اسلام آباد — پاکستان کے تجارتی اعداد و شمار میں پانچ سال کے دوران 18 ارب ڈالر سے زائد کا فرق سامنے آنے کے بعد سرکاری اداروں نے ریکارڈ کی جانچ اور درستگی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ پرانے ڈیٹا سسٹم میں درآمدات کی کچھ اقسام کا ریکارڈ سرکاری اعداد و شمار میں مکمل طور پر شامل نہیں ہو رہا تھا۔

19 اکتوبر کو دی نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020-21 سے 2024-25 کے دوران PRAL اور Pakistan Single Window یعنی PSW کے ڈیٹا میں مجموعی طور پر تقریباً 18 ارب 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا فرق تھا۔ رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس معاملے پر قائم کمیٹی کی رپورٹ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کو بھی فراہم کی گئی ہے۔

تاہم پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کی سرکاری رپورٹ ایک الگ رقم بتاتی ہے۔ ادارے کے مطابق پانچ سال کی درآمدات کے پہلے سے شائع شدہ اعداد و شمار میں تقریباً 14 ارب 86 کروڑ ڈالر کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ڈیٹا سسٹمز میں سامنے آنے والا 18 ارب ڈالر سے زائد کا فرق اور درآمدات کے سرکاری ریکارڈ میں ہونے والی حتمی درستگی دو الگ اعداد و شمار ہیں۔

پاکستان کے درآمدی ریکارڈ میں اتنا فرق کیوں آیا؟

پاکستان میں بیرون ملک سے آنے والے سامان کی تفصیلات کسٹمز کے سسٹم میں درج کی جاتی ہیں۔ اس ریکارڈ میں سامان کی قیمت، مقدار، قسم اور یہ معلومات شامل ہوتی ہیں کہ وہ کس ملک سے درآمد کیا گیا۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس انہی معلومات کی بنیاد پر درآمدات اور برآمدات کے سرکاری اعداد و شمار تیار کرتا ہے۔ اپریل 2025 تک ادارے کو درآمدی ڈیٹا بنیادی طور پر PRAL کے ذریعے فراہم کیا جاتا تھا۔ مئی 2025 میں PSW نے بھی PBS کو تجارتی ریکارڈ فراہم کرنا شروع کیا۔

جب نئے اور پرانے ڈیٹا کا موازنہ ہوا تو ایک اہم مسئلہ سامنے آیا۔

PBS کی اگست 2026 کی سرکاری رپورٹ کے مطابق PRAL کے پرانے ریکارڈ میں Goods Declarations کی صرف سات اقسام کا ڈیٹا شامل تھا، جبکہ مزید آٹھ اقسام کے تحت درج ہونے والی درآمدات PBS کو فراہم کیے جانے والے ڈیٹا میں موجود نہیں تھیں۔

Goods Declaration کسٹمز کا وہ ریکارڈ ہوتا ہے جس میں درآمد یا برآمد کیے جانے والے سامان کی تفصیلات درج کی جاتی ہیں۔ اگر اس ریکارڈ کی کچھ اقسام سرکاری اعداد و شمار تیار کرنے والے ادارے تک نہ پہنچیں تو ملک کی مجموعی درآمدات کم ظاہر ہو سکتی ہیں۔

تحقیقات کے مطابق PRAL کے پرانے سسٹم میں WeBOC سے ڈیٹا نکالنے کے لیے استعمال ہونے والی ہدایات اپ ڈیٹ نہیں کی گئی تھیں۔ اس وجہ سے کسٹمز کی کچھ اقسام کے تحت درج سامان کا ریکارڈ سرکاری رپورٹنگ میں شامل نہیں ہو سکا۔

عام درآمدات کا بڑا حصہ دونوں سسٹمز میں موجود تھا۔ زیادہ فرق ان مخصوص سہولتوں کے تحت آنے والی درآمدات میں سامنے آیا جو کاروباری اداروں اور صنعتوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

پانچ سال میں فرق 18 ارب ڈالر سے کیسے بڑھ گیا؟

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020-21 میں دونوں سسٹمز کے ریکارڈ کا فرق 1 ارب 40 کروڑ ڈالر تھا۔ مالی سال 2021-22 میں یہ رقم بڑھ کر تقریباً 2 ارب 52 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہوگئی۔

اگلے مالی سال میں فرق تقریباً 2 ارب 40 کروڑ ڈالر رہا، لیکن 2023-24 میں یہ بڑھ کر تقریباً 5 ارب 57 کروڑ ڈالر اور 2024-25 میں 6 ارب 22 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہوگیا۔

ان پانچ سال کے فرق کو جمع کیا جائے تو رقم تقریباً 18 ارب 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔

دوسری طرف PBS کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق درآمدات کے سرکاری اعداد و شمار میں 2020-21 کے لیے تقریباً 91 کروڑ 90 لاکھ ڈالر اور 2021-22 کے لیے 1 ارب 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا اضافہ کیا گیا۔

