24 اور 25 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹوں میں NCCIA کی دو الگ تحقیقات کا ذکر ہے: ایک والد پر الزام اور کراچی میں تین کمپنیوں کے خلاف کارروائی۔ دستیاب رپورٹوں سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ دونوں معاملات میں ایک ہی لوگ شامل ہیں۔
رپورٹوں کے مطابق NCCIA کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شعیب خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایک والد پر الزام ہے کہ اس نے اپنے بچوں کی فحش ویڈیوز بنائیں اور انہیں ٹیلی گرام کے ذریعے بیچا۔ شعیب خان کے مطابق والد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ملوث افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی۔ یہ الزام ہے، عدالت سے ثابت شدہ جرم نہیں۔ Dawn اور The News نے اس بریفنگ کی خبر دی۔
کراچی میں الگ کارروائی
خبروں کے مطابق، NCCIA کراچی زون نے 23 اکتوبر 2026 کو کراچی کے علاقے رابعہ سٹی، گلستان جوہر میں تین کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی۔ ان کمپنیوں پر بچوں کے جنسی استحصال کو دکھانے والا اینیمیٹڈ مواد اور دیگر ڈیجیٹل مواد بنانے، پھیلانے یا بیچنے کے الزامات لگائے گئے۔ یہ الزامات ہیں، ثابت شدہ جرم نہیں۔ Dawn اور The News نے کارروائی کی خبر دی۔
42 افراد کی گرفتاری کی تفصیل مختلف کیوں ہے؟
کراچی کی کارروائی میں شامل 42 افراد کی قانونی حیثیت کے بارے میں رپورٹوں میں فرق ہے۔ Dawn نے رپورٹ کیا کہ 42 افراد کو گرفتار کیا گیا، اور Dialogue Pakistan کے مطابق ادارے نے بھی انہیں گرفتار ہی بتایا۔ اس کے برعکس، The News کے مطابق NCCIA کے ڈائریکٹر طارق نواز نے جیو نیوز کو بتایا کہ 42 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 13 کو باقاعدہ گرفتار کرکے عدالت سے ریمانڈ لیا گیا۔ حراست اور باقاعدہ گرفتاری ایک جیسی باتیں نہیں ہیں۔
Dawn کے مطابق کراچی کے ایک مجسٹریٹ نے ہفتہ 24 اکتوبر کو 13 ملزمان کو چار دن کے جسمانی ریمانڈ پر NCCIA کے حوالے کیا اور انہیں اگلی سماعت پر پیشرفت رپورٹ کے ساتھ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ Dialogue Pakistan نے بھی اسی ریمانڈ کی خبر دی۔ جسمانی ریمانڈ میں عدالت تفتیش کے لیے ملزم کو ایک محدود مدت تک ادارے کی تحویل میں رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جرم ثابت ہو گیا ہے۔
رپورٹوں سے کون سی بات ثابت نہیں ہوتی؟
دستیاب رپورٹوں سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ والد سے متعلق الزام اور کراچی کی کمپنیوں کے خلاف کارروائی میں ایک ہی لوگ شامل ہیں، اس لیے دونوں معاملات کو الگ پڑھنا چاہیے۔ اسی طرح، 42 افراد کو حراست میں لینے کی خبر کو خودکار طور پر 42 باقاعدہ گرفتاریوں کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