پیرس — فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواحی علاقوں میں اسکولوں کے مسائل پر شروع ہونے والا احتجاج چند ہفتوں میں ملک گیر مظاہروں کی شکل اختیار کر گیا۔ پہلے طلبہ اساتذہ کی کمی اور خراب تعلیمی سہولتوں پر آواز اٹھا رہے تھے، لیکن بعد میں مہنگائی، تیل کی قیمتوں اور سرکاری سہولتوں سے پریشان لوگ بھی احتجاج میں شامل ہو گئے۔
17 اکتوبر 2026 کو فرانس کے مختلف شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے۔ طلبہ، اساتذہ، مزدور تنظیموں اور یلو ویسٹ تحریک کے حامیوں نے مختلف مطالبات کے لیے مظاہرے کیے۔ زیادہ تر افراد نے پرامن احتجاج کیا، لیکن کئی شہروں میں کچھ گروہوں نے توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور پولیس پر حملے بھی کیے۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق اس روز ملک بھر میں 110 مظاہروں میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد شریک ہوئے، جبکہ منتظمین نے یہ تعداد تقریباً 8 لاکھ بتائی۔
19 اکتوبر تک حکام نے ہفتے کے اختتام پر ہونے والی بدامنی کے بعد تقریباً 2,400 گرفتاریوں اور پولیس کے قریب ایک ہزار اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔
فرانس میں اس صورتحال کی وجہ صرف ایک اسکول یا ایک سرکاری فیصلہ نہیں تھا۔ تعلیم کے مسائل کے ساتھ مہنگائی، تیل کی بڑھتی قیمتیں اور سرکاری سہولتوں کے بارے میں ناراضی بھی احتجاج کا حصہ بن گئی۔
فرانس میں طلبہ کا احتجاج کیسے شروع ہوا؟
ستمبر 2026 کے وسط اور آخری دنوں میں پیرس کے نواحی علاقے کریتے (Créteil) کے Saint-Exupéry ہائی اسکول میں اساتذہ کی کمی کے خلاف ہونے والے مظاہرے اس تحریک کی ابتدائی اہم مثالوں میں شامل تھے۔
فرانسیسی میڈیا میں اسکول کے پہلے احتجاج کی تاریخ کے بارے میں کچھ فرق موجود ہے۔ بعض رپورٹس میں 17 ستمبر اور Le Monde کی رپورٹ میں 21 ستمبر کا ذکر ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس کے بعد دوسرے اسکولوں کے طلبہ بھی اپنے مسائل لے کر سڑکوں پر آنا شروع ہو گئے۔
طلبہ کی سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ بعض اسکولوں میں اساتذہ کی آسامیاں خالی تھیں۔ کئی جگہ استاد غیر حاضر ہونے پر اس کی جگہ دوسرا استاد نہیں آتا تھا، جس سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی تھی۔
اس کے علاوہ زیادہ بچوں والی کلاسیں، خراب عمارتیں، ضروری سامان کی کمی اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی خراب حالت بھی احتجاج کی وجوہات تھیں۔
بعض اسکولوں میں طلبہ نے بیت الخلا کی صفائی اور دستیابی جیسے بنیادی مسائل پر بھی آواز اٹھائی۔
طلبہ کو Parcoursup نامی نظام پر بھی اعتراض تھا، جس کے ذریعے فرانس میں اسکول مکمل کرنے والے نوجوان یونیورسٹیوں اور دوسرے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ کچھ طلبہ کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ ان کے مستقبل کے بارے میں پریشانی بڑھاتا ہے۔
پیرس کے کم آمدن والے علاقوں میں یہ مسائل زیادہ نمایاں تھے۔ طلبہ اور اساتذہ کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں کے اسکولوں میں وسائل کا فرق بچوں کے تعلیمی مواقع کو متاثر کر رہا ہے۔
طلبہ نے اسکولوں کے باہر مظاہرے کیے، بعض جگہ داخلی راستے عارضی طور پر بند کیے اور کئی مقامات پر کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ اس لیے اس تحریک کو صرف اسکول بائیکاٹ کہنا پوری صورتحال کی وضاحت نہیں کرتا۔
اکتوبر کے آغاز تک سیکڑوں اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو چکی تھیں اور یہ معاملہ پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گیا تھا۔