مالی سال 2022-23 میں یہ اضافہ 1 ارب 68 کروڑ ڈالر تھا۔ اس کے بعد 2023-24 میں تقریباً 5 ارب 10 کروڑ ڈالر اور 2024-25 میں تقریباً 6 ارب 14 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

PBS کے مطابق پانچ سال کی مجموعی درستگی تقریباً 14 ارب 86 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ دستیاب سرکاری رپورٹ اور تازہ خبر میں یہ مکمل تفصیل موجود نہیں کہ دونوں سسٹمز کے درمیان رپورٹ ہونے والے 18 ارب ڈالر کے فرق اور حتمی درستگی کی رقم میں اتنا فرق کیوں ہے۔ اس لیے دونوں کو ایک ہی رقم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

پرانے سسٹم میں کون سی درآمدات شامل نہیں ہو رہی تھیں؟

سرکاری رپورٹ کے مطابق شروع کے سالوں میں Manufacturing Bond نامی کسٹمز کیٹیگری بھی اس فرق کی ایک بڑی وجہ تھی۔ مالی سال 2020-21 میں اس کیٹیگری کے ریکارڈ میں 46 کروڑ ڈالر اور اگلے مالی سال میں تقریباً 59 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا فرق سامنے آیا۔

بعد کے برسوں میں سب سے زیادہ مسئلہ Facilitation Scheme کے تحت ہونے والی درآمدات میں تھا۔ اس اسکیم کے تحت بعض صنعتی اور کاروباری مقاصد کے لیے سامان درآمد کیا جاتا ہے۔

مالی سال 2024-25 میں درآمدات کے سرکاری ریکارڈ میں ہونے والے 6 ارب 14 کروڑ ڈالر سے زائد اضافے میں تقریباً 6 ارب 8 کروڑ ڈالر صرف Facilitation Scheme سے متعلق تھے۔ یوں اس سال کی درستگی کا تقریباً 99 فیصد حصہ اسی کیٹیگری سے آیا۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ پاکستان کی تمام درآمدات میں یکساں طور پر نہیں تھا، بلکہ کسٹمز کے چند مخصوص ریکارڈز میں زیادہ فرق سامنے آیا۔

پاکستان کے تجارتی خسارے کے اعداد و شمار کیسے بدل گئے؟

اس درستگی کا سب سے نمایاں اثر مالی سال 2024-25 کے تجارتی اعداد و شمار میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سال پاکستان کی درآمدات پہلے تقریباً 58 ارب 36 کروڑ ڈالر بتائی گئی تھیں۔ نئے ریکارڈ کو شامل کرنے کے بعد یہ رقم بڑھ کر تقریباً 64 ارب 51 کروڑ ڈالر ہوگئی۔

اسی طرح پاکستان کا تجارتی خسارہ، جو پہلے تقریباً 26 ارب 32 کروڑ ڈالر تھا، بڑھ کر تقریباً 32 ارب 47 کروڑ ڈالر ہوگیا۔ اس حساب میں برآمدات کی پہلے سے شائع شدہ رقم تبدیل نہیں کی گئی۔

تجارتی خسارے کا مطلب ہے کہ پاکستان بیرون ملک سے جتنا سامان خریدتا ہے، اس کی مجموعی قیمت ملک سے باہر فروخت ہونے والے سامان کی قیمت سے زیادہ ہو۔

لیکن یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خسارے کے نئے اعداد و شمار کسی نئی تجارت کی وجہ سے سامنے نہیں آئے۔ یہ پہلے سے ہونے والی درآمدات کے ریکارڈ میں درستگی ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ 18 ارب ڈالر کی کوئی سرکاری رقم غائب ہوئی یا واپس حاصل کی گئی ہے۔

درآمدات اور تجارتی خسارے کے درست اعداد و شمار حکومت کے لیے اہم ہوتے ہیں، کیونکہ انہی کی مدد سے ڈالر کی ضرورت، بیرونی تجارت اور ملکی معیشت کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

البتہ تجارتی خسارے میں ہونے والی اس درستگی کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی لازماً اتنا ہی اضافہ ہوا ہے، کیونکہ اس کے حساب میں بیرون ملک سے آنے والی دوسری رقوم اور مختلف ادائیگیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔

ٹیکسٹائل، کپاس اور مشینری کا ریکارڈ سب سے زیادہ متاثر

PBS کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ فرق ٹیکسٹائل سے متعلق درآمدات کے ریکارڈ میں تھا۔

ٹیکسٹائل گروپ کے اعداد و شمار میں تقریباً 3 ارب 15 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ اس میں خام کپاس کا حصہ تقریباً 1 ارب 43 کروڑ ڈالر تھا، جبکہ باقی رقم میں دوسری ٹیکسٹائل مصنوعات اور صنعتوں میں استعمال ہونے والا سامان شامل تھا۔

زرعی اور دوسرے کیمیکل مصنوعات کے ریکارڈ میں 86 کروڑ ڈالر، دھاتوں میں تقریباً 83 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور مشینری میں 67 کروڑ ڈالر کا اضافہ سامنے آیا۔

