وفاقی حکومت نے جمعے کو ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.91 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جبکہ پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ یہ اطلاع پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں دی گئی ہے۔
نئی شرح کے مطابق ڈیزل اب 393.66 روپے فی لیٹر پر دستیاب ہوگا۔ پٹرول 377.71 روپے فی لیٹر پر ہی رہے گا۔ یہ قیمتیں 24 اکتوبر (ہفتہ) سے 26 اکتوبر (پیر) تک لاگو رہیں گی۔
اس سے ایک دن پہلے 23 اکتوبر کے لیے پٹرول میں 1.60 روپے کمی کر کے 377.71 روپے کر دیا گیا تھا اور ڈیزل میں 1.64 روپے اضافہ کر کے 391.75 روپے کیا گیا تھا۔
ٹیکس اور ڈیوٹی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ حکومت پٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے۔
روزانہ قیمت کا نظام
پاکستان میں جولائی 2026 کے وسط سے ایندھن کی قیمتیں روزانہ طے کی جا رہی ہیں۔ یہ نظام اس وقت شروع کیا گیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے عالمی تیل کی مارکیٹ میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی تھیں۔ قیمتیں بین الاقوامی پلیٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر اخراجات کی سات دن کی اوسط پر مبنی ہوتی ہیں۔ جمعے کے نوٹیفکیشن عام طور پر ہفتہ، اتوار اور پیر تک کے لیے ہوتے ہیں۔
دونوں ایندھن ابھی بھی اس سال کے شروع میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح سے کافی نیچے ہیں۔ 3 اپریل 2026 کو ڈیزل 520.35 روپے اور پٹرول 458.41 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔
اثر کن پر پڑے گا
ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹرکوں، بسوں، زرعی مشینری اور صنعتی صارفین کے اخراجات بڑھیں گے۔ پٹرول استعمال کرنے والوں، جن میں پرائیویٹ کاروں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے مالکان شامل ہیں، کو اگلے تین دن کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
ستمبر میں اعلان کردہ ریلیف اسکیم اب بھی جاری ہے جس کے تحت موٹر سائیکلوں، تھری وہیلرز اور 800 سی سی تک کی کاروں پر پٹرول میں 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جا رہی ہے۔
اگلی قیمتوں کا جائزہ 26 اکتوبر کے بعد اسی روزانہ نظام کے تحت متوقع ہے۔ تفصیلات ڈان اور ٹریبیون کی رپورٹس میں موجود ہیں۔