگ سے آزادانہ طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فائرنگ کس طرف سے شروع ہوئی۔

پاکستان کا مؤقف کیا ہے؟

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے 28 اکتوبر کو افغانستان کے مؤقف کو رد کیا۔ وزارت نے اسے افغان طالبان حکومت کا “تازہ جھوٹ” قرار دیا اور کہا کہ افغان فورسز نے پاکستانی علاقے میں فائرنگ اور مارٹر گولے چلانے کا آغاز کیا۔ وزارت کے مطابق، پاکستانی فورسز نے افغان طالبان کی سات چوکیاں تباہ کیں اور بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ یہ وزارت کے دعوے ہیں؛ ان نتائج کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ ریڈیو پاکستان پر شائع بیان پڑھیں۔

افغانستان کا مؤقف کیا ہے؟

افغانستان کی وزارتِ دفاع نے مختلف مؤقف پیش کیا، جسے آریانا نیوز اور اومید ریڈیو نے رپورٹ کیا۔ ان رپورٹس کے مطابق، وزارت نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے انگور اڈہ اور پکتیکا میں سیکیورٹی تنصیبات کے قریب چار ڈرون حملے کیے، جس کے بعد افغان فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ وزارت نے پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا، لیکن ان رپورٹس میں تعداد نہیں بتائی۔ اس تحقیق کے دوران وزارت کا اصل بیان دستیاب نہیں ہوا، اور ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوئی۔ آریانا نیوز کی رپورٹ · اومید ریڈیو کی رپورٹ

شہریوں کے بارے میں کیا رپورٹ ہوا؟

پاکستانی حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ واقعے میں ایک شہری ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہوئے۔ کابل ناؤ نے افغان سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ پاکستان کی فائرنگ سے افغان علاقے میں گھر متاثر ہوئے۔ اس نے کہا کہ افغانستان میں نقصان کی حد اور ممکنہ ہلاکتوں یا زخمیوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ دستیاب رپورٹیں یہ ثابت نہیں کرتیں کہ شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کا ذمہ دار کون تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ · کابل ناؤ کی رپورٹ

رپورٹس میں تاریخ مختلف کیوں ہے؟

افغانستان کے مؤقف کو بیان کرنے والی رپورٹس میں حملوں کے وقت کی تفصیل ایک جیسی نہیں۔ آریانا نیوز کے مطابق، افغان وزارت نے مبینہ ڈرون حملوں کا وقت پیر کو دوپہر تقریباً ایک بجے بتایا۔ 28 اکتوبر کی اومید ریڈیو رپورٹ میں کہا گیا کہ حملے گزشتہ روز ہوئے، جس سے تاریخ 27 اکتوبر بنتی ہے۔ وزارت کا اصل بیان دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے یہ فرق واضح نہیں ہو سکا۔

کون سی باتیں ابھی ثابت نہیں؟

یہ تنازع برقرار ہے کہ فائرنگ پہلے کس نے شروع کی۔ دستیاب رپورٹنگ سے پاکستان کا سات چوکیاں تباہ کرنے کا دعویٰ، افغانستان کا پاکستانی فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ، یا فوجی نقصان کے بارے میں دونوں جانب کے دعوے آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوتے۔ دیکھی گئی رپورٹوں سے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس جھڑپ کے بعد سرحد پار کارروائی جاری رہی یا نہیں۔