پاکستان کا نو پڑوسی ملکوں کے ساتھ علاقائی تجارتی خسارہ جولائی تا ستمبر 2026 میں 4.97 ارب ڈالر رہا۔ ڈان نے یہ اعداد اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے ڈیٹا سے منسوب کیے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ خسارہ گزشتہ سال کے اسی عرصے سے 26.62 فیصد زیادہ تھا۔ پچھلے سال یہ 3.93 ارب ڈالر تھا۔

اس گنتی میں کون سے ملک شامل ہیں؟

اس فہرست میں چین، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان، بھوٹان، ایران اور نیپال بھی اس گنتی میں آتے ہیں۔ 4.97 ارب ڈالر کا عدد صرف ان نو ملکوں سے تجارت کا ہے، پوری دنیا سے تجارت کا نہیں۔

برآمدات اور درآمدات میں کیا تبدیلی آئی؟

ڈان کے مطابق، ان ملکوں کو برآمدات 944.24 ملین ڈالر رہیں، جو پچھلے سال سے 6.72 فیصد کم تھیں۔ درآمدات 5.92 ارب ڈالر رہیں، جو 19.79 فیصد زیادہ تھیں۔ ڈان کی بتائی ہوئی خسارے کی رقم الگ دی گئی ہے۔ یہاں اسے ان دونوں اعداد سے دوبارہ نہیں نکالا گیا۔

چین کے ساتھ تجارت میں کیا ہوا؟

ڈان کی تقسیم کے مطابق، خسارے میں اضافے کا زیادہ حصہ چین کے ساتھ تجارت سے آیا۔ چین کے ساتھ الگ خسارہ 858.808 ملین ڈالر بڑھا۔ رپورٹ کے حساب سے یہ نو ملکوں کے مجموعی اضافے کا تقریباً 82.18 فیصد تھا۔ چین کو برآمدات 663.57 ملین ڈالر اور وہاں سے درآمدات 5.82 ارب ڈالر بتائی گئیں۔

بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان کے اعداد کیا ہیں؟

ڈان نے بتایا کہ اس سہ ماہی میں بھارت کو برآمدات ریکارڈ نہیں ہوئیں۔ بھارت سے درآمدات 61.74 ملین ڈالر رہیں، جو 68.90 فیصد زیادہ تھیں۔ بنگلہ دیش کو برآمدات 174.77 ملین ڈالر رہیں، جو 2.96 فیصد کم تھیں۔ وہاں سے درآمدات 13.88 ملین ڈالر رہیں، جو 36.11 فیصد کم تھیں۔

افغانستان کے اعداد کے ساتھ ایک وضاحت ضروری ہے۔ ڈان نے اس سہ ماہی کے لیے افغانستان کو برآمدات 18.86 ملین ڈالر اور وہاں سے درآمدات 0.25 ملین ڈالر بتائیں۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارت، بشمول برآمدات، 10 اکتوبر 2025 سے معطل تھی۔ رپورٹ ان دونوں باتوں کا تعلق واضح نہیں کرتی۔ یہ اعداد بذات خود سرحدی تجارت دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق نہیں کرتے۔

PBS کے قومی اعداد اس سے مختلف کیوں ہیں؟

اسٹیٹ بینک کے تجارتی اعداد بینکوں کے ذریعے آنے والی برآمدی رقم اور درآمدی ادائیگیوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ بینکوں سے باہر کے لین دین کی معلومات بھی دوسرے متعلقہ ذرائع سے لے کر شامل کی جاتی ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کسٹمز سرحد سے گزرنے والے سامان کا ریکارڈ رکھتا ہے۔

SBP درآمدات کو فری آن بورڈ یعنی FOB (Free on Board) بنیاد پر شمار کرتا ہے۔ اس میں بیمہ اور سامان کا کرایہ شامل نہیں ہوتا۔ PBS درآمدات کو سامان، بیمہ اور کرایے سمیت یعنی CIF (Cost, Insurance and Freight) بنیاد پر گنتا ہے۔ اس لیے نو ملکوں کا یہ عدد، PBS کے پاکستان بھر کے تجارتی خسارے جیسا پیمانہ نہیں ہے۔ اسٹیٹ بینک نے دونوں اداروں کے اعداد کا فرق سمجھایا ہے۔

اس مضمون میں علاقائی اعداد صرف ڈان کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔ ڈان نے انہیں اسٹیٹ بینک کے ڈیٹا سے منسوب کیا۔ اسٹیٹ بینک کے اصل ملک وار جدول اس مضمون کے لیے الگ سے نہیں کھولے گئے۔