ڈان کی 22 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، مجوزہ ورلڈ بینک اسٹارٹ اپ فنڈ 5 کروڑ ڈالر کا ہے۔ یہ سرمایہ پیشہ ورانہ طور پر چلائے جانے والے وینچر کیپیٹل فنڈز کے ذریعے لگایا جائے گا۔ ڈان نے یہ تفصیل ایک منصوبہ جاتی دستاویز کے حوالے سے دی۔

کیا بانی ابھی اس مجوزہ فنڈ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں؟

ڈان کی رپورٹ میں انفرادی بانیوں کے لیے براہ راست گرانٹ کی درخواست کا طریقہ نہیں دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، مجوزہ فنڈ پہلے وینچر کیپیٹل فنڈز میں سرمایہ لگائے گا۔ پھر وہ فنڈز فیصلہ کریں گے کہ کن کمپنیوں میں سرمایہ لگانا ہے۔

ڈان کے مطابق، ورلڈ بینک ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری 2027 کے شروع میں متوقع تھی۔ جن ذرائع کا جائزہ لیا گیا، وہ اس منصوبے کو تجویز کے طور پر بیان کرتے ہیں، کھلی فنڈنگ اسکیم کے طور پر نہیں۔

یہ پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ سے کیسے مختلف ہے؟

وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ کو اہل کمپنیوں کے لیے گرانٹ پروگرام بتاتی ہے۔ وزارت کے صفحے کے مطابق، یہ کسی کمپنی کے سرمایہ کاری دور کا 30 فیصد تک گرانٹ دے سکتا ہے۔ گرانٹ کی حد 50 ہزار سے 10 لاکھ امریکی ڈالر تک ہے۔

وزارت کی شرائط میں پاکستان میں قانونی رجسٹریشن، فعال ٹیکس فائلر ہونا، اور نجی سرمایہ حاصل کر لینا یا اس کے آخری مراحل میں ہونا شامل ہے۔ وزارت کہتی ہے کہ درخواستیں Ignite کے ذریعے مسلسل بنیاد پر لی جائیں گی۔

دستیاب ذرائع میں دونوں طریقے الگ بیان ہوئے ہیں۔ مجوزہ منصوبہ وینچر کیپیٹل فنڈز میں سرمایہ لگانے کی بات کرتا ہے، جبکہ وزارت پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ کو اہل کمپنیوں کے لیے گرانٹ پروگرام بتاتی ہے۔ پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ کی شرائط کو مجوزہ ورلڈ بینک منصوبے پر لاگو نہ سمجھیں۔

مجوزہ فنڈ کن علاقوں میں کام کرے گا؟

ڈان کے مطابق، منصوبے کا ارادہ پورے پاکستان تک پہنچنے کا تھا، لیکن ابتدائی خاکے میں سرمایہ کاری کے لیے مخصوص علاقے نہیں بتائے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر علاقے یا ہر اسٹارٹ اپ کو سرمایہ ملے گا۔

منصوبے کے بارے میں کیا تصدیق ہوئی ہے؟

ڈان نے منصوبہ جاتی دستاویز کے حوالے سے فنڈ کا طریقہ اور منظوری کا متوقع وقت بتایا۔ ورلڈ بینک کی ویب سائٹ پر P519113 کی ابتدائی دستاویز 19 اکتوبر 2026 کو جاری دکھائی گئی ہے۔ ورلڈ بینک کا ریکارڈ دستاویز کی فہرست کی تصدیق کرتا ہے، لیکن اس جائزے میں دستاویز کا متن نہیں کھل سکا۔

موجودہ پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ میں دلچسپی رکھنے والے بانی وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شائع کردہ قواعد دیکھ سکتے ہیں۔ یہ قواعد پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ کے لیے ہیں، مجوزہ منصوبے کے لیے نہیں۔