پاکستان میں مسافر کاروں کی فروخت مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 42.8 فیصد بڑھ گئی، تاہم ستمبر کے اعداد و شمار میں سالانہ اور ماہانہ دونوں بنیادوں پر کمی سامنے آئی ہے۔ پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران 41,872 مسافر کاریں فروخت ہوئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ تعداد 29,318 تھی۔

پاما کی ستمبر 2026 کی پیداوار اور فروخت کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں 10,939 کاروں کی فروخت ریکارڈ ہوئی۔ یہ ستمبر 2025 کی 12,126 کاروں سے 9.8 فیصد اور اگست 2026 کی 13,717 کاروں سے 20.3 فیصد کم ہے۔ یوں مجموعی سہ ماہی اضافے کے باوجود پاما کے مسافر کاروں کے اعداد و شمار میں آخری مہینے کی فروخت کم رہی۔

ستمبر میں کاروں کی فروخت کتنی کم ہوئی؟

ستمبر کی کارکردگی سمجھنے کے لیے دو الگ موازنے ضروری ہیں۔ اگر ستمبر 2026 کو گزشتہ سال کے اسی مہینے سے ملایا جائے تو فروخت میں تقریباً 10 فیصد کمی بنتی ہے۔ لیکن اگست 2026 سے موازنہ کیا جائے تو کمی تقریباً 20 فیصد ہے۔ دونوں شرحیں درست ہیں، البتہ ان کے مقابلے کے ادوار مختلف ہیں۔

یہ اعداد و شمار کمپنیوں کی جانب سے پاما کو رپورٹ کی گئی فروخت کے ہیں۔ ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہر خریدار کو گاڑی کس تاریخ کو ملی یا ملک میں تمام درآمد شدہ اور غیر رکن کمپنیوں کی کتنی گاڑیاں فروخت ہوئیں۔

جولائی کی مضبوط فروخت نے سہ ماہی کا نتیجہ کیسے بدلا؟

پہلی سہ ماہی کا بڑا اضافہ جولائی سے آیا۔ جولائی 2026 میں 17,216 مسافر کاریں فروخت ہوئیں، جبکہ جولائی 2025 میں 7,135 کاروں کی فروخت ریکارڈ ہوئی تھی۔ اگست میں بھی فروخت گزشتہ سال سے زیادہ رہی، اگرچہ جولائی کے مقابلے میں کم تھی۔

مہینہ2025 کی فروخت2026 کی فروختسالانہ تبدیلی
جولائی7,13517,216141.3 فیصد اضافہ
اگست10,05713,71736.4 فیصد اضافہ
ستمبر12,12610,9399.8 فیصد کمی
تین ماہ کا مجموعہ29,31841,87242.8 فیصد اضافہ

ماخذ: پاما۔ فیصد کی شرحیں رپورٹ کردہ تعداد کی بنیاد پر نکال کر ایک اعشاری مقام تک ظاہر کی گئی ہیں۔

یوں تین ماہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 12,554 زیادہ کاریں فروخت ہوئیں۔ لیکن ایک اور حقیقت بھی اہم ہے: جولائی، اگست اور ستمبر 2026 میں ہر اگلے مہینے کی فروخت پچھلے مہینے سے کم رہی۔ اس لیے سہ ماہی میں 43 فیصد اضافے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مہینے فروخت بڑھتی رہی۔

آلٹو، ٹویوٹا اور دیگر ماڈلز کی فروخت میں کیا فرق رہا؟

ستمبر کے ماڈل وار اعداد و شمار میں ایک جیسا رجحان نظر نہیں آتا:

  • ٹویوٹا کرولا، یارس اور کرولا کراس: تینوں کی مشترکہ فروخت 3,563 رہی، جبکہ ستمبر 2025 میں 2,655 تھی۔
  • سوزوکی آلٹو: 3,354 کاریں فروخت ہوئیں، گزشتہ سال اسی مہینے میں 4,718 تھیں۔
  • ہونڈا سٹی اور سوک: مشترکہ فروخت 2,021 رہی، ایک سال پہلے 1,977 تھی۔
  • سوزوکی سوئفٹ: فروخت 1,403 سے کم ہو کر 852 رہ گئی۔
  • سوزوکی کلٹس: 427 کے مقابلے میں 138 کاریں فروخت ہوئیں۔
  • ہیونڈائی ایلانٹرا: 131 کے مقابلے میں 494 گاڑیوں کی فروخت ریکارڈ ہوئی۔

ٹویوٹا کے 3,563 یونٹس تین مختلف ماڈلز کی مشترکہ تعداد ہیں، کسی ایک گاڑی کی فروخت نہیں۔ اسی طرح کسی ماڈل کی فروخت میں کمی کو صرف قیمت، دستیابی یا صارفین کی پسند کا نتیجہ قرار دینے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔

کیا پاکستان کی پوری آٹو مارکیٹ 43 فیصد بڑھی؟

نہیں۔ پاما کی رپورٹ میں 42.8 فیصد اضافہ خاص طور پر مسافر کاروں کے زمرے کا ہے۔ جیپ اور پک اپ کے الگ زمرے میں اس دوران فروخت 12,949 سے کم ہو کر 8,608 رہی، یعنی 33.5 فیصد کمی۔

مسافر کاروں اور جیپ و پک اپ کی دونوں کیٹیگریز کو جمع کیا جائے تو جولائی سے ستمبر 2026 تک مجموعی فروخت 50,480 بنتی ہے، جبکہ ایک سال پہلے 42,267 تھی۔ اس حساب سے اضافہ تقریباً 19.4 فیصد ہے۔ صرف ستمبر میں ان دونوں زمروں کا مجموعہ 15,104 رہا، جو ستمبر 2025 کے 17,174 کے مقابلے میں تقریباً 12.1 فیصد کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف خبروں میں اضافے اور کمی کی الگ شرحیں مل سکتی ہیں: ہر رپورٹ ایک ہی قسم کی گاڑیوں کو شمار نہیں کر رہی ہوتی۔

مسافر کاروں کی پیداوار بھی اس سہ ماہی میں 36,114 سے بڑھ کر 47,614 رہی، یعنی 31.8 فیصد اضافہ۔ تاہم پیداوار اور فروخت کے فرق کو براہ راست شورومز میں موجود غیر فروخت شدہ گاڑیوں یا صارفین تک پہنچنے والی ڈیلیوریز کی مصدقہ تعداد نہیں سمجھا جا سکتا۔

نئی آٹو پالیسی اور ٹیکس کے بارے میں صنعت کیا کہتی ہے؟

بزنس ریکارڈر کی 13 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاما کے ڈائریکٹر جنرل رازی الرحمٰن نے رکن کمپنیوں کی سہ ماہی فروخت میں اضافے کو مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور معاشی حالات میں بہتری سے منسلک کیا۔ انہوں نے نئی آٹو پالیسی کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمپنیاں اور خریدار سرمایہ کاری کے فیصلوں میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ یہ پاما کی تشریح ہے؛ اعداد و شمار سے کسی ایک معاشی وجہ کا اثر قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا۔

ڈان کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی تجزیہ کار ثانیہ عرفان نے ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال کو گاڑیوں کی انوائسنگ متاثر ہونے سے جوڑا۔ تاہم پاما کا ڈیٹا یہ نہیں بتاتا کہ مسافر کاروں کی ستمبر میں کمی کا کتنا حصہ اسی وجہ سے ہوا۔

نئی آٹو پالیسی کی منظوری کے حوالے سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے 7 اکتوبر کے اجلاس سے متعلق 8 اکتوبر کی رپورٹ میں مشیرِ وزیراعظم برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ کابینہ سے آئندہ دو ہفتوں میں منظوری متوقع ہے۔ متوقع وقت بتانے کا مطلب یہ نہیں کہ پالیسی منظور ہو چکی ہے۔

گاڑی خریدنے والے ان اعداد و شمار سے کیا سمجھیں؟

ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پاما کے رکن اداروں کی رپورٹ کردہ مسافر کاروں کی فروخت پہلی سہ ماہی میں گزشتہ سال سے زیادہ تھی، مگر ستمبر میں کم ہوئی۔ یہ رپورٹ ملک بھر کی ہر گاڑی کی خرید و فروخت، رجسٹریشن یا کسی خریدار کو گاڑی ملنے کی تاریخ کا مکمل ریکارڈ نہیں۔

کسی ماڈل کی فروخت بڑھنے یا گھٹنے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس کی قیمت لازماً کم ہوگی، گاڑی فوری ملنے لگے گی یا بینک فنانسنگ سستی ہو جائے گی۔ ایسے فیصلوں کے لیے کمپنیوں کی موجودہ قیمتیں، بکنگ کی شرائط اور بینکوں کی تازہ معلومات الگ سے دیکھنا ضروری ہیں۔

آئندہ مہینوں کی پاما رپورٹس سے واضح ہوگا کہ ستمبر کی کمی عارضی رہی یا آگے بھی جاری رہی۔ فی الحال دستیاب اعداد و شمار ایک ہی بات بتاتے ہیں: پہلی سہ ماہی کی مجموعی فروخت گزشتہ سال سے مضبوط رہی، لیکن ستمبر میں اس کی رفتار کم ہوگئی۔