امریکی میڈیا اداروں کے مطابق امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو جوائنٹ اسٹاف میں حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے ڈائریکٹر، یعنی جے فائیو، کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ رپورٹس میں ان کا عہدہ بتایا گیا ہے، لیکن زیرِ جائزہ عوامی بیانات میں ان کی علیحدگی کی انفرادی وجہ نہیں دی گئی۔

سرکاری بیانات میں کیا کہا گیا؟

سی بی ایس نیوز نے پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے حوالے سے بتایا کہ ایئر فورس آفس آف اسپیشل انویسٹی گیشنز کی وسیع تحقیقات کے بعد محکمہ نے حساس معلومات کے تحفظ کے لیے اہلکاروں سے متعلق کارروائی کی۔ پارنیل کے بیان میں کہا گیا کہ یہ معاملہ، دیگر معاملات کے ساتھ، ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے محکمہ انصاف کو بھیجا گیا ہے۔ سی بی ایس کے مطابق بیان میں سلویا کا نام نہیں لیا گیا۔

جوائنٹ اسٹاف کے ترجمان نے پہلے سلویا کے بارے میں بیان جاری کیا، پھر اسے واپس لیتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل صورت حال” کی درست عکاسی نہیں کرتا تھا۔ بعد میں ترجمان نے کہا کہ جاری اہلکارانہ کارروائی کے دوران مزید تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔ ان بیانات میں سلویا کے عہدے سے ہٹائے جانے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

سی بی ایس کے مطابق پینٹاگون کے ایک نام ظاہر نہ کرنے والے اہلکار نے الزام لگایا کہ سلویا نے خفیہ معلومات افشا کیں اور پولی گراف ٹیسٹوں میں ناکام ہوئے۔ دو دیگر پینٹاگون ذرائع نے سی بی ایس کو بتایا کہ یہ الزامات درست نہیں۔ زیرِ جائزہ ذرائع ان الزامات کو ثابت نہیں کرتے اور سلویا کا نام لے کر کسی عوامی فیصلے کی نشاندہی نہیں کرتے۔

سلویا کا جے فائیو عہدہ کیا تھا؟

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جے فائیو کا ڈائریکٹر اور عملہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور صدر کے ساتھ فوجی منصوبے تیار اور مربوط کرتے ہیں۔ سلویا لیفٹیننٹ جنرل اور جوائنٹ اسٹاف کے سینئر منصوبہ ساز تھے۔ ان کا جے فائیو عہدہ امریکی آرمی چیف آف اسٹاف کے عہدے سے الگ تھا۔

پاکستان کے لیے اس خبر کا کیا مطلب ہے؟

رپورٹس اس اہلکارانہ تبدیلی کو امریکا اور ایران کے وسیع تر تنازع کے تناظر میں رکھتی ہیں، لیکن زیرِ جائزہ مواد پاکستان کی سلامتی، سفارت کاری یا ایندھن کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ثابت نہیں کرتا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے 29 اکتوبر کی رپورٹ میں سفارت کاروں کے حوالے سے کہا تھا کہ اس رپورٹ کے وقت امریکا نے نئے حملوں کا حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ یہ حملوں کے بارے میں الگ رپورٹ تھی، اس بات کا ثبوت نہیں کہ سلویا کی برطرفی نے اس فیصلے کو بدلا۔