افغان میڈیا کے مطابق روس کے انٹیلی جنس چیف سرگئی ناریشکن نے بدھ، 14 اکتوبر کو کابل کا دورہ کیا اور طالبان حکومت کے خفیہ ادارے کے سربراہ عبدالحق وثیق سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب روس اور طالبان حکومت کے درمیان رابطے بڑھ رہے ہیں۔ روس نے جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کیا تھا۔
افغان نیوز ویب سائٹ ہشت صبح کے مطابق طالبان کے زیرِ انتظام باختر نیوز ایجنسی نے 14 اکتوبر کو بتایا کہ دونوں سربراہوں نے اہم معاملات پر بات کی۔ لیکن باختر نے یہ نہیں بتایا کہ کن معاملات پر بات ہوئی یا کوئی فیصلہ کیا گیا۔ روس کے خفیہ ادارے یا طالبان کے انٹیلی جنس ادارے کا کوئی الگ تفصیلی بیان بھی اس خبر کے لیے دستیاب نہیں ہوا۔
کابل میں روس اور طالبان کے انٹیلی جنس سربراہوں کے درمیان کیا بات ہوئی؟
ناریشکن روس کے اس ادارے کے سربراہ ہیں جو دوسرے ملکوں سے متعلق خفیہ معلومات جمع کرتا ہے۔ اس ادارے کو ایس وی آر (SVR) کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف عبدالحق وثیق طالبان حکومت کے انٹیلی جنس ادارے کی سربراہی کرتے ہیں۔ اس ملاقات سے دونوں ملکوں کے اہم سکیورٹی حکام کے درمیان براہِ راست رابطہ سامنے آیا ہے۔
ٹوس نیوز کے مطابق کابل کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملاقات میں تعلقات بڑھانے، خفیہ معلومات کے تبادلے اور سکیورٹی میں تعاون پر بات ہوئی۔ تاہم اوریجن پاکستان بی بی سی کی اصل رپورٹ خود نہیں دیکھ سکا۔ اس لیے یہ ایک ذریعے سے منسوب اطلاع ہے، دونوں حکومتوں کی طرف سے کسی نئے معاہدے یا مشترکہ کارروائی کا اعلان نہیں۔
اب تک ایسی کوئی قابلِ تصدیق سرکاری اطلاع نہیں ملی کہ 14 اکتوبر کی ملاقات میں نیا انٹیلی جنس معاہدہ ہوا، کسی مشترکہ کارروائی کا فیصلہ کیا گیا یا کسی تیسرے ملک کے بارے میں کوئی منصوبہ طے پایا۔ اس لیے ملاقات کے حوالے سے سامنے آنے والی محدود معلومات ہی کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔
روس اور طالبان کے تعلقات کیسے بڑھے؟
طالبان اگست 2021 میں دوبارہ افغانستان میں اقتدار میں آئے تھے۔ جولائی 2025 میں روس دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے طالبان کی حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کیا۔ اس سے پہلے روس نے طالبان کو ممنوعہ تنظیموں کی اپنی فہرست سے بھی نکال دیا تھا۔ اس کے بعد دونوں طرف کے حکام کے لیے سرکاری رابطے بڑھانے کی راہ مزید کھلی۔ تاہم خواتین اور لڑکیوں پر طالبان حکومت کی سخت پابندیوں کی وجہ سے اسے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا بھی ہے۔
5 اکتوبر 2026 کو ماسکو میں افغانستان کے بارے میں ایک اجلاس ہوا۔ اس میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے علاوہ پاکستان، چین، ایران، بھارت اور دوسرے ملکوں کے نمائندے شریک تھے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغان وفد سے ملاقات کی۔ اجلاس میں افغانستان کی سکیورٹی، تجارت اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات پر بات ہوئی۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق روس نے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان اور افغانستان دونوں چاہیں تو وہ ان کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں مدد کر سکتا ہے۔
اگلے روز، 6 اکتوبر کو، امیر خان متقی نے روس کی سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو سے الگ ملاقات کی۔ طالبان وزارت خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں سیاسی، معاشی اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔ کابل ناؤ نے اس ملاقات کی تفصیل دی۔ شوئیگو اور ناریشکن دو الگ روسی عہدیدار ہیں، اس لیے ان کی ملاقاتوں کو ایک ہی واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
