رپورٹس کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے حکام کو سرکاری ہسپتالوں میں پرچی کا نظام ختم کرنے کے وعدے پر چار ہفتوں میں عمل کرنے کی ہدایت دی۔ یہ ہدایت 30 اکتوبر کی سماعت کے بعد دی گئی، جیسا کہ Dawn اور The Express Tribune نے رپورٹ کیا۔

خصوصی سیکریٹری صحت نبیلہ عرفان نے یقین دہانی کرائی کہ ایمرجنسی اور آؤٹ ڈور مریضوں کو رجسٹریشن کی پرچی لیے بغیر طبی توجہ دی جائے گی۔ رپورٹس کے مطابق محکمہ صحت ٹیکنالوجی پر مبنی مریضوں کے انتظام کا نظام بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ حکام کی جانب سے بتائے گئے وعدے ہیں۔ دستیاب رپورٹس سے یہ تصدیق نہیں ہوتی کہ پرچی کا نظام ختم ہو چکا ہے یا نیا نظام کام کر رہا ہے۔

کون سا نظام متعارف کرانے کا منصوبہ ہے؟

یقین دہانی میں مریضوں کے انتظام کے لیے جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کا ذکر کیا گیا۔ دستیاب رپورٹس میں یہ وضاحت نہیں کہ یہ نظام کیسے کام کرے گا، مختلف ہسپتالوں میں کب شروع ہوگا یا پہلے کن طبی مراکز میں نافذ کیا جائے گا۔

پنجاب ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کی سرکاری HISDU ویب سائٹ پر ہسپتال مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کو محکمے کے منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ویب سائٹ یہ نہیں بتاتی کہ یہی نظام عدالت میں کیے گئے وعدے کے تحت متعارف کرایا جائے گا۔

عدالت پیش رفت کی جانچ کیسے کرے گی؟

رپورٹس کے مطابق عدالت نے عمل درآمد کے ثبوت پر مشتمل دستاویزات اور درخواست میں اٹھائے گئے مسائل اور ضروری طبی سہولتوں کی دستیابی سے متعلق جامع رپورٹیں طلب کیں۔ Dawn اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی وہ رپورٹ جو The News پر شائع ہوئی، یہ بھی بتاتی ہیں کہ عدالت نے بلاجواز عدم تعمیل پر متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کا انتباہ دیا۔

اگلی سماعت کب ہوگی؟

Dawn اور The News پر شائع اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کی گئی۔ دستیاب رپورٹس میں اگلی سماعت کی مخصوص تاریخ کی تصدیق نہیں کی گئی۔

مریضوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ چار ہفتوں کی مدت عمل درآمد کے لیے دی گئی مہلت ہے، اس بات کی تصدیق نہیں کہ ہسپتالوں نے پرچیاں جاری کرنا بند کر دیا ہے۔ دستخط شدہ عدالتی حکم اور محکمے کا نفاذ سے متعلق نوٹس دستیاب نہیں تھا۔