بسنت 2027 سے قبل پاکستان پوسٹ نے پنجاب میں پتنگوں اور ڈور کی ڈاک، نجی کوریئر اور آن لائن آرڈرز کے ذریعے ترسیل روکنے کے لیے نگرانی سخت کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی 14 اکتوبر کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان پوسٹ کے سینٹرل پنجاب سرکل سے 13 اکتوبر کو جاری ہونے والے مراسلے میں ان ذرائع سے پتنگوں اور ڈور کی ترسیل پر پابندی کا ذکر ہے اور مشکوک خلاف ورزی کی اطلاع پولیس کو دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

صحافتی رپورٹوں کے مطابق یہ مراسلہ پنجاب حکومت کے ایک اجلاس کے بعد جاری ہوا، جس میں متعلقہ محکموں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پاکستان پوسٹ اور کوریئر کمپنیوں کے نمائندے شریک تھے۔ خطرناک دھاتی اور دھاتی تہہ والی ڈور پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ تاہم پاکستان پوسٹ کا دستخط شدہ اصل مراسلہ دستیاب نہیں ہوا، اس لیے اس کی قانونی بنیاد، کسی ممکنہ استثنا اور نفاذ کے مخصوص اختیارات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

پتنگیں اور ڈور کہاں سے بھیجنے پر پابندی کی بات ہو رہی ہے؟

رپورٹوں کے مطابق متعلقہ دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ پنجاب میں پتنگوں اور ڈور کے پارسل بک کرنے، روانہ کرنے، ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے اور وصول کنندگان تک پہنچانے کے عمل پر سخت نظر رکھی جائے۔ اس میں پاکستان پوسٹ کے علاوہ نجی کوریئر کمپنیاں اور آن لائن آرڈر کی ترسیل کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔

خاص توجہ دھاتی تار، دھاتی تہہ والی ڈور اور دوسری خطرناک یا ممنوعہ اشیا پر دینے کو کہا گیا ہے۔ تاہم خبروں میں نقل کی گئی ہدایات صرف ایسی ڈور تک محدود نہیں، بلکہ پتنگوں اور ڈور کی ترسیل کا وسیع ذکر بھی کرتی ہیں۔ اس لیے عام کاغذی پتنگ کو صرف اس بنیاد پر کوریئر سے بھیجنے کی اجازت فرض نہیں کی جا سکتی کہ مجاز بسنت کے دوران اسے اڑانے کی اجازت مل سکتی ہے۔

آن لائن ڈیلیوری کا نام آنے سے یہ نتیجہ بھی نہیں نکلتا کہ تمام آن لائن دکانیں بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ خبر کا تعلق پتنگ بازی کے سامان کی جسمانی ترسیل اور اسے روکنے کے لیے متعلقہ اداروں کی ہدایات سے ہے۔ ملک بھر میں یکساں نئی پابندی کا دعویٰ بھی ان رپورٹوں سے ثابت نہیں ہوتا؛ بیان کردہ دائرہ پنجاب ہے۔

لاہور میں کوریئر پر پہلے ہی پابندی لگ چکی تھی

یہ پابندی پہلی بار اکتوبر میں سامنے نہیں آئی۔ ضلعی انتظامیہ لاہور نے 17 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ شہر میں کوریئر کمپنیوں اور ٹرانسپورٹ سروسز کے ذریعے پتنگ بازی کے سامان کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اس اعلان میں راوی، ٹھوکر، شاہدرہ، بابو صابو اور سگیاں سمیت شہر کے داخلی راستوں پر چیکنگ کا ذکر بھی تھا۔

ستمبر کی ہدایات کا زور لاہور میں غیر قانونی سامان کی آمد روکنے پر تھا۔ اب 13 اکتوبر کے پاکستان پوسٹ مراسلے سے متعلق رپورٹوں میں پنجاب کے مختلف ڈاک اور ترسیلی نظام میں نگرانی اور محکموں کے درمیان رابطہ بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔ فرق یہی ہے کہ پہلے سے موجود پابندیوں پر عمل درآمد مزید منظم کرنے کی ہدایات سامنے آئی ہیں؛ محض اس خبر سے 13 اکتوبر کو کوئی نیا قانون بننے کا نتیجہ نہیں نکلتا۔

مشکوک پارسل کی اطلاع کس کو دی جائے گی؟

14 اکتوبر کی خبر کے مطابق پاکستان پوسٹ کے عملے کو مشکوک یا ممنوعہ سامان کے بارے میں فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن کو آگاہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایسے افراد کی نشاندہی کرنے کو بھی کہا گیا ہے جو ممنوعہ سامان بک کرانے یا بھیجنے کی کوشش کریں۔ متعلقہ حکام، جن میں ڈپٹی کمشنر کا دفتر بھی شامل ہے، کو رپورٹ دینے کا ذکر ہے۔