روس افغانستان کی سکیورٹی میں دلچسپی کیوں رکھتا ہے؟
روسی حکام کئی بار افغانستان اور اس کے آس پاس مسلح گروہوں کی سرگرمیوں، منشیات کی سمگلنگ اور بدامنی کے بارے میں تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ روس خاص طور پر وسطی ایشیا کی سکیورٹی پر توجہ دیتا ہے، کیونکہ اس خطے کے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں۔
5 اکتوبر کو ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے شدت پسند گروہوں اور منشیات کے خلاف طالبان کی کارروائیوں کی تعریف کی۔ انہوں نے روس اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود فوجی اور تکنیکی تعاون کا بھی ذکر کیا۔ یہ بات ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کی۔ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق روسی وزارت خارجہ بھی طالبان حکومت سے مزید تعاون چاہتی ہے۔ یہ بیانات ماسکو کے الگ اجلاس میں دیے گئے تھے۔ ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ 14 اکتوبر کو کابل میں کوئی نیا فیصلہ ہوا یا نہیں۔
انٹیلی جنس اداروں کے رابطوں کو روس کی نئی فوجی موجودگی، مشترکہ خفیہ کارروائی یا کسی نئے فوجی معاہدے کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ موجودہ خبر میں ایسی کسی پیش رفت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
روس کے انٹیلی جنس چیف کے دورے کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟
ناریشکن کے دورے کے وقت پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ بعض مسلح گروہ، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں یا وہاں سے حملے کرتے ہیں۔ طالبان حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے کہ وہ پاکستان میں حملے کرنے والوں کو پناہ دیتی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی 12 اکتوبر کی رپورٹ میں دونوں طرف کے مؤقف اور سرحدی کشیدگی کی تفصیل دی گئی ہے۔
پاکستان نے بھی 5 اکتوبر کے ماسکو اجلاس میں شرکت کی تھی۔ وہاں روس کے افغانستان کے لیے نمائندے ضمیر کابلوف نے کہا کہ اگر پاکستان اور طالبان حکومت دونوں چاہیں تو روس کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ پیشکش ایک الگ اجلاس میں ہوئی تھی۔ ابھی کوئی قابلِ تصدیق اطلاع نہیں ملی کہ ناریشکن کے کابل دورے کا اس پیشکش سے تعلق تھا۔
ابھی ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ روس کے انٹیلی جنس چیف پاکستان اور افغانستان میں جنگ بندی کرانے، پاکستان کا کوئی پیغام پہنچانے یا اسلام آباد کے خلاف کوئی منصوبہ بنانے کابل گئے تھے۔ دورے کو پاکستان سے جوڑ کر ایسے دعوے کرنا درست نہیں ہوگا جن کی تصدیق نہ ہوئی ہو۔
ملاقات کے بعد کون سی باتیں ابھی واضح نہیں؟
افغان میڈیا نے بتایا ہے کہ روس کے انٹیلی جنس چیف نے طالبان کے خفیہ ادارے کے سربراہ سے ملاقات کی۔ لیکن بات چیت کی پوری تفصیل سامنے نہیں آئی۔ کسی نئے معاہدے کی تصدیق کرنے والی سرکاری دستاویز بھی دستیاب نہیں ہوئی۔ روس یا طالبان حکومت مزید معلومات دیں تو یہ واضح ہو سکتا ہے کہ ملاقات کا کیا نتیجہ نکلا۔
فی الحال اتنا کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملاقات روس اور طالبان کے درمیان بڑھتے ہوئے سرکاری اور سکیورٹی رابطوں کا حصہ ہے۔ لیکن 14 اکتوبر کی بات چیت کا نتیجہ ابھی معلوم نہیں، اور پاکستان پر اس کے کسی خاص اثر کا دعویٰ بھی نئی معلومات کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