پاکستان کے نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے سربراہ جنرل سید عامر رضا نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی یا کوئی ایسا فوجی قدم اٹھایا جس سے کشیدگی بڑھے، تو اسے اپنی توقع سے کہیں زیادہ سخت جواب مل سکتا ہے۔
انہوں نے ہفتہ، 17 اکتوبر کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ملک کی سرحدوں اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک کے درمیان جنگ کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
جنرل عامر رضا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان سے متعلق سخت بیان دیا اور پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی اس پر ردعمل ظاہر کیا۔ تاہم ان بیانات میں کسی نئی فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان نہیں کیا گیا۔
جنرل عامر رضا نے کاکول میں کیا کہا؟
جنرل سید عامر رضا پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا اور نئے فوجی افسران سے خطاب کیا۔
Dawn اور HUM News کی رپورٹس کے مطابق، جنرل عامر رضا نے مخالفین کو خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف کوئی فوجی قدم اٹھانے سے پہلے اس کے نتائج کو سمجھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مخالف پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا غلط اندازہ لگا کر جارحیت کرتا ہے تو اسے اپنی سوچ اور توقع سے کہیں زیادہ سخت جواب مل سکتا ہے۔
جنرل عامر رضا نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا اور ملکی دفاع کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اس کی امن کی خواہش اور تحمل کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔
ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ پر کیا کہا گیا؟
جنرل عامر رضا نے اپنے خطاب میں جنگ سے بچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، ایسے ماحول میں جہاں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہوں، فوجی تصادم سے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اگر کوئی بڑا فوجی تنازع شروع ہوتا ہے تو حالات مزید خراب ہونے اور جنگ پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔
اسی وجہ سے دونوں ملکوں کے سیاسی اور فوجی رہنماؤں کے بیانات اہم سمجھے جاتے ہیں، خاص طور پر جب ان میں کسی ممکنہ کارروائی یا سخت جواب کا ذکر ہو۔
جنرل عامر رضا نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، بات چیت اور استحکام کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔
ان کے خطاب میں فوجی تیاری کا پیغام بھی تھا اور جنگ کے خطرات سے بچنے کی بات بھی۔ اس دوران نہ کسی ایٹمی حملے کا اعلان ہوا، نہ نئی فوجی کارروائی کا اور نہ ہی پاکستان کی ایٹمی پالیسی میں کسی تبدیلی کا ذکر کیا گیا۔
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کیا بیان دیا تھا؟
جنرل عامر رضا کے خطاب سے دو دن پہلے، جمعرات 15 اکتوبر کو بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں ایک دفاعی تقریب سے خطاب کیا تھا۔
بھارتی وزارت دفاع کے سرکاری بیان کے مطابق، راج ناتھ سنگھ نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں پاکستان سے آنے والی دہشت گردی کی کوئی نئی کارروائی ہوئی تو بھارت اس کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دے گا۔
بھارتی وزیر دفاع نے آپریشن سندور، بالاکوٹ حملے اور ماضی کی دوسری فوجی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں اپنی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کی مثال قرار دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت امن چاہتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔
ان کا بیان مستقبل میں کسی ممکنہ دہشت گرد حملے کے حوالے سے تھا۔ انہوں نے 15 اکتوبر کے خطاب میں پاکستان کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا۔
بھارت کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں موجود بعض مسلح گروہ بھارتی علاقوں میں حملوں میں ملوث ہیں۔ دوسری طرف پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ دونوں ممالک میں مختلف واقعات کی ذمہ داری اور فوجی کارروائیوں کے نتائج پر اختلافات موجود ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارت کو کیا جواب دیا؟
بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے اگلے دن، جمعہ 16 اکتوبر کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس پر سخت ردعمل دیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے بھارتی بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز قرار دیا اور کہا کہ ایسے بیانات خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔
Radio Pakistan کے مطابق، ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اس تجربے سے سبق سیکھنا چاہیے۔
ترجمان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ دھمکی آمیز بیانات سے گریز کرے اور خطے میں امن کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تحمل اور امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
اس کے اگلے روز جنرل عامر رضا نے کاکول میں خطاب کیا۔ اس طرح 15 سے 17 اکتوبر کے دوران دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے، لیکن ان سے کسی نئی جنگ کے آغاز کی تصدیق نہیں ہوتی۔
آپریشن سندور اور پاکستان کے اندر سیکیورٹی سے متعلق دعوے
جنرل عامر رضا نے اپنے خطاب میں جھوٹی خبروں، گمراہ کن معلومات اور پروپیگنڈے کا معاملہ بھی اٹھایا۔
ان کا الزام تھا کہ پاکستان کے مخالف عناصر عوام اور فوج کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے دہشت گردی اور دوسرے بالواسطہ طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
