اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اوپن بینکنگ کے مجوزہ قواعد کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے جاری کیا ہے۔ یہ مسودہ 30 اکتوبر کو جاری ہوا، اور اسٹیٹ بینک نے رائے دینے کے لیے 30 نومبر 2026 تک کا وقت دیا ہے۔ یہ ابھی حتمی قواعد نہیں ہیں۔

مجوزہ نظام میں کیا شامل ہے؟

اسٹیٹ بینک کے مطابق مسودے کا مقصد مالی معلومات کو محفوظ طریقے سے، صارف کی رضامندی کے ساتھ شیئر کرنا اور مجاز تھرڈ پارٹی فراہم کنندگان کے ذریعے کاروباری ادائیگیوں کی سہولت دینا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مجوزہ نظام کاروبار سے کاروبار اور صارف سے کاروبار ادائیگیوں، قرض کے جائزے، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی مالی اعانت اور ضرورت کے مطابق مالی مصنوعات میں مدد دے سکتا ہے۔

کیا صارفین کو اپنے اکاؤنٹ کی معلومات شیئر کرنا ہوں گی؟

اسٹیٹ بینک نے مجوزہ ڈیٹا شیئرنگ کو صارف کی رضامندی سے مشروط بتایا ہے۔ Profit by Pakistan Today نے رپورٹ کیا کہ اکاؤنٹ رکھنے والے اداروں کو صارف کی رضامندی کے ساتھ مجاز فراہم کنندگان کو ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس کے ذریعے رسائی دینا ہوگی۔ Profit نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ صارف آن لائن ڈیش بورڈ کے ذریعے اپنی رضامندی دیکھ، تبدیل یا واپس لے سکیں گے۔

یہ تفصیلات مسودے کے بارے میں خبر رساں ادارے کی رپورٹ ہیں۔ اس مضمون کے لیے اصل مسودہ براہ راست نہیں کھل سکا، اور حتمی شکل دینے سے پہلے مجوزہ قواعد میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔

صارفین کے تحفظ کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مسودے میں ڈیٹا کے تحفظ، رازداری، سائبر سکیورٹی، فراڈ کی روک تھام اور صارفین کے تحفظ کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ Pakistan Era نے رپورٹ کیا کہ مسودے میں بعض غیر مجاز ادائیگیوں کی رقم سات کاروباری دنوں میں واپس کرنے کی تجویز ہے، تاہم اس میں استثنا بھی ہو سکتے ہیں۔ اس شق کی بھی اصل مسودے سے براہ راست تصدیق نہیں ہو سکی۔

رائے کیسے دی جا سکتی ہے؟

اسٹیٹ بینک نے مالیاتی اداروں، فن ٹیک کمپنیوں، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان، صارفین کے گروپس، جامعات اور عوام سے 30 نومبر 2026 تک رائے طلب کی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا اعلان مشاورت کے لیے جاری کردہ مسودے سے متعلق ہے، اس میں حتمی قواعد کے نفاذ کی تاریخ نہیں دی گئی۔