آبنائے ہرمز کے بحران کا فرانس کے احتجاج سے کیا تعلق ہے؟
فرانس میں اسکولوں کے احتجاج کے ساتھ ایک الگ معاشی مسئلہ بھی لوگوں کی پریشانی بڑھا رہا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی بحری تجارت متاثر ہو رہی تھی۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے مختلف ممالک کے لیے تیل لے جانے والے جہاز گزرتے ہیں۔
اس علاقے میں جہازوں پر حملوں اور آمدورفت میں رکاوٹوں سے تیل کی فراہمی، ٹرانسپورٹ اور انشورنس کے اخراجات کے بارے میں خدشات بڑھ گئے۔ اس کے اثرات عالمی ایندھن کی منڈی تک پہنچے۔
فرانسیسی حکومت نے بھی مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو تیل کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑا۔
2 اکتوبر کو صدر ایمانوئل میکرون نے G7 ممالک کا اجلاس بلایا تاکہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔
فرانسیسی ایوان صدر کے بیان کے مطابق اجلاس میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے، ایندھن کی پیداوار بہتر بنانے اور چار ماہ میں ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل تک تیل اور پیٹرولیم مصنوعات مارکیٹ میں لانے پر اتفاق ہوا۔
اس کے بعد 7 اکتوبر کو فرانس نے اپنے ہنگامی ذخائر سے ایک کروڑ بیرل ڈیزل مارکیٹ میں لانے کا اعلان کیا۔
فرانسیسی وزارت خزانہ کے مطابق اس اقدام سے ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 12 سے 18 یورو سینٹ کمی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ تاہم یہ متوقع کمی تھی، اس بات کا ثبوت نہیں کہ تمام صارفین کو فوری طور پر اتنا ریلیف مل گیا تھا۔
فرانس میں تیل کی بڑھتی قیمتیں ان لوگوں کی شکایات میں شامل تھیں جو پہلے ہی روزمرہ اخراجات اور مہنگائی سے پریشان تھے۔
لیکن آبنائے ہرمز کا بحران اسکولوں کے احتجاج کی براہ راست وجہ نہیں تھا، اور نہ ہی صرف اسی بحران سے 17 اکتوبر کے پرتشدد واقعات کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔ اس کا تعلق بڑھتے معاشی دباؤ سے تھا، جس نے مختلف طبقوں کی ناراضی کو مزید نمایاں کیا۔
طلبہ، مزدور تنظیمیں اور یلو ویسٹ تحریک ایک ساتھ کیوں آئیں؟
17 اکتوبر کے مظاہروں میں ایک بڑی تبدیلی یہ تھی کہ مختلف مسائل پر احتجاج کرنے والے گروہ ایک ہی جگہ جمع ہونے لگے۔
طلبہ زیادہ اساتذہ، بہتر اسکولوں اور تعلیمی سہولتوں کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مزدور تنظیمیں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے، مہنگائی سے ریلیف اور سرکاری سہولتیں بہتر بنانے کی بات کر رہی تھیں۔
اسی دوران یلو ویسٹ تحریک کے حامی بھی ان مظاہروں میں شامل ہوئے۔ یہ تحریک 2018 میں تیل پر ٹیکس اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے خلاف بڑے احتجاج کی وجہ سے مشہور ہوئی تھی۔ اس کے حامی پیلے رنگ کی حفاظتی جیکٹ پہن کر مظاہروں میں شرکت کرتے ہیں۔
Euronews کی 17 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پیرس میں طلبہ اور مزدور تنظیموں کے مظاہرے شروع میں الگ الگ ہونے تھے، لیکن بعد میں ان کے شرکا Place de la République کے قریب جمع ہو گئے۔
یہاں مختلف گروہوں کے مطالبات میں ایک بات مشترک تھی۔ وہ حکومت سے بہتر سرکاری سہولتیں اور مہنگائی کے مقابلے میں زیادہ معاشی ریلیف چاہتے تھے۔
فرانس کی بڑی مزدور تنظیم CGT بھی اس احتجاج میں شامل تھی۔
تاہم تمام مظاہرین ایک ہی تنظیم سے تعلق نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ان کے تمام مطالبات ایک جیسے تھے۔ مختلف گروہوں کا ایک جگہ جمع ہونا مشترکہ ناراضی کی علامت تھا، کسی ایک تنظیم کے پورے احتجاج کو چلانے کا ثبوت نہیں۔
17 اکتوبر کو فرانس میں تشدد کیسے پھیلا؟
