پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے درجنوں بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت کے بعد سندھ حکومت نے صوبے کے نجی اسکولوں کے لیے عمارت کا فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا ہے۔ خطرناک عمارتوں میں کلاسیں بند کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
16 اکتوبر کو جاری ہونے والے احکامات کے مطابق اسکول انتظامیہ کو عمارت میں موجود خرابیوں کو دور کرنا ہوگا، بجلی اور گیس کے کنکشن چیک کرانے ہوں گے اور حفاظتی معائنے کے لیے متعلقہ اداروں سے تعاون کرنا ہوگا۔
یہ ہدایات 15 اکتوبر کو پشاور کے الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آنے والے حادثے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ Reuters کے مطابق اس واقعے میں 34 بچے اور ایک خاتون ٹیچر ہلاک ہوئے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بھی اسکولوں کی عمارتوں کی جانچ کے الگ الگ احکامات جاری ہوئے ہیں، تاہم تینوں صوبوں کی ہدایات ایک جیسی نہیں ہیں۔
سندھ حکومت نے نجی اسکولوں کو کیا حکم دیا ہے؟
The Express Tribune کے مطابق، سندھ کے محکمہ اسکول ایجوکیشن نے 16 اکتوبر کو نجی تعلیمی اداروں کے لیے ایک خط جاری کیا، جس پر ایڈیشنل ڈائریکٹر رجسٹریشن رافعہ جاوید کے دستخط تھے۔
خط کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نجی اسکولوں کے مالکان، پرنسپلز اور انتظامیہ کو متعلقہ بلڈنگ کنٹرول ادارے سے عمارت کا درست فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسکولوں کو اپنی عمارتوں کی حالت چیک کرنی ہوگی اور جہاں ضروری ہو وہاں فوری مرمت کرانا ہوگی۔ اگر کسی کمرے کی چھت، دیوار یا عمارت کا دوسرا حصہ خطرناک ہے تو اسے محفوظ قرار دیے جانے تک استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
ہدایات صرف چھتوں اور دیواروں تک محدود نہیں۔ اسکولوں کو بجلی کی وائرنگ، سوئچ بورڈ، گیس کے کنکشن، لیبارٹریوں، کچن اور جنریٹر رومز کی حفاظت پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
جہاں متعلقہ قواعد کے مطابق ضروری ہو، وہاں آگ بجھانے کے آلات اور ہنگامی صورت حال میں بچوں کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کے انتظامات بھی موجود ہونے چاہییں۔
Vitals News کے مطابق، اسکولوں کو اپنے فٹنس سرٹیفکیٹ معائنہ کرنے والی سرکاری ٹیموں کو دکھانے کے لیے دستیاب رکھنا ہوں گے۔ حکام بغیر پہلے اطلاع دیے بھی اسکولوں کا معائنہ کر سکیں گے۔
اس خبر کے لیے سندھ حکومت کا اصل دستخط شدہ خط الگ سے حاصل نہیں ہو سکا۔ یہاں بیان کی گئی تفصیلات اس کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹس پر مبنی ہیں۔
کیا خطرناک عمارت میں اسکول کھلا رہ سکتا ہے؟
سندھ کے رپورٹ ہونے والے احکامات کے مطابق ایسی عمارت میں کلاسیں جاری نہیں رکھی جا سکتیں جہاں بچوں، اساتذہ یا دوسرے عملے کی جان کو خطرہ ہو۔
اگر پوری عمارت کے بجائے کوئی ایک کمرہ یا حصہ خطرناک ہو تو اس حصے کو بند رکھنا ہوگا۔ ضروری مرمت اور حفاظتی جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی اسے دوبارہ استعمال کیا جا سکے گا۔
اسکول انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ عمارت خستہ حال، کمزور یا خطرناک ہونے کی صورت میں متعلقہ سرکاری ادارے کو فوری اطلاع دی جائے۔
رپورٹس کے مطابق سنگین خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے اور متعلقہ قوانین کے تحت اسکول کی عمارت بند یا سیل بھی کی جا سکتی ہے۔
اگر کسی اسکول کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر بند کرنا پڑے تو متعلقہ ادارہ بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے انہیں قریبی محفوظ اسکولوں میں منتقل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں کو اپنی رجسٹریشن مکمل کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔
تاہم دستیاب رپورٹس میں یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ سندھ کے تمام نجی اسکولوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ لینے کے لیے لازمی طور پر تین، سات یا 30 دن دیے گئے ہیں۔ سرٹیفکیٹ کی کوئی ایک تصدیق شدہ فیس اور اسے دوبارہ بنوانے کی مدت بھی سامنے نہیں آئی۔
پشاور کے الخیر اسکول میں کیا ہوا تھا؟
جمعرات، 15 اکتوبر کو پشاور کی دیر کالونی میں واقع نجی تعلیمی ادارے الخیر ایجوکیشن سینٹر کی چھت صبح کلاسوں کے دوران گر گئی تھی۔
Reuters کی 16 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، اس حادثے میں 34 بچے اور ایک خاتون ٹیچر ہلاک ہوئے، جبکہ 45 بچے زخمی ہوئے۔ رپورٹ شائع ہونے تک زیادہ تر زخمی بچوں کو علاج کے بعد اسپتال سے فارغ کیا جا چکا تھا، جبکہ تین کی حالت تشویش ناک تھی۔
حادثے کے بعد پولیس نے اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا اور تحقیقات شروع کی گئیں۔ پشاور پولیس کے سربراہ میاں سعید احمد کے مطابق عمارت پہلے ہی کمزور تھی اور چھت پر اضافی تعمیرات کا وزن بھی موجود تھا۔
Associated Press نے متاثرہ خاندانوں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ بعض افراد نے پہلے بھی کلاس رومز میں بارش کا پانی داخل ہونے اور عمارت کی حالت کے بارے میں شکایت کی تھی۔
ان بیانات کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ عمارت میں پہلے سے موجود مسائل کی جانچ کیوں نہ ہو سکی اور اسکول کی حفاظت کے لیے بروقت اقدامات کیے گئے تھے یا نہیں۔
تاہم پولیس کا ابتدائی مؤقف اور متاثرہ خاندانوں کی شکایات تحقیقات کا حصہ ہیں۔ حادثے کی مکمل تکنیکی وجہ اور کسی شخص کی قانونی ذمہ داری کا حتمی فیصلہ متعلقہ تحقیقات اور عدالت کے ذریعے ہی ہوگا۔ صرف گرفتاری کا مطلب کسی شخص کا مجرم ثابت ہونا نہیں ہے۔
اسکول کی عمارت کا فٹنس سرٹیفکیٹ کیا ہوتا ہے؟
فٹنس سرٹیفکیٹ ایک ایسی دستاویز ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمارت کو متعلقہ قواعد کے مطابق جانچا گیا ہے اور اسے استعمال کے قابل سمجھا گیا ہے۔
عمارت کی جانچ میں چھت، دیواریں، ستون، شہتیر، بنیاد اور سیڑھیوں جیسے اہم حصوں کی حالت دیکھی جا سکتی ہے۔
تاہم سرٹیفکیٹ جاری کرنے والا ادارہ، معائنے کا طریقہ اور ضروری کاغذات علاقے کے متعلقہ قوانین کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
والدین کے لیے یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اسکول کی رجسٹریشن کا مطلب ہے کہ اسے تعلیمی ادارے کے طور پر کام کرنے کی اجازت ملی ہے۔ لیکن اس سے خود بخود ثابت نہیں ہوتا کہ کسی ماہر انجینئر نے اس کی عمارت کی مضبوطی بھی چیک کی ہے۔
اسی طرح فٹنس سرٹیفکیٹ ہونے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ عمارت میں آئندہ کبھی کوئی خرابی پیدا نہیں ہو سکتی۔
اگر چھت سے پانی ٹپکنے لگے، دیواروں میں نئی دراڑیں پڑ جائیں یا عمارت پر مزید تعمیر کر دی جائے تو دوبارہ ماہرین سے جانچ کرانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں نجی اسکولوں کی جانچ کیسے ہوگی؟
پشاور حادثے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
Associated Press کے مطابق، ضلعی کمیٹیوں کو تین دن کے اندر عمارتوں کی جانچ کے نتائج اور اپنی سفارشات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
معائنہ صرف اسکولوں کی اپنی عمارتوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ کرائے پر لی گئی عمارتیں بھی اس میں شامل ہوں گی۔
ٹیمیں چھتوں، دیواروں، ستونوں، شہتیروں، بنیادوں اور سیڑھیوں کی حالت دیکھیں گی۔ اس کے بعد عمارتوں کو محفوظ، مرمت کی ضرورت والی یا ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیا جا سکے گا۔
جن عمارتوں میں سنگین خطرہ سامنے آئے گا، ان کی مزید تکنیکی جانچ کی سفارش کی جائے گی۔
یہاں اہم بات یہ ہے کہ تین دن کی مدت معائنے کی رپورٹ جمع کرانے کے لیے ہے۔ اسے ہر نجی اسکول کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لینے کی آخری تاریخ نہیں سمجھنا چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں اسکولوں کے لیے نئے حفاظتی قواعد بھی تیار ہوں گے
خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی PSRA، کو اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت کے لیے مزید قواعد تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
Dawn کے مطابق، مجوزہ قواعد میں عمارت کی مضبوطی، تعمیراتی معیار، کلاسوں میں بچوں کی تعداد، ہنگامی راستوں، عمارت خالی کرانے کے انتظامات اور باقاعدہ معائنوں جیسے معاملات شامل ہوں گے۔
محکمے نے ان قواعد کا ابتدائی مسودہ اور سفارشات ایک ہفتے کے اندر جمع کرانے کا کہا ہے۔
تاہم ابتدائی مسودہ تیار کرنے کا حکم اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ تمام مجوزہ قواعد پہلے ہی نافذ ہو چکے ہیں۔ ان کی حتمی حیثیت جاننے کے لیے مزید سرکاری ہدایات دیکھنا ضروری ہوگا۔
Dawn نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا کہ نجی اسکولوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کے پاس عمارتوں کی مضبوطی جانچنے کے لیے ضروری انجینئرنگ مہارت کی کمی ہے۔
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف اسکول کی رجسٹریشن اور دوسرے کاغذات دیکھنا کافی نہیں۔ عمارت کتنا وزن برداشت کر سکتی ہے اور اس میں کوئی بڑا خطرہ تو موجود نہیں، یہ متعلقہ ماہرین ہی بہتر انداز میں بتا سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں کے لیے الگ تاریخ مقرر
نجی اسکولوں کے علاوہ خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کے تکنیکی معائنے کا بھی حکم دیا ہے۔
اس مقصد کے لیے محکمہ مواصلات و تعمیرات، یعنی C&W، کو ہر ضلع میں ماہرین کی ٹیمیں فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ ٹیمیں ضلعی محکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر عمارتوں کی حالت اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیں گی۔
Pakistan Today کے مطابق، ان معائنوں کی ضلعی رپورٹس 26 اکتوبر 2026 کو دوپہر 12 بجے تک جمع کرانی ہیں۔
یہ تاریخ سرکاری اسکولوں کے معائنے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ اس کا نجی اسکولوں کے تین دن والے رپورٹنگ حکم سے الگ تعلق ہے۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی اسکولوں کے حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کرانے اور مزید قانون سازی کے بارے میں 15 دن کے اندر رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔
گورنر ہاؤس کے سرکاری بیان کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والا اسکول 2026 میں رجسٹر ہوا تھا، لیکن انتظامیہ نے مقررہ حفاظتی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا تھا۔ یہ حکومت کا مؤقف ہے، جبکہ حادثے کی تحقیقات الگ سے جاری ہیں۔
پنجاب میں نجی اسکولوں کے لیے کیا حکم جاری ہوا ہے؟
پشاور میں پیش آنے والے حادثے کے بعد پنجاب حکومت نے بھی نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی جانچ کا حکم دیا ہے۔
The News کے مطابق، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے محکمہ تعلیم، ڈپٹی کمشنرز اور مقامی حکام کو اسکولوں کا فوری معائنہ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ نے متعلقہ تعلیمی، بلدیاتی اور ریسکیو حکام کو نجی اسکولوں کی عمارتوں کا جائزہ لینے اور خطرناک یا خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی کرنے کا کہا ہے۔
تاہم دستیاب رپورٹس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پنجاب نے بھی سندھ کی طرح تمام نجی اسکولوں کے لیے ایک نیا فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ دونوں صوبوں کے احکامات کو ایک جیسا سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
والدین اپنے بچوں کے اسکول سے کیا پوچھ سکتے ہیں؟
پشاور سانحے کے بعد والدین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کے بچوں کے اسکول کی عمارت کی حالت کیا ہے اور اس کی حفاظتی جانچ کب ہوئی تھی۔
