ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا کہ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان نے ٹیکس نیوٹرل بانڈڈ اسٹوریج پالیسی منظور کی ہے اور سعودی کمپنیوں کو ملک میں تجارتی تیل ذخیرہ کرنے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے 30 اکتوبر کو اسلام آباد میں سعودی سفیر ڈاکٹر راجح طامی البگامی سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی۔ ملک نے حب، بلوچستان میں اسٹوریج اور ریفائننگ کمپلیکس کو ایک الگ مجوزہ منصوبہ قرار دیا۔

پہلے کس چیز کی منظوری دی گئی تھی؟

ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 24 اگست کو غیر ملکی سپلائرز کے کھاتے پر پٹرولیم مصنوعات کی درآمد اور کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج کی منظوری دی۔ ڈان نے اس وقت رپورٹ کیا کہ پالیسی ہدایات وفاقی کابینہ کی باضابطہ توثیق سے مشروط تھیں۔ اس مضمون کے لیے دیکھی گئی رپورٹوں سے یہ تصدیق نہیں ہوتی کہ بعد میں یہ توثیق ہوئی یا نہیں۔

اس منصوبے پر پہلے بھی بات ہوئی تھی۔ ڈان نے اے پی پی کی رپورٹ دوبارہ شائع کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے 9 اگست کو سعودی عرب، کویت اور قطر کے ساتھ بانڈڈ اسٹوریج اسکیم کا منصوبہ بتایا تھا۔ اس رپورٹ سے کسی دستخط شدہ معاہدے یا سرمایہ کاری کی تصدیق نہیں ہوتی۔

مقامی فروخت کے لیے ٹیکس نیوٹرل کا کیا مطلب ہے؟

ڈان کے مطابق اگست کی ہدایات میں بانڈڈ اسٹوریج، بلینڈنگ، تجارت اور دوبارہ برآمد کے لیے ٹیکس نیوٹرل حیثیت رکھی گئی تھی۔ مقامی فروخت کے لیے ایندھن بانڈ سے نکالے جانے پر متعلقہ سیلز ٹیکس اور دیگر واجبات مقامی آئل مارکیٹنگ کمپنی یا ریفائنری کو ادا کرنا ہوں گے۔ یہ بیان رپورٹ شدہ ہدایات سے متعلق ہے؛ دیکھی گئی رپورٹوں سے بعد کی توثیق کی تصدیق نہیں ہوئی۔

حب کا منصوبہ پیشکش سے کیسے جڑا ہے؟

ڈان نے حب کو اگست کی ہدایات میں شامل مقامات میں شمار کیا۔ الگ سے، ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا کہ ملک نے حب میں ایک مجوزہ اسٹوریج اور ریفائننگ کمپلیکس کا ذکر کیا جس میں ویری لارج کروڈ کیریئرز کے لیے سہولت ہو سکتی ہے۔ دیکھی گئی رپورٹیں پیشکش اور تجویز کا ذکر کرتی ہیں، حب منصوبے میں سعودی سرمایہ کاری کی تصدیق نہیں کرتیں۔