17 اکتوبر کو لاکھوں افراد پرامن احتجاج کے لیے نکلے، لیکن کچھ شہروں میں مظاہروں کے دوران شدید توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔
Reuters کے مطابق کچھ گروہوں نے سرکاری عمارتوں اور دکانوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ پولیس اہلکاروں اور گاڑیوں پر بھی حملے کیے گئے۔
پیرس میں Place de la République اور دوسرے مرکزی علاقوں میں پولیس اور بعض گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے آنسو گیس اور پانی کی تیز دھار استعمال کی، جبکہ کچھ افراد نے پولیس پر اشیا پھینکیں، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور آگ لگائی۔
لیموج شہر میں تاریخی سٹی ہال کو آگ لگا دی گئی۔ مارسے میں کچھ افراد سٹی ہال کے اندر داخل ہوئے اور عمارت کو نقصان پہنچایا۔ لیون میں سیاحتی دفتر کو بھی آگ لگا دی گئی۔
بورڈو اور دوسرے شہروں میں بھی سرکاری املاک اور کاروباری مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
گرفتاریوں کے اعداد و شمار بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہے۔ 17 اکتوبر کے دوران Associated Press نے تقریباً 400 گرفتاریوں کی اطلاع دی، جبکہ اسی شام بعد کی رپورٹنگ میں یہ تعداد 1,200 سے زیادہ بتائی گئی۔
18 اور 19 اکتوبر تک حکام کے مطابق گرفتاریوں کی تعداد تقریباً 2,400 تک پہنچ گئی تھی، جبکہ پولیس کے قریب ایک ہزار اہلکار زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔
پیرس میں مظاہروں کے دوران ایک شخص دل کی دھڑکن بند ہونے کے بعد انتقال کر گیا۔ دستیاب رپورٹنگ میں اس موت کا تعلق کسی مخصوص پولیس کارروائی سے ثابت نہیں ہوا تھا۔
حکام اور کاروباری نمائندوں کے مطابق تقریباً 3,000 کاروباری مقامات ان پرتشدد واقعات سے متاثر ہوئے۔
یہ واقعات سنگین تھے، لیکن انہیں مظاہروں میں شریک ہر شخص سے منسوب کرنا درست نہیں۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے پرامن احتجاج کیا، جبکہ لوٹ مار اور آگ لگانے کے واقعات میں مخصوص افراد اور گروہ شامل تھے۔
فرانس کی پولیس کے اقدامات پر سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں؟
احتجاج کے دوران فرانسیسی پولیس کے استعمال کیے گئے ہجوم کو منتشر کرنے والے ہتھیاروں پر بھی سوالات اٹھے ہیں، خاص طور پر کم عمر طلبہ کے زخمی ہونے کے بعد۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کچھ نوجوان مظاہرین کو شدید چوٹیں آنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جن کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
17 اکتوبر کو سینٹ ایٹین (Saint-Étienne) میں ایک نوجوان مظاہرین میں شامل شخص کا ہاتھ ضائع ہونے کے بعد حکام نے تحقیقات شروع کیں۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے اس وقت میڈیا کی ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی تھی کہ یہ چوٹ پولیس کے گرینیڈ کی وجہ سے لگی تھی۔
پولیس نمائندوں کا کہنا ہے کہ ان کے اہلکاروں پر پتھراؤ اور دوسرے حملے ہوئے، جس کے باعث انہیں خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری طرف طلبہ کی تنظیموں، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بعض کارروائیوں میں ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کیے جانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ان واقعات کی تحقیقات کو سیاسی الزامات سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ کسی مخصوص چوٹ یا پولیس کارروائی کے بارے میں حتمی نتیجہ شواہد کی بنیاد پر ہی نکالا جا سکتا ہے۔
فرانسیسی حکومت نے کیا اقدامات کیے؟
