ریڈیو پاکستان نے 24 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ پاکستان ریلوے کے ہنگامی اقدامات 31 دسمبر 2026 تک جاری رہیں گے۔ رپورٹ کے مطابق، ریلوے کے وزیر محمد حنیف عباسی نے ان اقدامات کی ہدایت دی۔

ریلوے افسران کے لیے کیا ہدایات دی گئی ہیں؟

ان ہدایات میں روزانہ رپورٹ دینا بھی شامل ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق، سول اور مکینیکل شعبوں کے چیف انجینئرز کو اپنے کام کے بارے میں روزانہ وزارت کو رپورٹ دینی ہوگی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے بھی رپورٹ کیا کہ حفاظتی شعبے کے سربراہ کو روزانہ رپورٹ دینی ہوگی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، فیلڈ افسران کی چھٹیاں منسوخ کی گئی ہیں۔ انہیں اتوار کو بھی جائے کار پر جا کر ٹرینوں کے کام کی نگرانی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق، سرکاری کام کے لیے دوسرے شہروں کا سفر کرنے والے ریلوے افسران کو ٹرین سے سفر کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

ریلوے حادثات کے بارے میں کیا رپورٹ ہوا؟

ایکسپریس ٹریبیون کی 18 اکتوبر 2026 کی رپورٹ میں ریلوے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ یکم جنوری 2026 سے مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے 55 سے زیادہ حادثات رپورٹ ہوئے تھے۔ یہ تعداد ریلوے ذرائع کے حوالے سے دی گئی ہے۔ اسے آزادانہ طور پر جانچا گیا حتمی شمار نہیں کہا جا سکتا۔ اس سے پچھلے سالوں کے مقابلے میں حادثات کی شرح میں ثابت شدہ اضافے کا نتیجہ بھی نہیں نکلتا۔

ملتان کے قریب ٹرین حادثہ

ڈان کے مطابق، پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس 13 اکتوبر 2026 کو ملتان ضلع میں شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئی تھی۔

14 اکتوبر کو شائع ہونے والی ڈان کی رپورٹ کے مطابق، حادثے میں پانچ مسافر جاں بحق اور 49 زخمی ہوئے تھے۔

ڈان نے رپورٹ کیا کہ ابتدائی تحقیقات میں مسافر بوگی سے متعلق ایک تکنیکی خرابی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، ریلوے کے وزیر محمد حنیف عباسی نے وفاقی حکومت کے انسپکٹر آف ریلوے کو تحقیقات کی ہدایت بھی دی تھی۔ یہ ابتدائی نتیجہ تھا، حتمی فیصلہ نہیں۔

مسافروں کے لیے اس رپورٹ کا کیا مطلب ہے؟

ریڈیو پاکستان کی اردو رپورٹ میں بیان کردہ اقدامات کا تعلق اندرونی نگرانی اور حفاظتی رپورٹنگ سے ہے۔ اس رپورٹ میں عام مسافر کرایوں میں تبدیلی یا ملک بھر میں ٹرین سروس معطل کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ صرف اس رپورٹ کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تمام روٹس پر ٹرینیں بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہی ہیں۔