Facilitation Scheme کے تحت مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ درآمدات چین سے ہوئیں، جن کی مالیت تقریباً 2 ارب 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھی۔ اس کے بعد امریکہ سے 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اور برازیل سے 50 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا سامان درآمد ہوا۔

یہ اعداد و شمار صرف اس مخصوص کسٹمز کیٹیگری کے ہیں۔ انہیں ان ممالک کے ساتھ پاکستان کی مکمل درآمدات یا تجارتی خسارے کے اعداد و شمار نہیں سمجھنا چاہیے۔

چین کے ساتھ تجارتی ریکارڈ سے تحقیقات کیسے شروع ہوئیں؟

یہ مسئلہ اکتوبر 2026 میں پہلی بار سامنے نہیں آیا۔ اس پر باقاعدہ کام 2025 میں شروع ہو چکا تھا۔

اس وقت پاکستان کے ریکارڈ میں چین سے درآمد ہونے والے سامان اور چین کے ریکارڈ میں پاکستان کو برآمد کیے گئے سامان کی مالیت میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا۔

وزیراعظم آفس نے 26 مارچ 2025 کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی۔ اس کے بعد 10 اپریل کو ایک کمیٹی قائم کی گئی، جس میں سرکاری اداروں، کاروباری تنظیموں اور تعلیمی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔

ابتدائی طور پر سامان کی قیمت کم ظاہر کرنے اور غلط معلومات درج کرنے جیسے خدشات پر بھی غور ہوا۔ تاہم جانچ میں معلوم ہوا کہ کسٹمز کے کچھ ریکارڈز کا سرکاری ڈیٹا میں شامل نہ ہونا اور مختلف اداروں کے رپورٹنگ طریقوں میں فرق بھی اس مسئلے کی اہم وجوہات تھیں۔

نومبر 2025 میں وزیر خزانہ نے ایک اور کمیٹی قائم کی تاکہ PRAL سے PSW پر منتقلی اور تجارتی ریکارڈ میں موجود فرق کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس کے بعد جنوری، اپریل، مئی اور اگست 2026 میں PBS، PSW اور FBR کے درمیان تکنیکی اجلاس ہوئے۔ PBS کے مطابق اگست تک پانچ سال کے ریکارڈ سے متعلق 1,380 شماریاتی رپورٹس دوبارہ تیار کی جا چکی تھیں۔

سرکاری رپورٹ میں اس مسئلے کو بنیادی طور پر ڈیٹا سسٹمز اور رپورٹنگ کے طریقوں میں تبدیلی سے جوڑا گیا ہے۔ PBS کے مطابق جان بوجھ کر اعداد و شمار میں ردوبدل کا امکان انتہائی کم تھا۔ تاہم یہ ادارے کا اپنا جائزہ ہے، کسی الگ قانونی تحقیقات کا حتمی فیصلہ نہیں۔

IMF کو کیا بتایا گیا اور آگے کیا ہوگا؟

عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی مئی 2026 کی رپورٹ میں بھی اس معاملے کا ذکر موجود ہے۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان نے 2020 سے 2025 تک کی درآمدات کے سالانہ اور سہ ماہی اعداد و شمار درست کر لیے ہیں، جبکہ ماہانہ اعداد و شمار کی درستگی اگست 2026 کے آخر تک مکمل کرنے کا منصوبہ تھا۔

اگست میں PBS نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ماہانہ ریکارڈ کی درستگی مکمل ہو چکی ہے اور IMF سے متعلق تین اہم وعدوں پر بھی بڑی حد تک عمل کر لیا گیا ہے۔

نئے انتظام کے تحت PSW کو درآمدات اور برآمدات کے سرکاری ڈیٹا کا بنیادی ذریعہ بنایا گیا ہے۔ PBS اور FBR کے درمیان ہر تین ماہ بعد ریکارڈ کی جانچ کا طریقہ بھی طے کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچا جا سکے۔

تاہم اگست کی رپورٹ کے وقت کچھ تکنیکی معاملات پر کام باقی تھا۔ ڈیٹا خودکار طریقے سے فراہم کرنے کے مجوزہ نظام کو FBR کی باضابطہ منظوری درکار تھی، جبکہ کچھ مخصوص درآمدی ریکارڈز کا معاملہ بھی زیرِ جائزہ تھا۔ PBS کے مطابق ان باقی معاملات کا مجموعی اعداد و شمار پر اثر بہت کم تھا۔

پانچ سال کے تجارتی اعداد و شمار کی درستگی کے بعد اب اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آئندہ تمام متعلقہ اداروں کے ریکارڈ آپس میں ملتے رہیں۔ کسٹمز کے طریقہ کار میں نئی تبدیلیوں کو بروقت شامل کرنا ضروری ہوگا، تاکہ پاکستان کی درآمدات اور تجارتی خسارے کی درست صورتحال سامنے آتی رہے۔