کوریئر کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز اور آن لائن ڈیلیوری فراہم کرنے والے اداروں سے تعاون مانگا گیا ہے۔ مختلف محکموں کے درمیان فوری رابطے کے لیے خصوصی واٹس ایپ گروپ قائم کرنے کی ہدایت بھی رپورٹ ہوئی ہے، لیکن یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ ایسے گروپ واقعی بن چکے ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ہر پارسل کھولنے کا حکم، کسی مخصوص ضبطی کی تصدیق یا نئی سزا کا اعلان ہو چکا ہے۔ ایسی تفصیل کے لیے اصل مراسلہ اور متعلقہ قانونی حکم دیکھنا ضروری ہوگا۔

کیا بسنت میں پتنگ اڑانے کی اجازت بھی ختم ہو گئی؟

ڈاک اور کوریئر کی ترسیل سے متعلق ہدایات کو بسنت کے دوران پتنگ اڑانے کی اجازت کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ مجاز دنوں میں قواعد کے مطابق پتنگ اڑانا، مقررہ شرائط کے تحت پتنگ فروخت کرنا اور پارسل کے ذریعے سامان منگوانا تین الگ معاملات ہیں۔

لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی 16 ستمبر کی ہدایات میں مخصوص قسم کی کاغذی پتنگوں اور سوتی ڈور کی اجازت کا ذکر ہے، جبکہ دھاتی، کیمیکل لگی اور تیز مانجھے والی ڈور پر پابندی بیان کی گئی ہے۔ تاہم اڑانے کے لیے کسی سامان کا منظور شدہ ہونا اس کی گھر تک کوریئر ڈیلیوری کی خودکار اجازت نہیں بنتا۔

اسی طرح رجسٹرڈ دکاندار ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر وقت آن لائن آرڈر لے کر پتنگوں کی ہوم ڈیلیوری کی جا سکتی ہے۔ اکتوبر کے دستیاب بیانات میں مجاز سامان کے لیے کسی مخصوص کوریئر استثنا یا خصوصی ترسیلی مدت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

پنجاب پولیس کے مطابق دھاتی ڈور اور غیر قانونی پتنگ بازی انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں۔ پولیس نے ماضی میں لاہور میں مخصوص دنوں کے دوران ضابطوں کے تحت بسنت کی اجازت اور ممنوعہ سرگرمیوں میں واضح فرق بھی کیا ہے۔ اکتوبر کی ترسیلی ہدایات کو مستقبل کی مجاز بسنت منسوخ ہونے کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے؛ پتنگ اڑانے کی اجازت کا انحصار متعلقہ وقت کے سرکاری ضوابط پر ہوگا۔

بسنت 2027 کی تاریخوں اور ترسیل کے قواعد پر کیا ابہام ہے؟

بسنت کی تاریخوں سے متعلق بھی 2026 میں تبدیلیاں سامنے آئیں۔ ضلعی انتظامیہ لاہور کی ایک پہلے کی اطلاع میں 12 سے 14 مارچ 2027 کا ذکر تھا۔ بعد میں 30 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے 29 جنوری سے 7 فروری کا پروگرام منظور کیا، جس میں 5 فروری کو وقفہ رکھا گیا تھا۔ 6 اکتوبر کی رپورٹنگ میں جنوری کے شیڈول پر اعتراضات اور مارچ کی تاریخوں پر دوبارہ غور کا ذکر آیا، لیکن ستمبر کے اعلان کو منسوخ کرنے والا کوئی نیا حتمی نوٹیفکیشن اس رپورٹ سے ثابت نہیں ہوا۔ جشن اور سامان کی مجاز فروخت کی درست تاریخوں کے لیے تازہ سرکاری ہدایت دیکھنا ضروری ہے۔

پاکستان پوسٹ کے اصل 13 اکتوبر کے مراسلے کی مکمل عبارت، اس کی قانونی بنیاد اور مستقبل میں مجاز فروخت کنندگان کے لیے کسی ممکنہ استثنا کی تصدیق ابھی باقی ہے۔ فی الحال خبروں سے واضح ہونے والی بات یہ ہے کہ پنجاب میں پتنگوں اور ڈور کی ترسیل کی نگرانی سخت کرنے اور مشکوک ممنوعہ پارسلوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی ہدایات جاری ہوئی ہیں۔