مئی 2025 کی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے جنرل عامر رضا نے بھارتی آپریشن سندور کو ناکام قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے بعد مخالفین نے پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔
یہ جنرل عامر رضا کے دعوے اور ان کا فوجی مؤقف ہے۔ بھارتی حکومت آپریشن سندور کے نتائج کے بارے میں مختلف مؤقف رکھتی ہے اور اسے اپنی فوجی صلاحیت کا مظاہرہ قرار دیتی رہی ہے۔
دونوں ممالک کے ان متضاد دعوؤں کو آزادانہ تصدیق کے بغیر حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
جنرل عامر رضا نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی جنگ کے طریقوں کو بدل رہی ہے۔ انہوں نے فوجی افسران پر زور دیا کہ وہ نئے ہتھیاروں، ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کے لیے خود کو تیار رکھیں۔
جنرل سید عامر رضا کون ہیں؟
جنرل سید عامر رضا پاکستان کے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ ہیں۔ یہ ملک کے اعلیٰ فوجی کمانڈ سے متعلق ایک اہم عہدہ ہے۔
حکومت پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے 24 جولائی 2026 کو عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی اور نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے سربراہ کے طور پر تقرری کا اعلان کیا تھا۔
اس سے پہلے وہ پاک فوج میں چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
اس لیے 17 اکتوبر کو کاکول میں خطاب کے وقت ان کا درست فوجی رینک جنرل تھا، لیفٹیننٹ جنرل نہیں۔
ان کے عہدے کے لیے انگریزی میں CNSC کا مختصر نام استعمال ہوتا ہے۔ اس خبر میں اس سے مراد ایک فوجی کمانڈر کا عہدہ ہے، کسی حکومتی سیکیورٹی کمیٹی کا مشترکہ فیصلہ نہیں۔
مئی 2025 کی کشیدگی کا حالیہ بیانات سے کیا تعلق ہے؟
پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ سخت بیانات میں مئی 2025 کی فوجی کشیدگی کا ذکر بھی دوبارہ سامنے آیا ہے۔
اس تنازع سے پہلے 22 اپریل 2025 کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک حملہ ہوا تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بھارت نے پاکستان میں موجود مسلح گروہوں کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ پاکستان نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی۔
اس کے بعد بھارت نے پاکستان میں بعض مقامات پر فوجی حملے کیے، جنہیں بھارتی حکومت نے دہشت گردوں کے ٹھکانے قرار دیا۔ پاکستان نے ان اہداف کے بارے میں بھارتی دعوؤں کو مسترد کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان کئی دن تک فوجی کارروائیاں اور جوابی حملے ہوئے۔ آخرکار 10 مئی 2025 کو جنگ بندی پر اتفاق ہوا، اگرچہ اس کے بعد بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آئے۔
Reuters نے اس وقت فوجی کشیدگی، جنگ بندی اور اس کے بعد کی صورت حال کی تفصیلات رپورٹ کی تھیں۔
پاکستان اور بھارت آج بھی اس تنازع کے نتائج کے بارے میں مختلف دعوے کرتے ہیں۔ اسی لیے دونوں طرف کے حکام حالیہ بیانات میں مئی 2025 کے واقعات کو اپنی اپنی دفاعی پالیسی کی مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تفصیلات
17 اکتوبر کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 154ویں پی ایم اے لانگ کورس، 39ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس، 73ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 28ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ہوئی۔
جنرل عامر رضا نے تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس اور ان کے اہل خانہ کو مبارک باد دی۔ انہوں نے نئے فوجی افسران کو ہمت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، ان حالات نے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت مزید واضح کی ہے۔
جنرل عامر رضا نے اسلام آباد معاہدے اور مکہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی مثال قرار دیا۔
انہوں نے فلسطینی عوام کی مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا اور ان کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔
ان کا خطاب نئے افسران کی تربیت، ملکی دفاع، جدید ٹیکنالوجی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال سمیت کئی اہم معاملات پر مشتمل تھا۔
کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان نئی جنگ شروع ہونے والی ہے؟
پاکستان اور بھارت کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سرحد پار دہشت گردی کے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
تاہم کسی فوجی یا سیاسی رہنما کے سخت بیان کو خود بخود نئی جنگ یا فوری فوجی حملے کا اعلان سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
جنرل عامر رضا نے پاکستان کی دفاعی تیاری پر زور دیا، لیکن اس کے ساتھ ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرات کی طرف بھی توجہ دلائی۔
17 اکتوبر تک اس خبر کے لیے جائزہ لیے گئے بیانات میں کسی نئی فوجی کارروائی، جنگ کے آغاز یا پاکستان کی ایٹمی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس کے بعد ہونے والی کسی بھی نئی پیش رفت کی الگ سے تصدیق ضروری ہوگی۔
ذرائع
- Dawn — جنرل عامر رضا کا کاکول میں خطاب، 17 اکتوبر 2026
- The News — جنرل عامر رضا کا خطاب اور علاقائی سیکیورٹی
- HUM News — پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں جنرل عامر رضا کا خطاب
- بھارتی وزارت دفاع — راج ناتھ سنگھ کا 15 اکتوبر کا بیان
- Radio Pakistan — پاکستان کے دفتر خارجہ کا ردعمل، 16 اکتوبر 2026
- Press Information Department — جنرل عامر رضا کی ترقی اور تقرری، 24 جولائی 2026
- Reuters — مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی کشیدگی