ڈان نے 2 نومبر کو رپورٹ کیا کہ ایک کنسورشیم پاکستان میں ایل این جی کی درآمد، اسٹوریج، دوبارہ گیس میں تبدیلی، ترسیل اور تجارتی فروخت کا مربوط منصوبہ پیش کر رہا ہے، جس کی مجموعی لاگت 4.4 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں اسے ایک تجویز بتایا گیا ہے۔ اس میں حتمی سرمایہ کاری کے فیصلے یا تعمیر شروع ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی۔
مجوزہ منصوبے میں کیا شامل ہے؟
ڈان کے مطابق پہلے مرحلے پر اندازاً 1.7 ارب ڈالر لاگت آ سکتی ہے اور اس میں ایل این جی ٹرمینل اور اسٹوریج کے چار ٹینک شامل ہوں گے۔ دوسرے مرحلے میں تقریباً 1,100 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن شامل کرنے کی تجویز ہے۔ یہ رپورٹ شدہ منصوبے ہیں، مکمل تنصیبات نہیں۔
ڈان نے کنسورشیم کے ارکان میں گلوبل وژن انرجی پارٹنرز (Global Vision Energy Partners)، خانجی ہولڈنگز (Khanjee Holdings) اور جنرل میڈیٹرینین ہولڈنگ (General Mediterranean Holding) کا نام لیا، جبکہ دیگر اسٹریٹجک سرمایہ کاروں کا بھی ذکر کیا۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ کاروباری منصوبہ مقامی گیس صارفین اور بین الاقوامی سپلائرز کو خدمات دے گا۔ رپورٹ سے ممکنہ سرمایہ کاروں کی جانب سے رقم لگانے کے وعدوں کی تصدیق نہیں ہوتی۔
کیا منصوبے کو منظوری یا مالی معاونت مل گئی ہے؟
ڈان نے رپورٹ کیا کہ منصوبے کے اسپانسرز نے اوگرا سے عبوری لائسنس کے لیے درخواست دی ہے اور انہیں مجوزہ سائٹ کے لیے پورٹ قاسم اتھارٹی کی رضامندی بھی مبینہ طور پر حاصل ہوئی ہے۔ اس جائزے میں درخواست اور سائٹ کی رضامندی کی دستاویزات دستیاب نہیں تھیں۔ اس لیے رپورٹ سے لائسنس یا منصوبے کی حتمی منظوری ثابت نہیں ہوتی۔
ڈان کے مطابق منصوبے کو امریکی تجارتی و ترقیاتی ایجنسی کے پراجیکٹ تیاری پروگرام میں غور کے لیے منظور کیا گیا۔ یہ مالی معاونت کی منظوری نہیں ہے۔ امریکی ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کی ممکنہ مالی معاونت اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی ممکنہ ضمانتیں تصدیق شدہ مالی وعدے نہیں ہیں۔ ڈان نے رپورٹ کیا کہ خبر شائع ہونے تک سرمایہ کاری کے پابند وعدوں کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
کیا پاکستان میں پہلے سے ایل این جی اسٹوریج موجود ہے؟
پورٹ قاسم اتھارٹی کی معلومات کے مطابق وہاں موجود ایل این جی ٹرمینلز فلوٹنگ اسٹوریج اور ری گیسیفیکیشن یونٹس استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بہت وسیع ہوگا کہ پاکستان میں ایل این جی اسٹوریج موجود نہیں۔ رپورٹ شدہ تجویز کے چار ٹینک موجودہ فلوٹنگ اسٹوریج کے علاوہ ہوں گے۔
کیا ٹیرف حتمی ہیں، اور کیا یہ اینرگاس کا منصوبہ ہے؟
ڈان کے مطابق مقامی ری گیسیفیکیشن کے مجوزہ ٹیرف اوگرا کی منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ دستیاب شواہد حتمی ٹیرف یا صارفین کی قیمتوں میں تبدیلی کی تصدیق نہیں کرتے۔ اوگرا کے مطابق اس کا ایل این جی شعبہ ٹرمینل کی تعمیر اور آپریشن کے لائسنس جاری کرنے کا کام کرتا ہے، تاہم اوگرا کا صفحہ اس درخواست کی تصدیق نہیں کرتا۔
یہ تجویز اینرگاس کے پہلے پورٹ قاسم ٹرمینل منصوبے سے الگ ہے۔ ڈان نے رپورٹ کیا کہ اینرگاس نے کہا تھا کہ اس نے اپنا منصوبہ چھوڑ دیا ہے، جبکہ پورٹ قاسم اتھارٹی نے اینرگاس کو اپنے حتمی لیٹر آف انٹینٹ کی غیر مشروط منظوری کے لیے 30 نومبر 2026 تک کی مہلت دی تھی۔ یہ الگ منصوبے کی مہلت نئے کنسورشیم کی تجویز کی حیثیت کی تصدیق نہیں کرتی۔