ڈان کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے نرخ 600 روپے فی کلو تھے۔ اوگرا کی ویب سائٹ پر اکتوبر 2026 کا نوٹیفکیشن درج ہے، جبکہ ڈان نے اس کا نرخ 279.34 روپے فی کلو بتایا۔ مقامی قیمت اور گیس کی فراہمی سے متعلق باتوں کی یہاں آزاد تصدیق نہیں ہوئی۔
اکتوبر کا سرکاری نرخ کیا تھا؟
ڈان نے یکم اکتوبر کی خبر میں بتایا کہ اکتوبر کے لیے نرخ 279.34 روپے فی کلو تھا۔ ڈان کے مطابق 11.8 کلو کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 3,296.23 روپے تھی۔ یہ نرخ 31 اکتوبر 2026 تک لاگو تھا۔ اوگرا کی ویب سائٹ پر اکتوبر کا ایل پی جی نوٹیفکیشن درج ہے، لیکن اس مضمون کے لیے اصل نوٹیفکیشن نہیں کھولا گیا۔ درست رقم ڈان کی رپورٹ سے منسوب ہے۔
ڈان نے مقامی قیمتیں کیا بتائیں؟
26 اکتوبر کی خبر میں ڈان نے مقامی نرخ 600 روپے فی کلو بتایا۔ خبر میں 11 کلو کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 6,500 روپے بھی دی گئی۔ یہ ڈان کی بتائی ہوئی قیمتیں ہیں، اس مضمون کے لیے کیا گیا بازار کا سروے نہیں۔
دونوں سلنڈروں کا وزن مختلف ہے۔ مقامی قیمت 11 کلو کے سلنڈر کی ہے، جبکہ سرکاری نرخ کے ساتھ ڈان نے 11.8 کلو کے سلنڈر کی قیمت بتائی۔ اس لیے دونوں کی کل قیمتوں کا براہ راست موازنہ درست نہیں ہوگا۔ فی کلو حساب سے ڈان کی بتائی ہوئی مقامی قیمت، اوگرا کے اکتوبر نرخ سے زیادہ تھی۔
رہائشیوں اور ایس این جی پی ایل حکام نے کیا بتایا؟
ڈان نے راولپنڈی کے رہائشیوں کے حوالے سے بتایا کہ پائپ والی گیس محدود وقت کے لیے آ رہی تھی۔ ایک رہائشی نے وقت صبح 7 سے 9 بجے، دوپہر 12 سے 2 بجے، اور شام 6 سے 9 بجے بتایا۔ یہ رہائشی کا بیان ہے جسے ڈان نے رپورٹ کیا۔ دستیاب ذرائع میں ایس این جی پی ایل کا ایسا سرکاری شیڈول نہیں ملا جو ان اوقات کی تصدیق کرے۔
ڈان نے یہ بھی بتایا کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے حکام کے مطابق کمپنی نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں دو ماہ پہلے ایل پی جی سلنڈر دینا روک دیا تھا، کیونکہ کمپنی کے پاس ایل پی جی نہیں تھی۔ حکام کے مطابق کراچی بندرگاہ پر ایل پی جی پہنچنے کے بعد سپلائی دوبارہ شروع کی جائے گی۔ یہ وقفہ یا اس کا وقت بتانے والا ایس این جی پی ایل کا نوٹس نہیں ملا۔
صارف معلومات یا شکایت کے لیے کہاں رابطہ کرے؟
اوگرا نے ایل پی جی، سی این جی اور تیل سے متعلق عوامی شکایات کے لیے 0800-77733 درج کیا ہے۔ کسی خاص دکاندار کے نرخ کے بارے میں اوگرا سے پوچھیں کہ آیا یہ معاملہ اس سروس میں آتا ہے۔ گیس کمپنی کے خلاف شکایت میں اوگرا کہتا ہے کہ صارف پہلے متعلقہ کمپنی سے مسئلہ حل کرانے کی کوشش کرے۔
کون سی باتوں کی تصدیق نہیں ہوئی؟
دستیاب ذرائع سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بتائے گئے گیس کے اوقات دونوں شہروں کے ہر علاقے میں لاگو تھے، یا ایس این جی پی ایل کے ہر صارف کو مسئلہ تھا۔ یہ بھی ثابت نہیں کہ مقامی دکانداروں نے قانون توڑا۔ سرکاری فیصلے یا دوسرے قابل اعتماد ثبوت کے بغیر ان قیمتوں کو بلیک مارکیٹ کی قیمتیں نہیں کہنا چاہیے۔