والدین اسکول انتظامیہ سے پوچھ سکتے ہیں کہ جہاں ضروری ہو وہاں عمارت کا فٹنس سرٹیفکیٹ یا حالیہ معائنے کی رپورٹ موجود ہے یا نہیں۔ یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ کسی ماہر نے عمارت میں مرمت یا کسی حصے کو بند کرنے کی سفارش تو نہیں کی۔
اگر چھت سے پانی ٹپکتا ہے، دیواروں میں بڑی دراڑیں ہیں، پلستر گر رہا ہے، سیڑھیاں خراب ہیں یا باہر نکلنے کے راستے بند ہیں تو اس مسئلے کو انتظامیہ کے سامنے فوری اٹھانا چاہیے۔
بجلی کے کھلے تاروں، آگ لگنے کی صورت میں بچوں کو باہر نکالنے کے طریقے اور اسکول میں ہنگامی انتظامات کے بارے میں بھی سوال کیے جا سکتے ہیں۔
بہتر ہے کہ حفاظتی خدشات اسکول انتظامیہ کو تحریری طور پر بتائے جائیں۔ مناسب جواب نہ ملنے پر متعلقہ محکمہ تعلیم یا نجی اسکولوں کی نگرانی کرنے والے ادارے سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
اگر عمارت کا کوئی حصہ فوری خطرناک محسوس ہو تو بچوں اور عملے کو اس جگہ سے دور رکھا جائے اور ہنگامی امداد یا ماہرین سے رابطہ کیا جائے۔
تاہم والدین سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ خود عمارت کی مضبوطی کا حتمی فیصلہ کریں۔ اس کے لیے متعلقہ ماہرین کی تکنیکی جانچ ضروری ہے۔
نجی اسکولوں کی انتظامیہ کو اب کیا کرنا چاہیے؟
سندھ میں نجی اسکولوں کی انتظامیہ کو متعلقہ محکمہ تعلیم اور بلڈنگ کنٹرول ادارے سے فٹنس سرٹیفکیٹ کی شرائط کی تصدیق کرنی چاہیے۔
اگر عمارت میں خرابی کے آثار ہیں تو ماہرین سے جانچ کرائی جائے، خطرناک حصوں کا استعمال روکا جائے اور ضروری مرمت مکمل کی جائے۔
بجلی، گیس، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور ہنگامی راستوں کا جائزہ لینا بھی اہم ہے۔ معائنوں اور مرمت کا ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ متعلقہ حکام کو ضرورت پڑنے پر دکھایا جا سکے۔
خیبر پختونخوا اور پنجاب کے اسکولوں کو اپنے صوبوں میں جاری ہونے والے معائنے کے احکامات پر عمل کرنا ہوگا اور سرکاری ٹیموں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
تمام اسکولوں کے لیے ایک ہی فیس، ایک ہی درخواست دینے کا طریقہ یا ایک ہی آخری تاریخ ثابت نہیں ہوئی۔ اس لیے اسکول انتظامیہ کو غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا نوٹس یا غیر سرکاری فیس کے مطالبات پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
کیا فٹنس سرٹیفکیٹ اب پورے پاکستان میں لازمی ہو گیا ہے؟
اب تک دستیاب معلومات کے مطابق پورے ملک کے نجی اسکولوں کے لیے ایک ہی نیا فٹنس سرٹیفکیٹ حکم ثابت نہیں ہوا۔
سندھ نے نجی اسکولوں کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں عمارتوں کی جانچ کے الگ الگ اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں مزید حفاظتی قواعد تیار کرنے کا عمل بھی شروع ہوا ہے۔
پشاور کے المناک حادثے کے بعد سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکولوں میں موجود خطرات کی بروقت نشاندہی ہو، عمارتوں کی ماہرین سے جانچ کرائی جائے اور جہاں بچوں کی جان کو خطرہ ہو وہاں فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
والدین اور اسکول انتظامیہ کو مزید ہدایات کے لیے اپنے متعلقہ صوبائی اداروں کی تصدیق شدہ معلومات دیکھنی چاہییں۔
ذرائع
- The Express Tribune — سندھ میں نجی اسکولوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ کا حکم، 17 اکتوبر 2026
- Vitals News — سندھ میں اسکولوں کی حفاظت سے متعلق ہدایات، 16 اکتوبر 2026
- Reuters — پشاور اسکول حادثہ اور تحقیقات، 16 اکتوبر 2026
- Associated Press — خیبر پختونخوا میں نجی اسکولوں کا معائنہ اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات
- Dawn — خیبر پختونخوا میں اسکولوں کی نگرانی اور نئے قواعد، 17 اکتوبر 2026
- Pakistan Today — خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں کی جانچ، 16 اکتوبر 2026
- KP Governor House — اسکولوں کی حفاظت سے متعلق گورنر کی ہدایات، 16 اکتوبر 2026
- The News — پنجاب میں نجی تعلیمی اداروں کے معائنے کا حکم، 17 اکتوبر 2026