فرانسیسی حکومت نے تعلیم، تیل کی قیمتوں اور امن و امان سے متعلق مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
8 اکتوبر کو وزیر تعلیم ایڈوار ژیفرے (Édouard Geffray) نے کہا کہ شدید کمی کا سامنا کرنے والے اسکولوں میں 3,000 سے زائد متبادل اساتذہ تعینات کیے جائیں گے۔
تاہم یہ اعلان تمام اساتذہ کی تعیناتی مکمل ہونے کا ثبوت نہیں تھا۔ 14 اکتوبر تک وزیر تعلیم کے مطابق دستیاب متبادل اساتذہ میں سے تقریباً دو تہائی کو تعینات کیا جا چکا تھا، جبکہ یہ سوال باقی تھا کہ ان کے مضامین متعلقہ اسکولوں کی ضرورت کے مطابق ہیں یا نہیں۔
Le Monde کی تحقیق کے مطابق وزارت نے 3,024 دستیاب متبادل اساتذہ کی نشاندہی کی تھی، لیکن انہیں مختلف اسکولوں میں بھیجنے سے یہ ضروری نہیں کہ ہر مضمون میں اساتذہ کی کمی پوری ہو جائے۔
فرانس کی وزارت تعلیم نے طلبہ سے تجاویز لینے کا سلسلہ بھی شروع کیا، جس کے تحت وہ 23 اکتوبر تک اپنے اسکولوں کے مسائل اور بہتری کے لیے تجاویز جمع کرا سکتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں کے معاملے میں حکومت نے ہنگامی ذخائر سے ڈیزل مارکیٹ میں لانے کا اعلان کیا تاکہ قیمتوں پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
17 اکتوبر کے پرتشدد واقعات کے بعد پیرس سمیت بعض شہروں کے مخصوص علاقوں میں رات کے وقت کرفیو اور اجتماع پر پابندیاں عائد کی گئیں۔
یہ پابندیاں مخصوص مقامات تک محدود تھیں۔ پورے فرانس میں ایک جیسا کرفیو یا ملک گیر ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی تھی۔
Reuters کی 19 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق صدر میکرون نے وزیر داخلہ لوراں نونیز کی استعفے کی پیشکش قبول نہیں کی اور حکام کو امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم سباستیاں لوکورنو نے بعض پرتشدد واقعات کا ذمہ دار انتہائی بائیں بازو کے گروہوں اور جرائم میں ملوث افراد کو قرار دیا۔ تاہم اپوزیشن رہنما ژاں لوک میلینشوں نے حکومتی مؤقف کو چیلنج کیا اور اس کے ثبوت مانگے۔
ان الزامات پر سیاسی اختلاف موجود ہے۔ کسی مظاہرے میں شرکت یا سیاسی وابستگی کو توڑ پھوڑ اور لوٹ مار میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔
اب فرانس میں صورتحال کیا ہے؟
حکومت کے اقدامات کے باوجود طلبہ اور مزدور تنظیموں کے تمام مطالبات ابھی پورے نہیں ہوئے۔
طلبہ بہتر تعلیمی سہولتیں، اساتذہ کی دستیابی اور برابر مواقع چاہتے ہیں، جبکہ مزدور تنظیمیں تنخواہوں، پنشن اور مہنگائی سے متعلق مزید اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
فرانس کی حکومت کو سرکاری قرضوں اور بجٹ کے مسائل کا بھی سامنا ہے، جس کے باعث مزید اخراجات کرنے کے فیصلے آسان نہیں۔
19 اکتوبر تک طلبہ اور مزدور تنظیموں کے بعض گروہ مزید احتجاج کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تاہم آئندہ مظاہروں کا وقت، تعداد اور پیمانہ یقینی نہیں تھا۔
فرانس میں ہونے والے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مقامی تعلیمی مسئلہ دوسرے معاشی اور سماجی مسائل کے ساتھ مل کر بہت بڑی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اسکولوں کے مسائل پر طلبہ سڑکوں پر نکلے، جبکہ تیل کی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات سے متعلق پریشانی نے دوسرے طبقوں کی ناراضی کو بھی سامنے لایا۔
آبنائے ہرمز کے بحران نے معاشی دباؤ بڑھانے میں کردار ادا کیا، لیکن فرانس میں احتجاج کی وجوہات اس سے کہیں زیادہ وسیع تھیں۔
فرانسیسی حکومت کے سامنے اب اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھتے ہوئے ان شکایات کو کیسے دور کرتی ہے جن کے باعث اتنی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے۔