رپورٹس کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں 26 اکتوبر 2026 کو سرداری نظام کی قرارداد موجودہ شکل میں آگے نہیں بڑھی۔ روزنامہ قدرت نے کہا کہ اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے اسے نمٹا دیا۔ کوئٹہ وائس نے لکھا کہ اسپیکر نے اسے پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ڈیلی انڈیپنڈنٹ نے بتایا کہ قرارداد موجودہ شکل میں آگے نہ بڑھ سکی۔ یہ میڈیا رپورٹس ہیں، اسمبلی کی اصل کارروائی نہیں۔ دیکھی گئی سرکاری Verbatim ویب سائٹ پر اس اجلاس کا ریکارڈ نہیں ملا۔

1976 کے قانون میں کیا لکھا ہے؟

نظامِ سرداری کے خاتمے کے قانون، 1976 کے متن میں لکھا ہے کہ یہ پورے پاکستان پر لاگو ہے اور فوراً نافذ ہوا۔ دفعہ 3 میں سرداری نظام ختم کرنے کے ساتھ کچھ کاموں پر پابندی درج ہے:

  • قانون سے اختیار نہ ملنے پر عدالتی اختیار استعمال کرنا۔
  • نجی جیل رکھنا۔
  • قانونی اجازت کے بغیر کسی کو گرفتار کرنا یا حراست میں رکھنا۔
  • کسی سے مفت کام لینا یا زبردستی کام کرانا۔
  • سردار ہونے یا رہ چکنے کی وجہ سے کسی سے رقم یا چیز مانگنا یا لینا۔
  • سرداری کی بنیاد پر قبائلی زمین اپنے پاس رکھنا یا اس سے فائدہ لینا۔

دیکھی گئی دفعہ میں “سردار” یا “نواب” کے الفاظ بولنے یا لکھنے پر پابندی درج نہیں۔ یہ بات قانون کے متن کے بارے میں ہے۔

قرارداد میں کیا بات تھی؟

روزنامہ قدرت کے مطابق قرارداد میں سرداری نظام ختم کرنے اور “سردار” اور “نواب” کے الفاظ کے استعمال پر پابندی کی بات بھی شامل تھی۔ اصل قرارداد نہیں ملی، اس لیے اس کے درست الفاظ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ روزنامہ قدرت کی رپورٹ پڑھیں.

ڈیلی انڈیپنڈنٹ کے مطابق قرارداد پیش کرنے والے رکن جماعت اسلامی کے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے اسے بدل کر دوبارہ ایوان میں لانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس لیے رپورٹس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔

اجلاس کا شیڈول کیا تھا اور کیا ابھی واضح نہیں؟

ڈان کی 23 اکتوبر کی خبر کے مطابق جمعرات کے اجلاس کا باقی ایجنڈا اگلی نشست تک مؤخر کیا گیا تھا۔ اگلا اجلاس 26 اکتوبر کو سہ پہر 3 بجے مقرر تھا۔ ڈان کی خبر یہاں پڑھیں.

پاکستان کوڈ کی فہرست اس قانون کو “Under Review” دکھاتی ہے۔ اس فہرست اور قانون کے متن سے آج اس قانون کی موجودہ حیثیت یا اس پر عمل درآمد کی تصدیق نہیں ہوتی۔ بلوچستان اسمبلی کے Verbatim صفحے پر دیکھنے کے وقت 26 اکتوبر 2026 کے اجلاس کی کارروائی موجود نہیں تھی۔